ٹرمپ سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ انتخابی وعدوں پر قائم رہیں گے :ہنری کسنجر

ٹرمپ سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ انتخابی وعدوں پر قائم رہیں گے :ہنری کسنجر
 ٹرمپ سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ انتخابی وعدوں پر قائم رہیں گے :ہنری کسنجر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) نامزد صدر ڈونلڈ ٹرمپ جہاں سوچ بچار اور مشوروں کے بعد اپنی انتظامی ٹیم کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں خوف، تجسس، ناامیدی اور بے یقینی کے ماحول میں ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں تبصرے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم جائزہ 93 سالہ کنہہ مشق سیاست دان اور سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے سامنے آیا ہے جنہوں نے چند روز قبل ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ ان سے سی این این ٹی وی کے فرید زکریا نے اتوار کے روز انٹرویو کیا جس میں انہوں نے ٹرمپ کے سخت گیر انتخابی ایجنڈے کے حوالے سے خدشات دور کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح امریکہ اور دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اسی طرح ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ بالآخر اپنے انتخابی وعدوں پر قائم رہیں گے۔ 1973ء میں نوبل انعام حاصل کرنے والے ہنری کسنجر نے بتایا کہ کسی کو بھی یہ اصرار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹرمپ اپنی اعلان کردہ پالیسیوں پر عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹرمپ کو موقع دینا چاہئے کہ وہ مثبت مقاصد وضع کرے۔ ہم نے اپنی پالیسیوں کی بناء پر برسر اقتدار حکومتوں کو بکھرتے دیکھا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ٹرمپ کے ساتھ بھی ایسا ہو۔ صدر بارک اوبامہ کے دوسرے صدارتی انتخاب میں ہارنے والے ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے جب نیو جرسی میں ٹرمپ کی ذاتی گالف کلب میں ان سے ملاقات کی تو یہ خبر گردش کرنے لگ گئی کہ انہیں وزیر خارجہ بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ رومنی نے ملاقات کے بعد رپورٹروں کے سوالات کا مناسب جواب نہیں دیا لیکن یہ روایت موجود ہے کہ اپنی پارٹی کے ہارنے والے امیدوار کو وزارت خارجہ کی پیشکش کی جاتی ہے۔ قبل ازیں صدر اوبامہ نے پرائمری انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو ہرانے کے بعد وزیر خارجہ بنایا تھا۔ یاد رہے کہ مٹ رومنی صدر اوبامہ سے دوسرے صدارتی انتخاب میں ہارے تھے۔ انہوں نے موجودہ صدارتی مہم کے مختلف مراحل میں ٹرمپ پر سخت تنقید کی تھی۔ سینیٹر جیف سیشنز کے اٹارنی جنرل بن جانے کی صورت میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کی توقع کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کے بارے میں انتخابی بیانات ریکارڈ پر ہیں اور ان کے پہلے 100 دن کے ایجنڈے میں بھی شامل ہیں۔ اس دوران ری پبلکن پارٹی کی نیشنل کمیٹی کے چیئرمین رینس پریبس کے بیان کے ساتھ این بی سی نے عجیب سلوک کیا ہے جو وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف نامزد ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں تصدیق کی تھی کہ تارکین وطن کے بارے میں لازمی جانچ پڑتال ہوگی جسے ٹی وی چینل نے خوب اچھالا اور ان کے بیان کے دوسرے حصے کو حذف کردیا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی رجسٹری نہیں بنائی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -