وہ ملک جہاں مادہ بن مانسوں کو طوائفیں بنا کر بازار میں بٹھادیاگیا اور منہ مانگے دام لے کر شرمناک کام کی اجازت دیدی

وہ ملک جہاں مادہ بن مانسوں کو طوائفیں بنا کر بازار میں بٹھادیاگیا اور منہ ...
وہ ملک جہاں مادہ بن مانسوں کو طوائفیں بنا کر بازار میں بٹھادیاگیا اور منہ مانگے دام لے کر شرمناک کام کی اجازت دیدی

  

جکارتہ (نیوز ڈیسک) جانوروں پر مظالم اور ان کے ساتھ بدسلوکی عام پایا جانے والا مسئلہ ہے مگر انڈونیشیا میں دیہاتیوں نے مادہ بن مانسوں پر ایسا شرمناک ظلم شروع کردیا  کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ جزائر بورنیو کے جنگلات کے قریب واقع دیہاتوں میں لوگ اورگنا اوتان نامی بن مانسوں کی ماداﺅں کو پکڑ کر دیہات میں لے آتے ہیں اور پھر ان سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتے ہیں۔ یہ لوگ ان مادہ جانوروں کے جسم سے بالوں کی صفائی کردیتے ہیں۔یہ خبر پہلی مرتبہ رواں سال جنوری میں سامنے آئی تھی ۔ 

انہیں خواتین جیسا لباس پہناتے ہیں اور ان کا میک اپ بھی کرتے ہیں۔ ان کو زنجیروں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور بدکردار لوگوں سے رقم لے کر انہیں ان جانوروں کے ساتھ جنسی فعل کی اجازت دی جاتی ہے اور اس کے عوض بھاری رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہاں یہ کام کئی دہائیوں سے جارئی ہیں اور مقامی لوگوں کے علاوہ کئی سیاح بھی اس نفرت انگیز جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان مظلوم جانوروں کی رہائی بھی کوئی آسان کام نہیں کیونکہ جنگلی دیہاتیوں نے اس کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے اور ان کی مدد کیلئے آنے والوں پر حملے کرتے ہیں۔ جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے انڈونیشیا کے وزارت ماحولیات سے فوری کارروائی کرکے جانوروں کو رہا کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس