کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں: پی ٹی وی خواتین اینکرز

کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں: پی ٹی ...
 کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں: پی ٹی وی خواتین اینکرز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پی ٹی وی کی خواتین اینکرز کو ہراساں کرنیکا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کو سخت ایکشن لینے کی ہدایت کردی جبکہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ خواتین اینکرز کو ضرور انصاف دلاﺅں گی۔گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئر مین سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہوا جس میں پی ٹی وی کی نیو ز اینکر کو ہراساں کرنے کے معاملہ کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو 6 خواتین اینکرز نے آگاہ کیا کہ کنٹریکٹ ختم ہونے پر ہمیں کمرے میں بلا کر مطالبات سامنے رکھے جاتے ہیں پھر کنٹریکٹ میں توسیع کی جاتی ہے ،کنٹرولر پی ٹی و ی خواتین کو ہراساں کرتا آ رہا ہے۔

کنٹرولر پی ٹی و ی کیخلاف درخواست دی تو اس کیخلاف عدالت نے بھی فیصلہ دیاہے۔ سینیٹر کریم خواجہ نے کہا خواتین کو ہراساں کرنے کا بل پاس ہو چکا ہے ، محکمہ ایف آئی آر درج کروائے۔ چیئرمین کمیٹی کامل علی آغا نے کہا وزارت معاملہ کا سخت نوٹس لے اور وہ وجہ ختم کرے جس کی بدولت خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے۔ جس پر وزیر مملکت نے کہا عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کروایا جائیگا اور اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو بھی آگاہ کرکے سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی تاکہ دفاتر میں کام کرنیوالی خواتین کو ہراساں نہ کیا جا سکے۔ قائمہ کمیٹی نے معلومات تک رسائی کے بل اور کوڈ آف کنڈکٹ کے بل پر ہدایت کے مطابق عمل نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔جس پر مریم اورنگزیب نے کہا جو بل قائمہ کمیٹی نے پاس کیا تھا وہ وزارت کے پاس موجود نہیں ہے۔ چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ٹی وی چینلز کے ریٹنگ سسٹم کے حوالے سے مانیٹرنگ بہتر کرنے کے حوالے سے معاملات زیر غور ہیں ،پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شامل کیا جا رہا ہے اور 2 ماہ میں موثر سفارشات فراہم کردی جائیں گی۔ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، عدالتیں چینل کو زیادہ ریلیف دیتی ہیں۔

مزید :

قومی -