لاہور میں قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب برہم،وسائل دیئے ہیں پولیس نتائج دے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دارہوں،آخری حد تک جاؤں گا :شہباز شریف

لاہور میں قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب برہم،وسائل دیئے ہیں ...
لاہور میں قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب برہم،وسائل دیئے ہیں پولیس نتائج دے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دارہوں،آخری حد تک جاؤں گا :شہباز شریف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)و زیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے لاہور میں جرائم کے حالیہ واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملت پارک میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 5 افراد کے قتل اور گارڈن ٹاؤن میں ٹریفک سگنل پر رکی گاڑی میں دن دیہاڑے ڈکیتی جیسے واقعات پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،وسائل دیئے ہیں پولیس نتائج دے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دارہوں اور اس مقصد کیلئے آخری حد تک جاؤں گا۔

مزید پڑھیں:ایل اوسی پر بھارتی فوجی کی لاش مسخ کرنےکاالزام بے بنیاد ہے :دفتر خارجہ

وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت آج یہاں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں لاہور میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے جرائم کے بعض واقعات خصوصاً ملت پارک میں 5 افراد کے قتل، گارڈن ٹاؤن میں ٹریفک سگنل پرگاڑی میں دن دیہاڑے ڈکیتی اور لوئر مال میں ڈکیتی کی ناکام کوشش کے کیسوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا اور اس ضمن میں پولیس حکام نے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی ۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے لاہور جیسے شہر میں جرائم کے ایسے واقعات رونما ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملت پارک میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 5 افراد کے قتل اور گارڈن ٹاؤن میں ٹریفک سگنل پر رکی گاڑی میں دن دیہاڑے ڈکیتی جیسے واقعات پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلیٰ نے جرائم کے ان واقعات پر پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اربوں روپے کے وسائل دیئے گئے ہیں اوراسی طرح تربیت اور جدید آلات سے لیس کیا گیاہے تاکہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کیلئے اپنے فرائض بہتر طریقے سے سرانجام دے سکے لیکن ان تمام وسائل اور تربیت کے باوجود ایسے واقعات کا ہونا افسوسناک ہے۔انہوں نے متعلقہ پولیس افسران سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ حالیہ واقعات کے وقت ڈولفن اور پیرو فورس کہاں تھی؟ علاقے میں گشت کا کیا نظام تھا؟۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے ایسے واقعات کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا، پولیس کو وسائل دیئے ہیں تو نتائج دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے،عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے پولیس کو موثر انداز میں فعال اورمتحرک کردارادا کرنا ہوگا،اس طرح معاملات نہیں چلیں گے اور میں ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔

وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو ان واقعات میں ملوث ملزمان کو 72 گھنٹے میں گرفتارکرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانا آپ کی ذمہ داری ہے اور آپ کو اس ذمہ داری کو بطریق احسن ادا کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوں اور اس مقصد کیلئے آخری حد تک جاؤں گا، پولیس صوبہ بھر میں جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنائے اور جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں رونما ہونے والے ایسے واقعات کو آئندہ برداشت نہیں کیا جائے گا ، ان واقعات میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی، امن و امان کے قیام سے بڑھ کر اور کوئی ترجیح نہیں ہوسکتی، یہی وجہ ہے کہ محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اربوں روپے صرف کئے گئے ہیں۔ پولیس کو سٹریٹ کرائم کے سدباب کیلئے فعال، متحرک اور موثر انداز میں فرائض سرانجام دینا ہوں گے اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ زبانی جمع خرچ سے نہیں بلکہ پولیس کی کارکردگی سے اسی وقت مطمئن ہوں گے جب عوام پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کریں گے اوریہ اسی وقت ممکن ہوگا جب پولیس اپنے فرائض مزید محنت اورتندہی سے سرانجام دے گی ورعوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

مزید :

قومی -