مخالفین کی فائرنگ سے بھائی قتل، 5سال گزر گئے، مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہو سکا، مدعی

مخالفین کی فائرنگ سے بھائی قتل، 5سال گزر گئے، مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہو سکا، مدعی

لاہور(کامران مغل )گاؤں کے اندرداخل ہوتے ہی دن دیہاڑے میرے بھائی کو دیرینہ دشمنی کی بناء پر پہلے سے گھات لگائے 6 افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا ،خون میں لت پت میرے بھائی نے تڑپ تڑپ کر میرے ہاتھوں میں دم توڑ ا جبکہ ملزمان للکارے مارتے رہے ۔مقدمہ کا ٹرائل گزشتہ 5سال سے جاری ہے ، کیس کی سماعت پر سماعت ہوتی چلی جارہی ہیں ،صبح پیشی کے لئے نکلوتو شام عدالتوں میں ہی ہوجاتی ہے۔کبھی سوچا نہیں تھاکہ انصاف کاحصول اس قدر مشکل ہوگا اور اتنے لمبے عرصہ تک عدالتوں کے دھکے کھانا پڑیں گے ۔روزنامہ پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران باٹاپور کے گاؤں بھسین کے رہائشی شفاقت بٹ نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کے بارے میں بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی محمد عارف بٹ اپنے گاؤں جارہے تھے کہ اسی اثناء میں پہلے سے راستے میں گھا ت لگائے ملزمان جاوید عرف ججی ،جمیل عرف بابا ،صابر ،محمود عرف موٹا وغیرہ 6 افراد نے پرانی دشمنی کی بناء پر ہمیں روک لیا اورمیر ے بھائی عارف بٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ متاثرہ شخص نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے محمد منیر میو، عبدالسلام ،سہیل اور خالد کی ایماء پر مبینہ طور پر اس کے بھائی کو قتل کروایا ہے۔ کیس مختلف ججز کی عدالت میں زیرسماعت رہا،اب اس کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج نسیم احمد ورک کی عدالت میں ہورہا ہے اور اب بھی سماعتوں پر سماعتیں ہی جاری ہیں لیکن مقدمہ کا ٹرائل ہے کہ ختم نہیں ہورہا ہے ،میرے بھائی کے قاتل آج بھی سرعام گھومتے پھر رہے ہیں۔ بھائی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہچانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ،ملزمان کو ان کے کئے کی سزا دلوا نا ہی اب زندگی کا مقصد ہے ۔مقدمہ مدعی کے وکلا کا کہنا تھا کہ مقدمہ آخری مراحل میں ہے لیکن یہ کافی عرصہ سے سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے اوراس مقدمہ کو طول دینے میں مخالف فریقین کا بھی کردار رہاہے کیونکہ وہ تاریخ پیشی پر کبھی تو پیش نہیں ہوتے تھے اور کبھی بہانہ بنا کر اگلی تاریخ حاصل کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے مقدمہ التواء کا شکار ہے ۔

مزید : صفحہ آخر