’میں بیوٹی سیلون میں نوکری کرنے دبئی آئی تھی لیکن جیسے ہی یہاں پہنچی ایک سعودی شخص کے پاس بھیج دیا گیا جس نے۔۔۔‘ دبئی میں غیر ملکی لڑکی نے ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اٹھادیا کہ کوئی لڑکی دبئی کا رُخ کرنے سے پہلے بھی بار بار سوچے

’میں بیوٹی سیلون میں نوکری کرنے دبئی آئی تھی لیکن جیسے ہی یہاں پہنچی ایک ...
’میں بیوٹی سیلون میں نوکری کرنے دبئی آئی تھی لیکن جیسے ہی یہاں پہنچی ایک سعودی شخص کے پاس بھیج دیا گیا جس نے۔۔۔‘ دبئی میں غیر ملکی لڑکی نے ایسی شرمناک حقیقت سے پردہ اٹھادیا کہ کوئی لڑکی دبئی کا رُخ کرنے سے پہلے بھی بار بار سوچے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)”مجھے بیوٹی سیلون میں نوکری کا جھانسہ دے کر دبئی بلایا گیا۔ جیسے ہی میں یہاں پہنچی، مجھے ایک سعودی شخص کے پاس بھیج دیا گیا جس نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مجھے جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا اور مختلف مردوں کے پاس بھیجتی رہیں۔“ یہ روداد ہے مراکش کی ایک لڑکی کی، جسے اس کی ہم وطن دو خواتین نے نوکری کے جھانسے سے دبئی بلا کر جسم فروشی پر مجبور کر دیا۔ یہ لڑکی اکیلی نہیں، دیگر دو مراکشی لڑکیاں بھی ان دو خواتین کا شکار ہو چکی ہے۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مراکش کی 39سالہ خاتون جو دبئی میں کلرک کی نوکری کرتی ہے اور دوسری 22سالہ جو بیروزگار ہے، اپنے ملک سے لڑکیوں کو نوکری کے بہانے بلا کر جسم فروشی کا دھندا کرواتی تھیں۔ خود ان کے متعلق بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ خود بھی اس دھندے میں ملوث ہیں۔ ان دونوں خواتین کو عدالت سے 3سال قید اور ملک بدری کی سزا سنا دی گئی ہے۔

مرد کی چلتی ٹرین میں خاتون کیساتھ زیادتی کی کوشش اور پھر اچانک۔۔۔ بھارت میں ناقابل یقین واقع پیش آگیا
رپورٹ کے مطابق ان دونوں خواتین نے ایک 21سالہ لڑکی کو گزشتہ سال ستمبر میں دبئی بلایا۔ اسے انہوں نے ایک بیوٹی سیلون میں نوکری دلانے کا وعدہ کیا تھا اور اس سے 5ہزار درہم وصول کیے تھے۔ جب وہ دبئی آئی تو اسے ایک اپارٹمنٹ میں محبوس کرکے جسم فروشی کرواتی رہیں۔ اس متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ جب مجھے پہلی بار اس اپارٹمنٹ میں لایا گیا تو یہاں ایک سعودی شخص کے ساتھ مجھے اکیلے چھوڑ دیا گیا۔ ان دونوں خواتین نے اس شخص سے 2500سعودی ریال لیے تھے۔ میرے مزاحمت کرنے پر اس نے مجھ پر تشدد کیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک اور مراکشی لڑکی کو سپورٹس کلب میںنوکری کے بہانے بلایا گیا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ”مجھے یہاں آنے کے بعد ایک اپارٹمنٹ میں پہنچادیا گیا جہاں دو خواتین پہلے سے موجود تھیں، جو اپنی مرضی سے جسم فروشی کر رہی تھی۔ ان خواتین نے مجھے بھی مختلف ہوٹلوں میں مردوں کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ وہ ہر مرد سے 1500درہم لیتی تھیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملزم خواتین نے تینوں متاثرہ لڑکیوں سے 90ہزار مراکشی درہم کے چیک بھی لے رکھے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کام پر مجبور ہو گئیں۔

مزید :

عرب دنیا -