حضرت امام حسینؓکا چہلم مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا

حضرت امام حسینؓکا چہلم مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لا ہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑ و دیگر شہداء کربلا کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔صوبے بھر میں 2564مجالس و مخافل منعقد کی گئیں جبکہ 1089جلوس برآمد کئے گئے لاہور میں چہلم کا مرکزی جلوس اندرون شہر حویلی الفشائیاں سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا رات گئے کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا ، دفعہ 144کے تحت جلوس کے روٹ پر موبائل فون سروس جزوی طور پر بند رہی ، ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑ و دیگر شہداء کربلا کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مرکزی جلوس کی سکیورٹی کے لئے چار ایس پیز ، 10ڈی ایس پیز ، 35ایس ایچ اوز سمیت 2000ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا ، سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور خود جلوس کی نگرانی کرتے رہے اور موقع پر موجود اہلکاروں کو سکیورٹی سے متعلق ہدایات جاری کرتے رہے ۔ مرکزی جلوس میں داخل ہونے والے تمام عزاداروں کو چار لئیر سکیورٹی سے تلاشی دینے کے بعد جلوس میں شامل ہونے دیا گیا ۔ جلوس کو جانے والے تمام راستوں کو پولیس نے خادار تاریں اور لوہے کے بیریرز لگا کر عام ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا تھا جبکہ ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزرا گیا ، چہلم کو مرکزی جلوس اندرون شہر حویلی الفشائیاں ، چوک نواب صاحب ، چوہٹہ مفتی باقر، محلہ شعیاں، مسجد وزیر خان ، گجر گلی ، چائینہ چوک ، سوہا بازار ، گمٹی بازار، ترنم چوک ، اندرن بھاٹی گیٹ، بھاٹی چوک سے ہوتا ہوا رات گئے کربلا گامے شا ہ پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا ، جلوس میں شامل عزادار ماتم داری اور زنجیر زنی کرتے رہے جگہ جگہ نذر ونیاز کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جبکہ پانی ،شربت او رچائے کی شبلیں لگائی گئیں تھیں ۔ مرکزی جلو س کی نگرانی کے لئے 300سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے تھے ، جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی،کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے فوج کی 36اور رینجرز کی 6کمپنیوں کو سٹینڈ بائی رکھا گیا تھا ۔ ضلعی حکومت نے جلوس کے موقع پر دفعہ 144کانفاذ کیا تھا جس کے تحت ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ جلوس کے راستوں پر موبائل فونز سروس کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا ۔

مزید :

صفحہ اول -