’میں چین کے ساتھ مل کر یہ کام کرنے جارہا ہوں۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے تاریخی اعلان کردیا، امریکہ اور یورپ کے ہوش اُڑادئیے

’میں چین کے ساتھ مل کر یہ کام کرنے جارہا ہوں۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے ...
’میں چین کے ساتھ مل کر یہ کام کرنے جارہا ہوں۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے تاریخی اعلان کردیا، امریکہ اور یورپ کے ہوش اُڑادئیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انقرہ (نیوز ڈیسک) یورپ ایک عرصے سے اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ یورپی رکنیت کا لالچ دے کر ترکی سے کوئی بھی بات منوائی جاسکتی ہے لیکن ترک صدر رجب طیب اردگان نے بالآخر وہ بات کہہ دی ہے کہ یورپ کے ساتھ امریکہ بھی ہل کر رہ گیا ہے۔
ویب سائٹ فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ترکی یورپی یونین میں شمولیت کی بجائے شنگھائی تعاون تنظیم کا حصہ مل کر چین اور روس کے ساتھ بھی مل سکتا ہے۔ اگرچہ ترکی میں یہ رائے پہلے بھی پائی جاتی تھی البتہ وسط جولائی میں ناکام بغاوت کی کوشش نے اس نظریے کو مزید مضبوط کیا، کیونکہ اس بغاوت کے تانے بانے مغربی ممالک سے ملتے نظر آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے خواہاں،اوباما جب بھی آنا چاہیں ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں :میر ولادی پیوٹن
اخبار حریت کے مطابق ترک صدر نے ازبکستان سے واپسی کے سفر کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ترکی کو یورپی یونین میں شمولیت کو اپنے سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے اور اس معاملے کو پرسکون انداز میں دیکھنا چاہیے۔ کچھ لوگ مجھ پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر میں کہتا ہوں کہ ترکی کو شنگھائی فائیو کا حصہ کیوں نہیں بننا چاہیے؟“
واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم روس اور چین کی قیادت میں قائم کیا گیا سکیورٹی و اقتصادی اتحاد ہے۔ اس کے دیگر ارکان میں قازقستان، کرغستان اور تاجکستان شامل ہیں۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں پہلے ہی روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف کے ساتھ بات کرچکے ہیں۔
ترک حکام کئی دہائیوں سے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں، لیکن رجب طیب اردگان وہ پہلے رہنما ہیں جنہوں نے یورپ کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کر دیا ہے کہ ترکی اس کا محتاج نہیں اور اسے رد کرتے ہوئے چین کی جانب جا سکتا ہے۔