جنازوں کا فرق

جنازوں کا فرق

  

بابا جی اگر آٹھ روز قبل وفات پا جاتے تو اتنا بڑاجنازہ ہوتا کہ روڈ بلاک ہو جاتے ٹریفک رک جاتی بازار گاڑیوں سے بھر جاتے مگر قدرت کو کیا منظور تھا کہ ان کا بیوروکریٹ بیٹا جو کہ ایک ہفتہ قبل ڈی سی او لاہور تھا او ایس ڈی بنا دیا گیا اور بابا جی کے جنازے میں بمشکل تین صفیں مکمل ہو سکیں جبکہ آٹھ روز قبل بابا جی کی موت میڈیا کے لیے ڈی سی او لاہور کے والد کی حیثیت سے بر یکنگ نیوز کے طو ر پر نشر ہوتی اور جنازے کی لائیو کو ریج کے لیے لا ہور کا سارا میڈیا امڈ آتا یہ مکالمہ دو نوجوان بیوروکریٹس کے درمیان ہو رہا تھا وہ اس بات کا اظہار اتنی بیزاری سے کر رہے تھے کہ ان کے چہروں پر خفگی اور تفکر کے آثار نمایاں تھے لوگوں سے گلہ یہ تھا کہ ہمارا معاشرہ صرف عہدوں، ظاہری شان و شوکت اور روپے پیسے کا اسیر ہو گیا ہے انسانیت کے تقاضے اور اخلاقی قدریں ناپید ہو چکی ہیں اور لو گ صرف باس کو منہ دکھانے کے لیے جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔میں ان کی گفتگو میں دھکے سے حائل ہو گیا عر ض کیا اگر ناگوار نہ گزرے تو کچھ عرض کر دوں دونوں نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے کہا حضور! آپ لوگوں کو اس طرح کے پُر ملال موقع پر بھی پروٹو کول کی فکر پڑی رہتی ہے ادھر والد یا اپنے کسی پیارے کا جنازہ پڑ ا ہوتا ہے اور ادھر باس کی خوشامدکی پڑی ہوتی ہے میرا یہ فقرہ ان پر قہر بن کر ٹوٹا اور ان پر مکمل سکوت طاری ہو گیا چند لمحات کے بعد سکوت توڑا اور بولے آپ نے تلخ حقیقت کی نشاندھی کر کے ہمارے ضمیر پر کاری ضرب لگائی ہے مگر یہ رویہ بھی تو ہماری شخصیت میں اوپر سے ہی حلول ہوتا ہے جو ہم اپنے سینئر زمیں دیکھتے ہیں میں نے کہا جی نہیں، انسانیت کی قدرو قیمت کے ضابطے سب کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ہم لوگوں نے معاشرے میں اپنی اہمیت اور حیثیت کے مطابق ان ضابطوں کو اپنا لیا ہے اگر ہم اپنے آپ کو درست کر لیں تو ہمیں لوگوں کے مایوس کنُ روًیے پر نوحہ کناں نہ ہونا پڑے جن پر اُنہوں نے پشیمانی کا اظہار کیا اور با ت ختم ہو گئی۔

یہ داستان ایک جنازے کی ہے گذشتہ دنوں قاری حافظ ذکاالرحّمن اخترانتقال فرما گئے۔ قاری صاحب نے راقم کے بڑے بیٹے اور چھوٹی ہمشیرہ کوحفظِ قرآن کا تحفہ دیا تھا ۔قاری کا تعلق نارووال کی تحصیل شکر گڑ ھ سے تھا ۔وہ قرآن کے قدردان مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے اُن کے تین بھائی دو بھاوج اور ایک بہن حافظِ قرآن ہیں وہ خود قاری، حافظ، فاضل درس نظامی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ اے اسلامیات کی سند امتیاز رکھتے تھے اس صوفی با صفا اور درویش نے واہگہ کے قریب یا د گارشہدا کے مقام پر افواج پاکستان کے مجاہدوں کے مددگاروں کے درمیان رہ کر ان کی نسلوں کو قرآنی تعلیمات کے زیور سے آراستہ کرنے کا فریضہ ادا کر نے کی ٹھانی او راڑھائی عشرے قبل وہاں پر ایک دینی مدرسے کی بنیاد رکھّی۔ بے شمار بچوں اوربچیوں کو حافظ قرآن بنایا۔ اُنہیں بچوں کی تربیت کا خاص ملکہ حاصل تھا وہ بڑے فخر سے کہتے تھے کہ مجا ہد وں کے مدد گار وں کے درمیان رہ کر اُن کی نسلوں کی خد مت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہوں ان لوگوں نے دو جنگوں میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہ کر اس ملک کی بقاکے لیے رضا کارانہ طور پر جانی اور ما لی تعاون پیش کیا یہ لو گ محبت کرنے کے قابل ہیں۔ اس عا شق رسول نے ہمیشہ ان کوگوں کو اپنے دل میں جگہ دی اُنہوں نے اپناسالانہ جلسہ تقسیمِ اسناد و دستار فضیلت بھی اسی مناسبت سے 6 ستمبر کے روز رکھا ہوتا تھا۔ راقم کو بھی اس عالمِ باعمل کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی لوگ جناز ہ پڑھنے اس لیے جاتے ہیں کہ ہمارے مرنے والے مسلمان بھائی کی بخشش ہو جائے مگر یہ جنازہ لوگ اس نیت سے پڑھنے آئے تھے کہ جنازہ پڑھنے سے اللہ ہماری بخشش فرماوے گا۔صاحبِ اقتدار و صاحبِ اختیارلوگوں کے عزیز و اقرباء کا جنازہ لوگ اس نیت سے پڑھنے جاتے ہیں کہ باس کو منہ دکھا آئیں تاکہ حاضری لگ جائے اور باس خوش ہو جائے یہ مردِ قلندر کا جنازہ تھا کہ لوگ زیارت کی غرض سے دیوانہ وار اُمڈ آئے اور لائنوں میں لگ کر آخری دیدار کرتے رہے اور آسمانوں سے ہلکی ہلکی بارانِ رحمت برستی رہی۔

یہ علاقہ نہ تو قاری صاحب کا آبائی علاقہ تھا نہ ادھرُ ان کی برادری اور رشتہ داری تھی مگر جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ اس درویش نے خلوص نیت سے دین کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا ہے اور یہ اس کا انعام اور صلہ تھا کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں اپنے اس مقرب بندے کی محبت ڈال دی۔ میری زندگی کا اس لحاظ سے یہ انتہائی منفرد جنازہ تھا جس میں قابلِ رشک حد تک کثیر تعداد میں با عمل حفاظ کرام شریک تھے اور اپنے استادِ محترم کی بخشش کے لیے اپنے اللہ کے حضور اشک بار آنکھوں کے ساتھ دعا گو تھے۔راقم نے حفاظ بچیوں کو بھی روتے ہوئے دیکھا۔ جیسے بیٹیاں ایک شفیق باپ کے بچھڑنے پر روتی ہیں۔بچے اور بچیاں کیوں نہ روتے وہ اُن کے بیٹے اور بیٹیاں ہی توتھے کیونکہ قدرت نے اس حفاظ جوڑے کو اولاد کی عظیم نعمت سے محروم رکھا وہ ان بچوں کو ہی اپنے بچے سمجھتے تھے اور اکثر یہ جملہ کہا کرتے! دیکھو یہ بچے قوم کے ہوتے ہیں جب ہم قبرمیں چین کی نیند سو رہے ہو نگے تو اس وقت یہ بچے قوم کو ڈیلور کر رہے ہونگے قاری صاحب ہمیشہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے کہ ایک ماں بچپن سے اپنی بیٹی کو نہلاتی اور اچھے کپڑے پہناتی ہے مگر جب وہ ماں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو بیٹی کو اسے غسل دے کر کفن پہنانے کا طریقہ نہیں آتا۔ والد بچوں کو پی ایچ ڈی تک پڑھاتے ہیں مگر بچے اپنے والد کا جنازہ نہیں پڑھا سکتے بلکہ پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا بھی نہیں آتا وہ راقم کا بہت اکرام کرتے اور فخر سے کہتے آپ نے اپنے والد کا جنازہ خود پڑھا کر اور اُن کے لیے دُ عا کر واکر میرا دل جیت لیا ہے۔ شریف النفس با حیاء، نرم خو اور منکسر المزاج طبیعت کے مالک قاری صاحب ہمیشہ محتاط گفتگو فرماتے فرقہ بندی اور ذات پات سے ہمیشہ کنارہ کش رہتے اخوّت، امن اور بھائی چارے کا درس دیتے احترامِ انسانیت اُن کا پسندیدہ موضوع رہتا ۔

فرماتے ہماری پیشانیوں کو اگر سجدے کی لذّت میسر آجائے تو ہمارے دلوں میں خود بخود انسانیت کی محبت آ جائے ۔نصیحت آموز گفتگو فرماتے وقت مخاطب کو اپنی روایتی مسکراہٹ سے گھائل کر دیتے۔ آخری وقت تک قرآن اور اسلام کی سر بلندی کے لیے خود کو وقف کیے رکھا ۔ قاری صاحب کے پاس دُ نیا کا کوئی عہدہ نہیں تھا مگر اُن کے پاس پیغمبرانہ میراث کی مسند کا عہدہ تھا جو سب عہدوں سے بڑا ہے۔ قاری صاحب کم و بیش چھ ماہ صاحبِ فراش رہے۔ ملک کی مستند لیبارٹریوں سے میڈیکل ٹیسٹ ہونے کے باوجود مرض کی تشخیص نہ ہو سکی، یہ مرض الموت ہی تھی جس نے قاری صا حب کو قبر میں ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا۔اُنہوں نے آخری وصیت کی تھی کہ مجھے اپنے آبائی گاؤں نارووال کی بجائے اِدھر یاد گارِ شہدا کے قبرستان میں دفن کرناتا کہ میرے حافظِ قرآن شاگرد میری قبر پر آ کر میرے لیے بخشش کی دعا کرتے رہیں۔ قاری ذکاالرحمن اختر اللہ آپکی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے جس طرح آپ نے ہماری نسلوں کو قرآنی تعلیمات کے زیور سے آراستہ کیا اللہ آپکے مرقد مبارک کو جنت کے زیور سے آراستہ کر دے۔ آمین!

مزید :

کالم -