وکلاء کے انتخاب نے تحریک انصاف کو نئی آزمائش سے دوچار کر دیا

وکلاء کے انتخاب نے تحریک انصاف کو نئی آزمائش سے دوچار کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

غالب کو شعروں کے انتخاب نے رسوا کر دیا تھا، تو تحریک انصاف وکلاء کے انتخاب میں سیاسی آزمائش سے دوچار ہے۔ دو روز پہلے نفیس الطبع حامد خان نے یہ کہہ کر اپنی جماعت کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ عدالتوں میں تو دلائل دے سکتے ہیں، میڈیا کے مقابلے میں شریک نہیں ہوسکتے۔ ان کے بعد یہ خیال عام تھا کہ ان کی جگہ چودھری اعتزاز احسن یا ڈاکٹر بابر اعوان میں سے کسی ایک کو وکیل کیا جائیگا۔ لیکن رابطے سے پہلے ہی چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ عدالت کے باہر مشورے (مفت) تو دے سکتے ہیں بطور وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان کی جماعت اس مقدمے کو سرے سے عدالت میں لے جانے ہی کے خلاف تھی۔ اگرچہ انہیں سید یوسف رضا گیلانی نے یہ کہہ کر راستہ تو دیا تھا کہ وہ بطور پروفیشنل وکیل کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ پارٹی پالیسی ان کے راستے کی دیوار نہیں بنے گی، لیکن غالباً تحریک انصاف نے خود ہی ڈاکٹر بابر اعوان کو وکیل کرنے کا فیصلہ کرلیا جو حامد خان کی علیحدگی کے ساتھ ہی عمران خان کو کہہ چکے تھے کہ انہیں موقع دیا جائے۔ اب موقع تو دے دیا گیا ہے لیکن حامد خان کو یہ فیصلہ بھی پسند نہیں آیا اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر بابر اعوان کو وکیل بنایا گیا تو وہ اس سلسلے میں میں کوئی قانونی مشورہ تک نہیں دیں گے اور اپنے آپ کو پورے عمل سے الگ کرلیں گے۔ اس کے علاوہ نعیم بخاری نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ ڈاکٹر بابر اعوان کے ساتھ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے اور صرف حامد خان کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ ہوں گے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نامور وکیل ہیں، وکالیت میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر قانون رہ چکے ہیں، پارٹی نے انہیں سینیٹر منتخب کرایا جو وہ اب تک ہیں، لیکن ہوا یوں کہ کسی معاملے پر آصف علی زرداری ان سے ایسے ناراض ہوئے کہ پھر بار بار کی کوششوں کے باوجود صلح نہ ہوسکی۔ جب تک تعلقات میں دراڑ نہیں پڑی تھی، ڈاکٹر بابر اعوان کو پارٹی چیئرمین کا اتنا اعتماد حاصل تھا کہ پارٹی کے اندر اس پر رشک اور حسد کرنے والے بھی پیدا ہوگئے تھے۔ اب معلوم نہیں یہ حاسدین کا کیا دھرا تھا یا خود ان سے کوئی ایسی بھول چوک ہوگئی جس کی وجہ سے وہ پارٹی کے اندر اور آصف زرداری کے نزدیک ناپسندیدہ ہوگئے اور بالآخر انہیں الگ ہونا پڑا۔ پارٹی ان سے سینیٹر شپ سے بھی فیصل رضا عابدی کی طرح استعفا لے سکتی تھی، لیکن ایسا اس لئے نہ ہوسکا کہ بابر اعوان پنجاب سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے، اب اگر ان سے استعفا لیا جاتا تو ضمنی انتخاب میں یہ نشست پکے پھل کی طرح مسلم لیگ (ن) کی جھولی میں گر جاتی، اس لئے پیپلز پارٹی نے استعفے کا آپشن استعمال نہیں کیا اور وہ 2018ء تک سینیٹر ہیں، اس کے بعد ان کی جیت کا امکان یوں نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہے، جو اپنے سینیٹر آسانی سے منتخب کراسکے گی۔ سینیٹ کی بات یوں ہی درمیان میں آگئی، اصل بات اس آزمائش کی ہو رہی تھی جو تحریک انصاف کو وکلاء کے انتخاب میں درپیش ہے۔ حامد خان اور نعیم بخاری تو الگ ہوگئے، اب اگر پارٹی ڈاکٹر بابر اعوان کو وکیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیتی ہے تو انہیں اپنی معاونت کے لئے بھی وکلاء ساتھ لانے ہوں گے۔ ویسے تحریک انصاف میں اور بھی وکیل ہیں، ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
سیاستدانوں ا ور سیاسی جماعتوں کے تعلقات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ ان میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ سیاستدان سیاسی وابستگیاں بھی بدلتے رہتے ہیں۔ موسمی پرندے بھی ایک سیاسی چھتری سے اڑ کر دوسری پر بیٹھ جاتے ہیں۔ تحریک انصاف میں جو لوگ اس وقت ہیں وہ کئی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ آج جو لوگ تحریک انصاف میں ہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یا کسی وقت داغ مفارقت دے جائیں گے۔ پارٹی اگر عروج کی جانب گامزن ہوگی تو نامور سیاستدان بھی ادھر کا رخ کریں گے اور اگر کسی وجہ سے ڈھلوان کا سفر شروع ہوگیا تو جو لوگ پہلے سے موجود ہیں، وہ بھی نئے ٹھکانے تلاش کرلیں گے۔ یہ کوئی پیشین گوئی نہیں ہے، سیاسی کلچر کا معروضی اظہار ہے۔ جس طرح سیاسی وابستگیاں بدلتی ہیں، اسی طرح سیاستدانوں کے خیالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ شیخ رشید احمد کا معاملہ ہی لے لیں، ان کے بارے میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ انہیں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھیں لیکن آج دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے۔ اس طرح ایک زمانے میں بابر اعوان اور عمران خان کے باہمی تعلقات خوشگوار نہ تھے اور دونوں ایک دوسرے کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار بھی کر دیا کرتے تھے۔ مثلاً ایک ٹی وی ٹاک شو میں عمران خان بابر اعوان کو ’’چوروں کا وکیل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب بابر اعوان پیپلز پارٹی میں تھے اور آصف علی زرداری کی وکالت کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بابر اعوان نے انہیں کہا تھا کہ آپ سرے محل کا حساب مانگنے سے پہلے اسلام آباد میں سرکاری زمین پر قبضہ کرکے محل بنانے کا حساب دیں۔ اب دونوں حضرات اس وقت کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ بابر اعوان اب ’’چوروں کی وکالت‘‘ نہیں کریں گے بلکہ عمران خان کے وکیل ہوں گے۔

مزید :

تجزیہ -