اوپر اوپر سے تنقید لیکن دراصل ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب میں کیا کام کرنے میں مصروف تھے؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ پوری دنیا میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا

اوپر اوپر سے تنقید لیکن دراصل ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب میں ...
اوپر اوپر سے تنقید لیکن دراصل ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب میں کیا کام کرنے میں مصروف تھے؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ پوری دنیا میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں مسلم دنیا کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مسلمانوں کے خلاف خوب بڑھکیں لگائی تھیں تاہم اب ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بڑھکیں اور تنقید محض انتخابی مہم کے حربے تھے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف اپنی انتخابی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے خلاف بول رہے تھے اور دوسری طرف ان کی رئیل سٹیٹ کمپنی سعودی عرب میں ایک بہت بڑے ہوٹل کے منصوبے کی شروعات کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ان کی 8کمپنیاں بھی سعودی عرب میں رجسٹرڈ کروائی گئیں۔
سعودی عرب ہی نہیں، ترکی، ملائیشیاء، آذربائیجان اور دیگر کئی مسلم ممالک میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ”امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا ہے کہ کسی امریکی صدر کا ذاتی کاروبار امریکہ سے باہر پھیلا ہوا ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی 111کمپنیاں امریکی سرزمین سے باہرجنوبی امریکہ، ایشیاءاور مشرق وسطیٰ کے 18ملکوں میں کاروبار کر رہی ہیں۔ایسے میں امریکہ کے ملکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی مفادات میں ٹکراﺅ کا خدشہ بھی نمایاں ہے۔ “

’میں چین کے ساتھ مل کر یہ کام کرنے جارہا ہوں۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے تاریخی اعلان کردیا، امریکہ اور یورپ کے ہوش اُڑادئیے
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی ایک اور روایت بھی توڑنے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل جو بھی امریکہ کا صدر منتخب ہوا، اس نے اپنے ذاتی کاروبار سے قطعی لاتعلقی اختیار کر لی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کاروبار سے علیحدگی اختیار کرنے سے یکسر انکار کر دیا ہے۔ وہ پہلے امریکہ صدر ہوں گے جو صدارت کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار سے بھی منسلک رہیں گے۔