داعش کا مستقبل؟

داعش کا مستقبل؟
داعش کا مستقبل؟

  

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں داعش کا مستقبل کیسا ہوگا؟ بدقسمتی سے عرب ممالک کی آنکھ اس وقت کھلی جب داعش خطے میں قدم جما چکی تھی۔ ا ب ایک طویل عرصے تک بیشتر عرب ممالک کودفاعی حکمت عملی کے لئے پاکستان پر انحصار کرنا پڑے گا۔ بڑی بھیانک آگ ابھر رہی ہے عرب ممالک میں؟۔ پر امن خطے نہ صرف بدامنی کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں بستے غیر ملکی ہنرمندوں اور مزدوروں کو بھی اپنے دیسوں کو واپس لوٹنا پڑے گا۔ عوام کو حقوق عطا کرنے سے انکار اور بادشاہت پر اصرار کی وجہ سے ریاست مخالف ناراض گروہ بڑی سرعت سے داعش کے کیمپ کو جوائن کر چکے ہیں۔

داعش پاکستان سے بے خبر نہیں ۔ تاہم اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دن بدن بیدار ہوتا عوامی شعور ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر عام ہو چلا تھا یہاں حالات نہیں بدل سکتے ۔ ایسی اپروچ میں غریب، پسا طبقہ یا جرم کی طرف نکل جاتا ہے یا مذہب کے ذریعے نظام بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کے لئے دونوں صورتیں مشکل ہیں۔ پاکستانی قوم اور خاص طور پر پسے طبقات کی غالب اکثریت تبدیلی بذریعہ پارلیمنٹ پر یقین رکھتی ہے اور یہ امید ہی درحقیقت داعش جیسی جماعتوں کے لئے ناکامی کا پیغام ہے۔یہ امر بڑی خوشخبری کی مانند ہے قوم نے نہ صرف القاعدہ ، طالبان کے نظریات کو مسترد کیا بلکہ داعش کے نظام خلافت پر بھی کراس لگا دیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کے حوصلے اس لئے بھی جوان ہوئے کہ ذرائع ابلاغ کی بڑی تعداد نے انہیں کئی سال تک ہیرو کے روپ میں پیش کیا۔نتیجے کے طور پر داعش کی مانند، پاکستانی دہشت گرد بھی خود کو حقیقتا نجات دہندہ سمجھنے لگے ۔جبکہ پاکستان کی خاطر شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کا مورال ڈاؤن ہوا۔پاکستانی میڈیا کو آج خیال رکھنا چاہئے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ افراتفری کے اس عالم میں پاکستان مخالف ہر گروپ ،خواہ وزیرستان میں موجود ہو یا بلوچستان میں چھپا،حالات مزید خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ کئی برسوں سے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی دہائی دے کر عام پاکستانیوں کو مس گائیڈ کر رہا تھا۔ پہلے آج یہ تصفیہ تو کر لیں یہ لاپتہ افراد ہیں کون؟۔ لاپتہ افراد کی اکثریت ان علیحدگی پسندوں پر مشتمل ہے جو اپنے نفرت انگیز خیالات کی بنا پر بے گناہ ہموطنوں کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ شرم آنی چاہئے ان اینکر ز کو جو ایسے افراد کو کئی سال سے مظلوم، حقوق کے متلاشی اور ہیرو ز کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔کبھی ایک بوڑھی عورت نکال کر لے آتے ہیں جو قسمیں واسطے دے دے کر اپنے’’ بم دھماکوں‘‘ میں ملوث لاپتہ بیٹے کی بے گناہی کی دہائی دیتی ہے۔ کبھی ایک ایسے بوڑھے کی رقت آمیز داستان بیان کی جاتی ہے جو اپنے قاتل بیٹے کی جدائی میں بینائی سے محروم ہو چکا ہے۔ کوئی بے گناہ لاہور، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ،ملتان، فیصل آباد سے لاپتہ کیوں نہیں ہوتا؟۔ لاپتہ وہی ہوتا ہے جو دماغی خناس ،علیحدہ وطن کی تشکیل اور مالی فائدے کی خاطر بیرونی قوتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ریاستی ستون کی ان پہاڑوں، وادیوں میں چھپے دہشت گردوں نے جنہیں پاکستانی میڈیا مظلومیت کے لبادے میں کروڑوں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے الیکٹرانک میڈیاکا ایک حصہ پاکستانی عوام کی نظروں میں اپنا وقار گرا چکا ہے۔ایک نہیں دو نہیں بلکہ درجنوں ایسے پروگرام ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے میزبان یا تو دہشت گردوں کے حق میں بول رہا ہے یا دشمن ممالک کی ریشہ دوانیوں سے چشم پوشی کی جا رہی ہے۔پاکستان کے مسقبل کو تاریکی کا لبادہ اوڑھانے کے بعد میزبان پروگرام ختم کرتے ہوئے وہی دھوکہ دہی پر مبنی فقرہ دہراتے ہیں’’ جی ہمیں سچ بولنا ہوگا‘‘۔ لعنت ایسے خود ساختہ سچ پر جو پاکستانی عوام کو مایوسیوں میں دھکیلے اور جس کا فائدہ پاکستان کے دشمن اٹھائیں۔

کیا اسے لاعلمی کہیں گے ٹی وی اینکرز دھماکوں، خون آلود چہروں اور کنکریوں کی مانند بکھرے انسانی اعضاؤں کے باوجود یہ بھانپ نہیں پا رہے پاکستان کے دشمن مظلومیت کے نئے پروپیگنڈے سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بڑھانا مجبوری بن جائے گا، دہشت گردوں کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دینا قابل غور ہے۔ ان حملوں کی صورت بنیاد پرستوں نے پاکستانی ریاست کو کھلے الفاظ میں پیغام پہنچا دیا ہے وہ کسی صورت صلح صفائی اور امن کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ طالبان جیسی تمام شدت پسند تنظیموں نے اپنی بقا کے تقریبا تمام مواقع کھو دیے ہیں۔ اب ایک طرف ریاست ہے دوسری طرف شر انگیزی پر تلے عناصر۔ ایک طرف اٹھارہ کروڑ پاکستانی ہیں دوسری طرف چند ہزار جنونیوں پر مشتمل ٹولہ۔ اس جنونی ٹولے سے کس طرح نمٹا جائے گا؟۔ یہ وہ سوال ہے جس کا متفقہ جواب ڈھونڈنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ کسی ایک نتیجے پر اس لئے بھی نہیں پہنچا جا سکا کہ پاکستانی میڈیا کے چند ہائی ریٹنگ فگرز مسلسل عوام کو دھوکہ دے رہے تھے۔ یہ دانشوروں کا وہ ٹولہ تھا جو کبھی شدت پسندوں کے حق میں ہو جاتا ہے اور کبھی ان پر تنقید کے ڈونگرے برسانے لگتا تھا۔ کیا کروڑوں لوگوں نے دیکھا نہیں جب شدت پسندوں نے ان دانشوروں کو مذاکراتی ٹیم میں شمولیت کی دعوت دی، جو دس سالوں سے قبائلیوں کی مظلومیت کی داستانیں سنا سنا کر پنچابی اسٹیبلشمنٹ کو ذلیل کرتے تھے، انہوں نے بھاگنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا۔ اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا مذہب یا علیحدہ وطن کی آڑ میں رینگتے نفرت کے اژدھے کو عام آبادیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی یا دلیری سے کام لیتے ہوئے سر کچلا جائے گا۔ بے گناہوں کا خون چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے مسلکی غرور کا جلاد لاشوں کے انبار لگا رہا ہے۔ کٹی پھٹی میتیں خاموشی کی زباں میں نوحہ کناں ہیں ان کی قربانیوں کا حساب کون لے گا؟۔ عام پاکستانی سوال کر رہے ہیں آخر کب تلک انہیں چن چن کر موت کی بدصورتیوں کی جانب دھکیلا جاتا رہے گا؟۔پاکستان بڑے دشوار گذار راستے سے گذر رہا ہے۔ درجنوں ایسے گروپ ہیں جو مسلکی پراکسی وار میں فنڈنگ کرنے والے ملکوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان شرپسند گروپوں کے پاس ٹھیک ٹھاک وسائل ہیں۔ کون نہیں جانتا قیمتی گاڑیاں، آتشگیر ہتھیار اور محافظوں کی فوج ظفر موج کی تنخواہیں کہاں سے ادا کی جا رہی ہیں؟۔ پاکستان کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے ان گروپوں کو دین کی ’’ترویج‘‘ کے نام پر قائم کیا گیا۔ لیکن آج ترویج کا جذبہ برتری کی جنگ میں بدل چکا ہے۔ ان گروپوں نے پاکستانی قوم کا ایسابیڑہ غرق کردیا کہ خود تو ان کے سرپرست کھجور،مکھن کا ناشتہ کرتے ہیں، لیکن یہاں قابل نفرت بحثوں کے ذریعے عام پاکستانی ایک دوسرے کو نظریاتی فتح کرنے کے چکروں میں الجھ چکے ہیں۔ کیا خودکش حملہ آور پورے اعتقاد سے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو منافق قرار دیتے ہوئے جسموں کے پرخچے نہیں اڑا رہا؟۔ یہ خودکش بمبار معصوم شہریوں پر ہی نہیں بلکہ ریاستی اساس پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے انہیں روکنے اور بیخ کنی کے لئے کون آگے بڑھے گا؟۔ کیا ریاست میں اتنا حوصلہ ہے غیر ملکی پے رول پر کام کرتے چند میڈیا ٹائیکونز کی پرواہ کئے بغیر دین کی آڑ میں نفرت پھیلانے والوں کو دوبارہ مفید شہری بنا سکے؟۔ کیا پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعدا د میں منعقد ہونے والی تربیتی نشستوں میں پھیلائی جانے والی نفرت اور برین واشنگ پر کریک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے؟۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر محض آپریشن کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ آپریشن بھی ایک محدود مدت تک ہی چلے گا، کچھ تعطل کے بعد خود کش حملے دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔ خون میں لتھڑے لوگ اسی طرح آہ وبکار کرتے رہیں گے۔ حتی کہ ایک وقت ایسا آن پہنچے گا جب دوبارہ ہر طرف خوف کا راج ہوگا۔ نفرت پھیلانے والے گروپوں پر بنیادی پابندیوں کے بغیر ہر طرح کے نتائج وقتی تصور کئے جانے چاہئیں۔ اگر ہم ہر طرح کی دہشت گردی حقیقتا ختم کرنا چاہتے ہیں تو بڑے اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ بڑے اقدامات کیا ہیں؟۔ تمام قسم کی مذہبی سرگرمیوں کو چار دیواری تک محدود کرنا۔ آج بھی اعلانیہ ایک دوسرے کو کافر کہا جا رہا ہے۔ آج بھی دو چار مرلے جگہ لے کر مسجد یا مدرسے کے نام پر چندے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ ذرا سروے کرکے دیکھئے، یہ مقدس ادارے بیس بیس ، تیس تیس سال تک زیر تعمیر ہی کیوں رہتے ہیں؟۔پیسہ مسلسل آتارہتا ہے۔ کوئی ہڑپ کر جاتا ہے کوئی مسلح جتھوں کی تشکیل میں مصروف عمل ہو جاتا ہے۔ یہ جتھے فی الوقت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ خاموشی بھی آخر کب تلک؟۔

مزید :

کالم -