پنجاب کا بجٹ مل جائے تو سندھ کو اس سے بہتر بنا دیں گے :آصف زرداری

پنجاب کا بجٹ مل جائے تو سندھ کو اس سے بہتر بنا دیں گے :آصف زرداری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


دبئی/کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری نے کہاہے کہ میرے پاس ذوالفقار علی بھٹو کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے وصیت تھی کہ ان کی قبر پر لکھوایا جائے کہ( Here lies the servant of people )یہاں عوام کا خدمت گاردفن ہے ،ایک سال کیلئے پنجاب کا بجٹ مجھے دیں اور سندھ کا بجٹ پنجاب کو دیں تو میں آپ کو سندھ کو پنجاب سے زیادہ بہتر بنا دیں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو کے دوران آصف زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا چین کے ساتھ کراچی کا کچرہ صاف کرنے کیلئے معاہدہ ہوگیاہے جو کہ بہت کم ریٹ پر ہواہے اور جلد ہی کراچی کا کچرہ صاف کر دیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں چینی زبان یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں سکھائی جارہی ہے اور طالبعلم چینی زبان سیکھ کر نکل رہے ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ جب ہم نے چین سے عطاء آباد جھیل کی پانچ سوملین ڈالر کی گرانٹ روڈ لنک ٹھیک کرنے کیلئے لی تو اس وقت ہم نے سی پیک کی بنیاد رکھی اور اس کی دوسری کڑی تھی جب گوادر کو ہم نے ملایا۔ہم نے صرف چین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ترکی ،سری لنکا اور ایران کے ساتھ بھی معاہدے کیے۔پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ میری چینی وزیر اعظم سے پہلی ملاقات لندن میں ہوئی ، میں نے انہیں کہا کہ برطانیہ میں 15 لاکھ پاکستانی رہتے ہیں ، لیکن ہمارے پڑوسی ہونے کے باوجود دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے کچھ اتنے لوگ نظر نہیں آتے۔ میں نے اپنے دفتر میں ایک نقشہ لگایا ہوا تھا اور جو بھی چینی وفد مجھ سے ملنے آتا تھا تو انہیں پوائنٹر کے ذریعے دکھاتا تھا کہ ان کے اور پاکستان کے پورٹس کتنے قریب ہیں۔ گوادر پورٹ کی چین کو حوالگی میں سب سے بڑی مشکل بات یہ تھی کہ افتخار چودھری نے سٹے آرڈر دیا ہوا تھا ہم نے کچھ دوستوں کی مدد لی اور افتخار چودھری صاحب کو یہ بات باور کرائی کہ یہ قومی مسئلہ ہے جس کے بعد انہوں نے سٹے آرڈر اٹھا لیا۔ سنگاپور کے ساتھ ہماری کوئی تجارت نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم نے 35 ملین ڈالر میں یہ بندرگاہ چین کو دی۔ ہم نے چین کو قریب کرکے فٹ پرنٹ بنایا ہے تاکہ اگر پاکستان کی معیشت کو کوئی نقصان پہنچے تو اس کے بیک اپ پر کوئی موجود ہو۔ان کا کہناتھا کہ مجھے نظر آرہاتھا کہ ایران اپنے تمام مسائل سے نکل آئے گااور ہمیں اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے ،2025میں پانی کم ہو جائے گا اور آج کل پانی پر جنگ کی باتیں بھی ہورہی ہیں ،ہمارے پاس پانی بہت ہے اور اگر ہم اپنے پانی کا استعمال ماڈرن ٹیکنالوجی سے کریں تو اپنی زمین کو اتنا زر خیز بنا سکتے ہیں کہ چین کو بھی خوراک فراہم کر سکیں کیونکہ چین کی آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے۔آصف زرداری نے کہاکہ کراچی کی آبادی اس وقت تقریبا 13ملین کے قریب ہے ،کراچی کیلئے وفاق کو بھی سوچنا پڑے گا اور اس کیلئے خصوصی بجٹ رکھنا پڑے گا۔اندرون سندھ میں ترقیاتی کاموں سے متعلق سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہناتھا کہ سندھ میں بہت کام ہواہے آپ آئیں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں پل اور سڑکیں بنی ہیں ،ایک سال کیلئے پنجاب کا بجٹ مجھے دیں اور سندھ کا بجٹ پنجاب کو دیں تو میں آپ کو سندھ کو پنجاب سے زیادہ بہتر بنا دوں گا۔بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق آصف علی زرداری کا کہناتھا کہ انہوں نے خود بہت لیٹ شادی کی تھی میں اسے کس طرح کہہ دوں کہ وہ 28سال کی عمر میں شادی کر لے۔بلاول کو سیاست میں لانے کے سوال پر آصف زرداری کا کہناتھا کہ اگر بلاول کو سیاست میں نہیں لاتا تو میں سمجھتا کہ بھٹو کے ساتھ بے وفائی کر رہاہوں ۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میں جلا وطن نہیں ہوں بلکہ سیاست میں ٹائمنگ بہت ضروری ہوتی ہے تب حالات ایسے تھے جب مجھے بیک سیٹ پر رہنا پڑا ، میں یہ بھی چاہتا تھا کہ بلاول کو بھی کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ پاکستان سے باہر رہ کر بلاول کو بھی اور دوسروں کو بھی سپیس دے رہا تھااویس مظفر اور شرجیل میمن سے میں نے پوچھا نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ پاکستان واپس جائیں گے یا نہیں ، لیکن ہو سکتا ہے کہ میری واپسی کے بعد شرجیل میمن پاکستان واپس آجائے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین انتہائی شریف النفس اور خاندانی انسان ہے یہ وقت کی غلطی ہے جس کا ان لوگوں کو ازالہ کرنا پڑے گا، وقت خود ہی فیصلہ کرے گا کہ کس کو ازالہ کرنا پڑے گا۔ مشرف کو بھی ازالہ کرنا پڑا، کبھی وہ کہتا تھا کہ ایک لات اِدھر اور دوسری لات سے اْدھر ماروں گا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اقتدار میں رہنے کیلئے منتیں کر رہا تھا لیکن ہم نے مشرف کو مکھی کی طرح دودھ سے باہر نکال دیا۔ تھوڑی سی غلط فہمیاں عروج پر آچکی تھیں جس میں ڈاکٹر عاصم سافٹ ٹارگٹ تھا جس کی وجہ سے وہ نشانہ بن گیا ، میں نے جیل دیکھی ہوئی ہے اس سے گھبراتا نہیں ہوں، جو شخص جیل سے گھبراتا ہے وہ پاکستان میں سیاست نہ کرے بلکہ کسی اور ملک چلا جائے۔ مجھ پر پہلے بھی کیس ہوئے اور سب میں وعدہ معاف گواہ بھی تھے لیکن ہم نے سب مقدمات کا سامنا کیا اور بری ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا ارتقا پارلیمنٹ میں ہوگا، کل اگر سپریم کورٹ ایک کمیشن بنادے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا۔ عمران خان اور اعتزاز احسن پڑوسی ہیں اس لیے ان کا پرانا تعلق ہوگا اور یہی وجہ ہوگی کہ وہ اعتزاز احسن کو اچھا سمجھتے ہوں۔ بابر اعوان پروفیشنل وکیل ہے جو بھی اسے فیس دے گا وہ اس کا کیس لڑے گا، میں اس کی روزی میں کیوں لات ماروں۔انہوں نے اٹھارہویں ترمیم کے بارے کہا کہ پاکستان کے لئے جمہوریت ضروری ہے اور جمہوریت کے لئے صوبوں کو وفاق سے جوڑنا اتنا ہی ضروری ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو وفاق کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور اس ترمیم میں تیسری مرتبہ وزیراعظم نہ بننے کی شرط ختم کی کیونکہ پانچ سال کے وقت سے کہیں زیادہ پاکستان اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ صرف قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے ذریعے ہے۔ امریکی انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب امریکہ کے عوام کا انتخاب ہے اور دائیں بازو کی پارٹیوں کی مقبولیت کچھ پالیسیوں کا ردعمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی تقریباً تین کروڑ عوام کا شہر ہے جس کے لئے وفاق کو خاص بجٹ مختص کرنا پڑے گا کیونکہ وہاں تمام ملک سے آئے ہوئے لوگ بستے ہیں۔ سندھ میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور کچھ ہو چکے ہیں۔ جلد ہی سندھ میں یہ تمام ترقیاتی منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -