مریم نواز کی گواہی ترک صدر کی زبانی

مریم نواز کی گواہی ترک صدر کی زبانی
 مریم نواز کی گواہی ترک صدر کی زبانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاک وہند میں میراور غالب کی شاعری کسی روشن ضمیر نغمہ زن کی زبان سے سنیے تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری روح مسلسل مصفیٰ و مجلیٰ ہوتی جاتی ہو۔بلادِ عرب ،عراق و ایران اور ترک و مراکش میں عربی و فارسی صوفی نغمے تو بلا کے قتیل ہیں۔صوفی،مشرقی یامغربی کوئی مغنی جب حال و دھمال کی پُر کیف لَے میں سُر چھیڑا کئے تو واللہ واللہ باذوق لوگ حسن بن صباح کی بہشتِ بریں میں اپنے آپ کو پانے لگتے ہیں۔ طیب اردوان عثمانی ترک سر زمین کے امیں ہیں جو کوئی پانچ صدیوں تک دنیا کے سیاہ و سفید پر اختیار رکھتے رہے۔ طیب اردوان کا دکھ،مشاہدہ ،تجربہ ،دوربینی اور معاملہ فہمی کمال گہری ٹھہری۔آمریت سے جمہوریت کی جانب مراجعت، صوفیوں کی اندرونی داخلی سیاست اور مغرب کے تیار کردہ تارو پود کتنے راز ہیں جو ان کے سینے میں ہلچل مچائے دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے ترک سرزمین صدیوں سے صوفی انسانی ہیولوں میں اصحابِ تدبیرو ترکیب کو دیکھتی آئی ہے ،بارہا جنہوں نے اپنے آپ کو اصحابِ کشف و کرامت کے پردے میں چھپائے رکھا۔خیر گولن صاحب کا پیچیدہ یا سحر زدہ معاملہ تو ترکوں کا ٹھہرا،ہم عامی تو پاکستان میں سانس لیتے اور جیتے ہیں۔خطہ پاک کے ضمن میں اردوان کی یہ کہن کہ مریم نواز سیاست میں ضرور کامیاب ہونگی۔۔۔ظالم مار ڈالا!مخالفین اوران کے کہانی نویسوں کے دل پر تو قیامت ڈھا گئی ہو گی۔


ملکی ترقی میں حائل بعض حقیقی اور عملی مشکلات سے کون سی جماعت کماحقہُ آگاہی رکھتی ہے؟دیکھئے خالی خولی خوش فہمیاںیا نعرے بازیاں سنجیدہ تجزیے میں جگہ نہیں پاتیں۔ مسلم لیگ کا نام لیجئے یا پھر پیپلز پارٹی کا۔۔۔اس ملک کی حیات میںیہی دو تجربے کار سیاسی جماعتیں کوئی اعلیٰ و ارفع کردار اد اکر سکتی ہیں۔پی ٹی آئی تو ابھی بچی اور کچی ہے اور سیاست و معیشت اپنی بہتری کے لئے جذبات نہیں مانگتے تجربے کا زادِ راہ چاہتے ہیں۔پارلیمانی نظام کا ارتقا،معیشت کی تعمیر ،داخلی و خارجی مسائل کاحل،خارجہ پالیسی کی بدلتے تقاضوں کے تحت تشکیل اور سب سے بڑھ کر عوامی فلاح و بہبود ۔۔۔ان سبھوں کا تعلق سیاسی تجربے سے بندھا ہے ۔سیاست میں تجربہ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے اور افسانوی کیمیا گری کسی دھات کو سونے میں ڈھال نہیں سکتی۔سیاسی کٹھالی کو جب تجربے کی آگ پر سلگایا جاتا ہے ،تبھی گوہر مقصود کندن بن کر نکلتا ہے۔بلاول کی بابت تو ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ٹھہرا،البتہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے کان میں ان کے والد اور مریم نوا ز کے کان میں ان کے والد نے سیاسی اذان کہی ہے۔محترمہ کے عروج وزوال سے اک زمانہ واقف ٹھہرا،آنے والا عہد اب مریم نواز پر بھی کان لگائے کھڑا ہے ۔


تعصب کے ماروں کے ہاتھ میں ’’ وراثت کی سیاست‘‘ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے یہ کمبخت تعبیرو تاویل کی اک نئی دنیا بسانے نکلتے ہیں۔غیر حقیقت پسندی یا اساطیری نظریے کی بات آپ ہی کو زیبابابا! بالغ نظر تو فریب کی بات نہیں کرتے کہ بازار میں بھاؤ بڑھے ،حقیقت کی بات کریں گے کہ دل کو گھاؤ لگے۔وکیل کا بیٹا وکیل،تاجر کا بیٹا تاجر،ساہوکار کا بیٹا ساہوکار،دکاندار کا بیٹا دکاندار، صنعت کار کا بیٹا صنعت کار،بیوروکریٹ کا بیٹا بیوروکریٹ اور ایڈیٹر کا بیٹا ایڈیٹرحتیٰ کہ کئی کالم نگاروں کا بیٹا کالم نگار تو سیاست دان کا بیٹا سیاست دان کیوں نہیں؟مستقبل میں جب پی پی جیتتی ہے تو بلاول ہی وزیراعظم بنے گا اور مسلم لیگ کامیاب ہو تی ہے تو نواز شریف یا مریم نواز ہی۔۔۔تو پیٹ میں مروڑ کیوں؟یہ ایک ایسی بدیحی اور صریحی حقیقت ہے کہ اس سے نظریں چرانا حقیقت پسندی سے فرار پر ہی محمول کیا جائے گا۔کپتان احتجاجی سیاست کے ماہر اور انتشاری سیاست کے ماسٹر ثابت ہوئے ہیں۔جتنی دیر انہوں نے شورش و تشنج میں ضائع کر دی،مریم نواز نے اتنی ہی دیر سیاست سیکھنے میں صرف کی۔کیا ان دونوں کے سیاسی تجربے اور مشاہدے میں کوئی فرق نہیں؟زمین و آسمان کا فرق اندھوں کو نظر نہیں آتا مگر بینا لوگوں کو تو دکھائی دیتا ہے۔


را ت گئے نیوز چینلوں پر بیٹھ کر لمبی لمبی گپیں ہانکنے والوں کا درد سوا ہے۔ انہوں نے سرکاری ملاز مت کے دوران خوب مشاہرے پائے ہیں جواب بھی ان کے کام آیا کئے۔ فارغ البال، مالا مال اور خوش حال تجزیہ نگاروں کو بھی تو مشغولیت اور خواہشات کی نکاسی کی سبیل چاہئے۔جاننا او ر ماننا چاہئے کہ مریم کی ولدیت میں محض نواز شریف کا نام ہی نہیں آتا ۔۔۔آئندہ ان کی جیب اور جھولی میں مسلم لیگ کا قیمتی اندوختہ ،سرمایہ اور اثاثہ بھی ہو گا۔وہی مسلم لیگ جس میں بالغ نظری، جمہوریت پرستی او راصول پسندی دوسری جماعتوں کی نسبتکچھ زیادہ ہے۔لیگ کے عظیم ماضی اورقابل فخر سرمایے اوراثاثے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی آنے والی قیادت اپنی میراث کا درست ادراک رکھتی ہو ۔وہی سیاسیات کا سچا سا اصول کہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ نئے پیش آنے والے چیلنجوں سے تجربہ کارسیاست دان ہی نپٹ سکتے ہیں۔۔۔احتجاجی لوگ نہیں۔


ایوب خان کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں اطراف کے لوگوں نے مسلم لیگ کو کیوں مسترد کر دیا تھا ؟یہ وہ سوال ہے جو لیگ کے لوگوں کے علاوہ بھی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا ۔بھائی تب تجربہ کار سیاست دانوں کا قحط آن پڑا تھا ورنہ مجیب کو پونا اور پٹنا میں ایسے دھاڑنے کا موقع نہ ملتا۔1958ء کے عشرے میں صنعتی واقتصادی ترقی کے حیرت انگیز کارنامے اور اسطورے کے گن گانے والے بھلا اس حقیقت کوکیوں مانیں گے۔ سابق وزیراعظم چودھری محمد علی نے یہ سحر توڑنے کی بڑی کو شش کی کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی بنیادیں ایوب خان کے شب خون مارنے سے قبل رکھی گئیں۔ وائے افسوس کہ فوجی حکمران کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے غلبے اور غلغلے میں اس حقیقت کو واقعی کوئی اہمیت مل نہ سکی۔

تسلیم کہ مسلم لیگ کا ماضی قریب ناقابل رشک ہے مگر ماضی بعید؟ یہ تو لائق فخر اور باعثِ اعزاز رہا ہے۔ بعض با شعوروں کے بقول جب تک معاملات لیگ کے ہاتھوں میں رہے ۔۔۔ متعدد غلطیوں اور بعض کوتاہیوں کے باوجود مجموعی طور پر ہماری سفرِ سمت درست اور ملکی گاڑی صحیح رخ پر چلتی رہی۔علاقائی عصبیت اور صوبائی تعصبات سے پاک لیگ ہی ملک کو مستحکم اور مضبوط مملکت بنا سکتی ہے۔چند ہستیوں کو اگر ناگوار نہ گزرے تو یہ کہنے میں بھلا کیا شرمانا کہ مسلم لیگ ہی پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے زیادہ قابل اور تجربہ کار سیاست دانوں کی کھیپ ملک کو عنایت کی ہے۔کسی کو خوشگوار گزرے کہ ناگوار۔۔۔اک ذرا صبر کہ اسی لیگ کے افق سے اب ایک نیا سیاسی ستارہ طلوع ہوا چاہتا ہے۔

مزید :

کالم -