عورت نے میرے دادا کو کاٹ لیا

عورت نے میرے دادا کو کاٹ لیا
عورت نے میرے دادا کو کاٹ لیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر:محمد وقاص

میرے یونیورسٹی فیلو نے مجھے ایک عجیب سا واقعہ سنایا ہے جو آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔اسکی زبانی ہی سنیں” ایک دفعہ میرے دادا کو بڑا عجیب سا تجربہ ہوا، یہ آج سے کوئی 66 سال پہلے کا واقعہ ہے ۔ان دنوںوہ ایک چھوٹے سے دیہات میں رہتے تھے۔ ان کے گارے اور کچھی اینٹوں سے بنے ہوئے گھر کے بالکل سامنے ایک بیوہ عورت کا گھر تھا۔ وہ کبھی کھبار ہی کسی دیہاتی سے ملتی اور بات چیت کرتی تھی۔ اس کو ایک بہت ہی سنگین مسئلہ درپیش تھا۔ وہ فطری رحجانات کے باعث مختلف چیزوں کا اثر قبول کر لیتی تھی۔ جیسا کہ ہمارے درمیان موجود بعض افراد اس بات پر اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ ہر شخص کچھ خاص علامات کے باعث فطرتی طور پر مافوق الفطرت اشیاءسے بات چیت کرسکتا ہے۔ یہ بوڑھی عورت بھی انہی افراد میں سے تھی۔
ہر رات اس بوڑھی عورت کو حال پڑتا تھا اور پُر اسرار چیخوں کی آوازیں اس کے گھر سے بند دروازوں کے پیچھے سے سنائی دیتیں۔ لیکن گاﺅں کا کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ اس گھر کے اندر کیا ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک رات یہ چیخیں بہت خوفناک ہو گئیں، تھوڑی دیر بعد دوہری آوازیں اور غضب ناک چیخیں سنائی دینے لگیں ۔ اب کی بار گاﺅں والوں نے ہمت کر کے یہ فیصلہ کیا کہ آج ہم اندر کا حال معلوم کر کے ہی رہیں گے۔ تب بجلی نہیں ہوتی تھی اس لیے انہوں نے آگ کی مشعلیں روشن کیں اور اُس بیوہ عورت کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔
میرے دادا چونکہ عمر میں بڑے تھے اس لیے گاﺅں والوں نے میرے دادا کو اپنا رہنما بنا لیا تھا۔جب وہ لوگ اندر داخل ہو گئے تو آواز میں غضب کی شدت آ گئی جس سے ہر کوئی ڈر رہا تھا لیکن میرے دادا نے ہمت کر کے ان چیخوں کا تعاقب شروع کر دیا۔ مشعل کی روشنی چونکہ بہت کم تھی اس لیے وہ بڑے محتاط ہو کر ایک کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ان کو وہ عورت وہاں پر خون آلود کپڑوں اوربکھرے بالوں کے ساتھ گندگی کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی دیکھائی دی۔ وہ ایک مرغی کو اس طرح چیرپھاڑ کر کھا رہی تھی کہ اس کے منہ سے خون اور آنتیں ٹپک رہی تھیں۔
جونہی میرے دادا آگے بڑھے تو اچانک اس نے کھانا بند کر دیا اور آہستہ آہستہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا شروع کر دیں۔ میرے دادا کے بقول اس کی سفیدی مائل آنکھیں گہری زرد اور بے قرار دیکھائی دے رہی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ میرے دادا جان کچھ کرتے وہ بوڑھی عورت غیر فطری انداز میں ان پر جھپٹ پڑی اور اُن کی ران پر کاٹ لیا۔
میرے دادا نے چیخ ماری اور ان کی آنکھ کھل گئی ۔ وہ پیسنے سے شرا بور تھے اور اُن کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ ہاں یہ ایک خواب تھا، لیکن محض ایک خواب بھی نہیں تھا۔
جیسے ہی میرے دادا پانی پینے اٹھے انہیں اپنی ران پردرد محسوس ہوا۔ انہوں نے جلدی سے دیا سلائی جلائی اور اسے اوپر اُٹھا کر اپنی ران کو غور سے دیکھا تو وہاں پر کاٹنے کا گہرا نشان تھا۔
بالآخر یہ چیخیں بھی اس عورت کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گئیں۔ کچھ لوگوں نے اس کی مسخ شدہ لاش کو وہاں سے اٹھایا اور اس کے گھر کو جلا دیا ۔ میرے داداجب تک زندہ رہے انہیں جب بھی اس عورت کا خیال آتاوہ بری طرح پریشان ہوجاتے اور اپنی ران کے زخم کو دیکھتے رہتے جو ڈاکٹروں کے علاج کے باوجود کبھی ٹھیک نہ ہوسکا تھا۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحاریر لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔