شنگھائی تعاون تنظیم اور ایشیا میں نئی صف بندی

شنگھائی تعاون تنظیم اور ایشیا میں نئی صف بندی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اب ان کا ملک یورپی یونین میں شمولیت کا زیادہ خواہش مند نہیں۔ انہوں نے چین اور روس کی قیادت میں قائم وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل شنگھائی بلاک میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر اردوان نے پاکستان اور ترکمانستان کے دوروں سے واپسی کے دوران صدارتی جہاز میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں شمولیت کا اشارہ دے دیا ہے۔ اگلے مہینوں میں اس سلسلے میں مثبت سگنل آئے تو ان کا ملک شنگھائی گروپ میں شامل ہو سکتا ہے۔ترکی نیٹو کارکن ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے یورپی یونین کی رکنیت کا امیدوار ہے۔ ترکی کا ایک حصہ یورپ میں واقع ہے اس لحاظ سے اس کا حق تو فائق ہے لیکن یورپی یونین کی اسٹیبلشمنٹ کبھی ایک اور کبھی دوسرے بہانے سے ترکی کو رکن بنانے سے گریزاں ہے، کبھی ترکی میں سزائے موت کے قانون پر اعتراض کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے قوانین پر ۔ پھر ایسا ہے کہ اگر ترکی ایک شرط پوری کرتا ہے تو دوسری عائد کر دی جاتی ہے اور یوں یورپی یونین کے دروازے ترکی پر بند چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ترک قیادت کے تحمل اور بُردباری کی داد دینی چاہیے کہ اس نے امید اور حوصلے کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ترک قیادت کی سوچ میں جو تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے صدر رجب طیب اردوان کے خیالات اس کا تازہ ترین مظہر ہیں۔


ایسے محسوس ہوتا ہے کہ صدر اردوان 15جولائی کو ترکی میں کی جانے والی ناکام فوجی بغاوت میں امریکہ اور یورپی ملکوں کے کردار سے مایوس ہوئے کیونکہ امریکہ پر تو کھل کر الزام لگایا کہ ناکام باغیوں کو اس کی حمایت حاصل تھی جہاں تک یورپی ملکوں کا تعلق ہے وہ بھی غالباً یہی چاہتے تھے کہ اگر اس ہلے میں طیب کے اقتدار کا پتہ صاف ہوتا ہے تو ہو جائے۔ دراصل یورپی یونین کی طرف سے جو بات واضح طور پر نہیں کہی جاتی۔ وہ یہ ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کا رکن اس لئے نہیں بنایاجا رہا کہ وہ مسلمان ہے اور صدر اردوان نے اپنے عہدِ اقتدار میں ترکی کے اندر جو اصلاحات کی ہیں ان کی وجہ سے حکومت کے ایوانوں میں اسلامی شعائر پر برملا عمل کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں سرکاری دفاتر میں عشروں سے جو پابندیاں چلی آ رہی تھیں وہ یا تو پوری طرح ختم کر دی گئی ہیں یا تدریجاً کی جا رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا سرکاری دفاتر میں حجاب کی پابندی خلافِ قانون تھی لیکن ترکی کی خاتونِ اول ایوان صدر کے اندر اور باہر حجاب پہنتی ہیں دوسری خواتین میں بھی اس پر عمل کا رجحان نظرآتا ہے۔ حال ہی میں فوج میں داڑھی رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے اس طرح کے مظاہر جگہ جگہ نظر آتے ہیں تو یورپی ملک ترکی میں اسلام پسندی کے رجحان سے بدکتے ہیں اور پھر یونین میں داخلے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی شرط عائدکر دیتے ہیں۔


ترکی نیٹو کا واحد مسلمان رکن ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ اور نیٹو کو فوجی بغاوت میں صدر اردوان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے تھا لیکن ان سب ملکوں سے انہیں شکایت ہی رہی۔ صدر اردوان نے کھل کر کہا کہ ترک سکالر فتح اللہ گولن نے ناکام فوجی بغاوت میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی تنظیم کے باغی فوجیوں اور عدلیہ کے اعلیٰ ارکان سے رابطے تھے اور دونوں اداروں کے ارکان کا باہمی گٹھ جوڑ بھی نظر آیا، اس لئے صدر اردوان نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ گولن کو جو امریکہ میں مستقل قیام رکھتے ہیں ترکی کے حوالے کیا جائے، شروع شروع میں امریکہ ’’ثبوت‘‘ طلب کرتا رہا۔ پھر کہا کہ اس مقصد کے لئے تحریری طور پر رابطہ کیا جائے اب غالباً یہ شرائط پوری کر دی گئی ہیں لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اس ضمن میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔ ترک صدر تو اس حد تک اپنے موقف کی صداقت کے قائل ہیں کہ انہوں نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران کھل کر کہا کہ گولن کی تنظیم پاکستان کے لئے بھی خطرہ ہے۔ حکومت پاکستان نے اسی لئے اس تنظیم کے اہتمام میں چلنے والے سکولوں کے ترک اساتذہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت میں امریکہ اور یورپی یونین کے کردار کے باعث صدر اردوان امریکہ اور یورپی بلاک سے مایوس ہو گئے ہیں اس لئے وہ روس اور روسی بلاک کے قریب آ گئے ہیں اور آئندہ برسوں میں مزید آ جائیں گے۔
روس کے ساتھ صدر اردوان کی قربت کی فوری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ صدر پیوٹن نے انہیں براہ راست فوجی بغاوت کے امکانات سے خبردار کر دیا تھا اور وہ دنیا کے پہلے لیڈر تھے جنہوں نے صدر اردوان کو یہ خبر دی تھی، جنہوں نے اسے روسی صدر کی خیرخواہی پر محمول کیا اور ترکی میں فوجی بغاوت پر قابو پاتے ہی صدر اردوان پہلے غیر ملکی دورے پر ماسکو گئے جواب میں صدر پیوٹن نے بھی خصوصی خیرسگالی کا مظاہرہ کیا اور ترکی پر وہ پابندیاں ختم کر دیں جو روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ترکی پر عائد کر دی گئی تھیں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی رفع ہو گئیں۔یوں ترکی اور روس ایک دوسرے کے قریب تر آ رہے ہیں۔ یورپی یونین کے تاخیری حربوں کے باعث صدر اردوان اب یورپی یونین کی رکنیت کے معاملے کو نظر انداز کرکے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لئے کوشاں ہیں اور اسے مضبوط بلاک کی شکل دینے کے لئے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں، جس خطے میں ترکی اور پاکستان واقع ہیں وہاں نئی صف بندیاں ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ایشیائی ممالک ایک مضبوط بلاک کی صورت میں ابھر کر سامنے آئیں گے اور اس میں روس اور چین کے ساتھ ساتھ ترکی جیسے ملکوں اور اس کے دوستوں کا کردار بھی اہم ہوگا۔ وسط ایشیائی ملکوں کے ساتھ پاکستان بھی اپنے روابط بہتر انداز میں استوار کر رہا ہے اس لئے امید ہے کہ خوشحالی کا نیا سورج نئی آب و تاب کے ساتھ انہی علاقوں سے طلوع ہوگا جس میں پاکستان کا بھی قائدانہ کردار ہوگا جس کی شروعات ہو چکی ہیں۔

مزید :

اداریہ -