ایف ایم ریڈیو لائسنسوں کی نیلامی

ایف ایم ریڈیو لائسنسوں کی نیلامی
ایف ایم ریڈیو لائسنسوں کی نیلامی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری آ تھارٹی عرف عام میں پیمرا نے موجودہ ماہ میں پاکستان کے 67بڑے اور چھوٹے شہروں میں ایف ایم ریڈیو قائم کرنے کے لائسنس کا نیلام کیا ہے۔ پیمرا میں ریڈیو لائسنس کی نیلامی کا یہ نواں مرحلہ تھا ۔ پیمرا دوسرے مرحلے سے لائسنس نیلام کر رہی ہے۔ ابتدائی مراحل میں بند لفافوں میں لائسنس کی قیمت طلب کی جاتی تھی اور زیادہ بولی دینے والا لائسنس کاحقدار قرار پاتا تھا۔ بعد کے مراحل میں نیلامی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ پہلے حصے میں بند لفافوں میں بولی طلب کی جاتی ہے اس کے بعد سب سے زیادہ لگائی جانے والی بولی کو ابتدائی بولی قرار دے کر کھلی نیلامی کی جاتی ہے۔ گزشتہ مراحل میں دی جانے والی ہر بولی دس ہزار کی ہوتی تھی جسے پیمرا نے پچاس ہزار کر دیا اور ابتدائی سرکاری قیمت کم سے کم دس لاکھ روپے مقرر کردی۔


پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کا اجراء اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے کمیونٹی کمیونیکیشن میں اضافہ کے مطالبہ کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ریڈیو لائسنس جاری کئے تھے۔ اس کے بعد معاملہ التوا میں چلا گیا تھا ۔ جنرل پرویز مشرف نے ٹی وی چینلوں کے قیام کی ضرورت محسوس کی اور پیمرا قائم کرنے کے احکامات دئے تو پیمرا نے لائسنسوں کا اجرا کیا۔ بعد کے مراحل میں پیمرا خود ایک ایسا کاروباری ادارہ بنا دیا گیا جسے اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ریڈیو لائسنس کو ن کن مقاصد کے لئے حاصل کر رہا ہے ، وہ سہولت کار کا فرض بھی ادا نہیں کر رہا ہے۔ اسے اس بات سے بھی ماضی میں غرض نہیں تھا کہ ریڈیو سے کیا نشر ہو رہا تھا یا کس قسم کے اشتہارات نشر کئے جارہے تھے۔ ایک عرصے بعد خصوصا جب فوج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی تیز کی تو ذرائع ابلاغ پر بھی توجہ دی گئی۔ پیمرا نے بھی احتیاطی اقدامات اختیار کئے جس کے نتیجے میں خصوصاً حکیموں کے اشتہارات نشر کرنے پر سختی کی گئی۔ حکیم ،ایف ایم کے قیام کے پہلے روز سے ہی اشتہار دینے والی پارٹیاں رہے ہیں ۔ بعض اوقات تو وہ پیشگی رقم بھی ادا کیا کرتے تھے ۔ ان کی شرط یہ ہوتی تھی کہ جو مواد وہ دیں اسے حرف بہ حرف نشر کیا جائے ۔ ان کا مفاد یہ ہوتا تھا کہ ہر مریض ان سے ہی رجوع کرے۔ خواہ وہ کامیاب علاج کرسکیں یا نہ کرسکیں۔


بہر حال موجودہ نویں مرحلے میں بھی لائسنس کے حصول میں دلچسپی رکھنے والے افراد نے بہت کھلے دل کے ساتھ بولیاں دیں۔ بعض شہروں میں تو بولیاں دینے کا دلچسپ مقابلہ ہوا جس کی وجہ سے سیال کوٹ (دو کروڑ پچاس لاکھ) چار سدہ شہر (ایک کروڑ چھہ لاکھ) ، چنیوٹ (ایک کروڑ پچھتر لاکھ پچاس ہزار)، ڈیرہ غازی خان (ایک کروڑ اکانوے لاکھ) جڑانوالہ (دو کروڑ پچاس لاکھ) ، دادو (پچاس لاکھ)، خیر پور (چھتیس لاکھ پچاس ہزار)، مٹیاری (ساٹھ لاکھ پچاس ہزار) (کامیاب بولی شہروں کے سامنے درج کی گئی ہے) اور دیگر بشمول چھوٹے شہروں، وغیرہ کے لائسنس ضرورت سے کہیں زیادہ مہنگے داموں پر حاصل کئے گئے۔ تشویش ناک بات یہ بھی ہوئی کہ بلوچستان کے شہروں کے لئے کسی نے درخواست ہی دائر نہیں کی۔ اسی لئے آواران ، چاغی، ژوب اور دیگر شہروں کے لائسنسوں کی نیلامی نہیں ہو سکی۔ اکثر لائسنس حاصل کرنے والوں کو علم ہی نہیں ہے کہ مشتہرین اور ایڈورٹائزننگ کمپنیاں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ کسی شہر پر توجہ نہیں دیتی ہیں۔ چھوٹے اسٹیشن والے اسی لئے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے اسٹیشنوں کو (KIL) قرار دیتے ہیں۔ ایف ایم ریڈیو کا ذریعہ آمدنی اشتہارات کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔ ماضی میں سیاسی مفادات رکھنے والے عناصر نے جو لائسنس حاصل کئے تھے انہوں نے تو بعض شہروں میں ریڈیو ہی ٹھیکے پر دے کر ہر ماہ ہونے والے اخراجات سے جان چھڑا لی ۔ نیلامی کے نویں مرحلے میں تو پیمرا کو اس کے پیروں پر کھڑا کرنے والے ایک وقت کے قائم مقام چیئر مین اور سابق ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل ڈاکٹر عبدالجبار کے صاحبزادے نے بھی لائسنس حاصل کئے ہیں۔ کسی نے خوب کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو اب پتہ چلے گا کہ جو قوانین ان کے دور میں بنائے گئے تھے وہ کتنے یکطرفہ ہیں جن میں لائسنس حاصل کرنے والے پر فرائض کے انبار کھڑے کر دئے گئے ہیں لیکن حقوق کی معمولی گنجائش بھی نہیں رکھی گئی ہے۔ میکدہ میں کب مے خوار نے ساقی کی سنی ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو شاعر بابو رفیق ریواڑوی یہ نہ کہتے:
جام ٹکرانے کی ضد میں جام سے
ہم لئے بیٹھے ہیں بو تل شام سے
پیمرا نے شہروں کو صرف دو حصوں یعنی بڑے اور چھوٹے شہروں میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔ آبادی پر توجہ نہیں دی گئی۔ شہروں کی صنعتی اور کاروباری حیثیتوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا غرض کوئی پیمانہ نہیں رکھا گیا ہے۔ نویں مرحلے میں تو شہروں کے درمیان کم سے کم فاصلے کو بھی در خو اعتنا نہیں سمجھا گیا۔ شہروں کو کم از کم چار حصوں میں تقسیم کرنا چاہئے۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور کو کوئٹہ، پشاور، ملتان ، فیصل آباد، سیالکوٹ کے برابر کیوں کرنا چاہئے اسی طرح ملتان، سکھر، رحیم یار خان، بھکر، سر گودھا یا کھاریاں کیوں کر اس سے بڑے شہروں کے برابر قرار دیا جانا چاہئے۔ منڈی بہا الدین، ٹنڈو آدم، ٹنڈو محمد خان، عمر کوٹ، مٹھی، کوہستان، قصور، چیچہ وطنی کس لحاظ سے ملتان، سکھر، مردان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ بڑے شہروں سے پیمرا ہر سال لائسنس کا کرایہ بھی وصول کرتی ہے جو چار لاکھ روپے ہوتا ہے۔ اور چھوٹے شہروں میں قائم ایف ایم اسٹیہشنوں سے ایک لاکھ روپیہ سالانہ وصول کیا جاتا ہے۔ یہ سالانہ فیس خصوصاً چھوٹے شہروں یا چھوٹے درجے کے شہروں کے لئے کم ہونا چاہئے۔ نئے لائسنس حاصل کرنے والوں کے علم میں یہ بھی نہیں ہے کہ پیمرا انہیں کتنے پاور ( واٹس) کا ٹرانسمیٹر استعمال کر نے کی اجازت دے گا اور اسٹیشن چلانے پر ہر ماہ کتنا خرچہ آتا ہے۔ کیا وہ رقم جو انہوں نے لائسنس حاصل کرنے، اور ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے پر خرچ کی ہے، منافع کے ساتھ واپس ہو سکے گی۔ پیمرا اگر سہولت کار کر کردار ادا کرے تو وہ لائسنس حاصل کرنے وا لی کمپنیوں کو آگاہ کر سکتی ہے کہ اس کاروبار کی تازہ ترین نوعیت کیا ہے اور منافع کی شرح کیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا شمار بھی پاکستان کی دیگر بیمار صنعتوں میں ہو جائے۔ نویں مرحلہ کے لائسنسوں کے اجرا کے بعد پاکستان میں ایف ایم اسٹیشنوں کی تعداد ڈھائی سو سے تجاوز کر جائے گی۔


اس تماش گاہ میں کاروبار کرنے والے افراد گھاٹے کا سودا نہیں کرتے لیکن زیادہ منافع کمانے کی خواہش ضابطوں، قوانین، روایات کو رندوا دیتی ہے۔ لائسنس حاصل کرنے والے اس بات سے بھی لاعلم ہوتے ہیں کہ قوانین کیا ہیں، لائسنس کے اجرا کے وقت انہیں لائسنس کی کتاب تھما دی جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ پیمرا یا لائسنس نیلام کرنے والی کمیٹی کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے بھی رجوع نہیں کریں گے جو بذات خود توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ ساتویں مرحلے میں جن کمپنیوں نے کراچی ، لاہور ، مری یا دیگر شہروں میں لائسنس حاصل کرنے کے لئے تیس چالیس کروڑ روپے سے زائد فی لائسنس بولی دی تھی جس کا انہیں بعد میں احساس ہوا کہ انہوں نے یہ کیا کر دیا۔ چوں کہ بولی دینے والے حضرات اتنے بااثر ثابت ہوئے کہ پیمرا کو ساتویں مرحلے کو کالعدم ہی قرار دینا پڑا تھا۔ پا کستان اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں زیادہ پاور کے ٹرانسمیٹر دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے خلاف بھارتی پرو پیگنڈہ کا موثر جواب دیا جاسکے۔ بعض علاقے تو ایسے بھی ہیں جہاں بھارتی ریڈیو ہی سنے جاتے ہیں کیوں کہ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو کی نشریات ان علاقوں میں نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ ان علاقوں میں کوئی کاروبار نہیں ہے۔ بیاباں علاقے ہیں اس لئے قریبی اسٹیشنوں کو بوسٹر لگانے کی اجازت ہونا چاہئے جو بھارتی ایف ایم مرچی کے مرچی لگے پروپگنڈہ کو مرچی لگا دینے والا جواب تو دے سکیں۔

مزید :

کالم -