ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 18

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 18
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 18

  

ا سکندر کباب

پیری لوٹی پر رات ہو چکی تھی۔ مجھے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار پر جانے کی جلدی تھی۔ میرے توجہ دلانے پر اسریٰ اور اوزگی وہاں جانے کے لیے روانہ ہوئیں ۔مگر اب تقریباً نوبجے کا وقت ہورہا تھا اور سب کو بھوک لگنے لگی تھی۔ لنچ ہمارے معمولات میں ویسے ہی شامل نہ تھا۔ چنانچہ طے پایاکہ پہلے کھانے کے لیے چلیں ۔ واپسی میں کیبل کار کے بجائے ایک ٹیکسی لی جس کے ذریعے سے ہم سیدھے ایوب سلطان مسجد کے قریب اس جگہ اترے جہاں کھانے پینے کے ریسٹورنٹ تھے ۔

ہمارے دوست ندیم اعظم صاحب جو اس طرح کی چیزوں کی بڑ ی رغبت رکھتے ہیں ، انھوں نے جانے سے قبل استنبول کے تمام اہم مقامات کی تفصیل کے ساتھ ہمیں یہاں کے ا سکندر کباب کھانے کی بھی تلقین کی تھی۔پہلے تو میں اسے کسی کباب ہاؤس کا نام سمجھا اور یہی سمجھ کر اسریٰ کو اس کے بارے میں بتایا، مگر اس نے یہ تصحیح کی کہ یہ اصل میں ایک خاص قسم کے کباب کانام ہے اور یہ ڈش اٹھارہویں صدی میں ا سکندرآفندی نامی ایک صاحب نے ایجاد کی تھی۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 17  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ریسٹورنٹ پہنچ کر میں نے ا سکندر کباب اور باقی لوگوں نے اپنی پسند کی چیزوں کا آرڈر دیا۔ پہلے دن کے بعد سے میں نے یہ شرط عائدکر رکھی تھی کہ اس طرح کی تمام چیزوں کے پیسے میں ہی دوں گا۔ چنانچہ ہم نے دل کھول کے چیزیں منگوائیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھایا۔خیر کباب واقعی اچھے تھے ۔ورنہ اس سے قبل کملیکا ہل پر اسریٰ نے اپنی پسند سے ایک ترکی ڈش کا انتخاب کیا تھا جو ہمیں زیادہ پسند نہیں آئی تھی۔ شاید ترکی لوگ مصالحے کم ڈالتے ہیں ۔

ترکی کے حالات

یہاں ہم سکون سے آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔ میں نے اوزگی اور اسریٰ سے ترکی کے حالات کے بارے میں تفصیل سے معلوم کیا۔ گفتگو ظاہر ہے کہ انگریزی میں اوزگی سے ہورہی تھی ، مگر وہ بیچ بیچ میں اسریٰ سے بات کر کے اس کی رائے معلوم کر کے مجھے بتاتی رہی تھی۔ اوزگی عراقی النسل عربی خاندان کی لڑ کی تھی۔ مگر پیدائشی ترک تھی۔حلیے اور خیالات کے لحاظ سے کمال ازم کے دور میں پروان چڑ ھنے والی مغربی نسل ہی کی طرح تھی۔

وہ طیب اردگان کی سخت مخالف تھی۔ بقول اس کے طیب اردگان مذہب کو استعمال کر رہے ہیں اور اس کے آخری نتائج ترکی کے لیے ایسے ہی خوفناک ہوں گے جیسے پاکستان میں مذہب کے استعمال کے نتائج نکلے ۔میں نے معاشی پالیسیوں کا کریڈٹ اردگان کو دینا چاہا تو اس نے اس کی بھی مخالفت کی۔بقول اس کے جو معاشی ترقی ہورہی ہے وہ اصلاً ایک خاص طبقے کی ترقی ہے جبکہ غریب و امیر کا فرق بڑ ھ رہا ہے ۔ میں نے استنبول میں گاڑ یوں اور خوشحالی کا ذکر کیا تو وہ بولی کہ یہ سب کریڈٹ کارڈ اور بینکوں سے ملنے والے قرضوں کا نتیجہ ہے ۔ظاہرہے کہ یہ ایک نقطہ نظر ہے ۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ طیب اردگان کے عہد میں ترکی نے بے حد ترقی کی ۔ لیرا جو ایک زمانے میں بہت بے وقعت تھا اب کافی بہتر ہو گیا ہے ۔ ٹورازم کے علاوہ چھوٹی صنعتوں میں ترقی ہوئی ہے ۔سیکولر ازم کے جبر کا خاتمہ ہوا ہے ۔

تاہم میں نے اس موقع پر اس سے کوئی بحث نہیں کی۔ لیکن یہ ایک دوسرا نقطہ نظر سامنے آ گیا۔تاہم شام کی جنگ کے حوالے سے یہ لوگ دل و جان سے حکومت کی پالیسی کے حامی تھے ۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت ور ممالک کے لیے جنگ جتنی مفید ہوتی ہے ، ترقی پذیر اورکمزور ممالک کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہوتی ہے ۔

ترکی میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی نے ٹورازم کو کم کر دیا ہے اور ترکی اربوں ڈالر کی آمدنی سے محروم ہو گیا ہے ۔ اسی طرح مذہب اگر سیاست میں استعمال ہونے لگے تو تاریخ بتاتی ہے کہ پھر معاشرے تباہی کی طرف بڑ ھتے ہیں ۔خیال رہے کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ دین نے اجتماعی اور حکومتی سطح پر کوئی حکم نہیں دیا۔اس کا انکار تو کوئی منکر شریعت کرسکتا ہے ۔ یہ عرض کیا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعال کرنا با اعتبار نتیجہ تباہ کن ہوتا ہے ۔ پھر مزید یہ کہ حالیہ دنوں میں ترکی میں انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد جس طرح فتح اللہ گولن کے حامیوں کو کچلا گیا ہے ، اس سے بھی معاشرے میں ایک مستقل کشمکش بڑ ھے گی۔ جبکہ شام کی جنگ کے ساتھ ترکی؛ امریکہ اور مغرب سے بھی تصادم کے راستے کی طرف بڑ ھ رہا ہے ۔ جبکہ سیکولر اور مذہبی طبقات کی ایک باہمی کشمکش پہلے ہی ترکی معاشرے میں جاری ہے ۔

میرے نزدیک ترقی کرنے والی اقوام کو ہمیشہ تصادم سے بچنا چاہیے ۔ چین اس کی بہترین مثال ہے ۔اسی طرح امریکہ نے بھی دوسری جنگ عظیم سے پہلے براہ راست کسی جنگی تصادم میں حصہ نہیں لیا تھا۔ یہی اس کی غیر معمولی ترقی کا راز بن گیا۔ مگر ترکی نے ایک غلط راستے پر قدم رکھ دیا ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے ترکی کی ترقی متاثر ہو گی۔

امن وامان کے معاملات میں اوزگی نے بتایا کہ شہر میں قتل ، ڈاکہ زنی وغیرہ کے معاملات بہت کم ہیں ۔ البتہ جیب کترنے کے معاملات عام ہے ۔ خواتین کو تنگ کرنا، گھورنایا ان کے خلاف دیگر جرائم بہت کم ہیں ۔ حالانکہ یہاں ہر جگہ مغربی خواتین تنہا بھی گھومتی ہیں اور خود ترکی کی بہت سی خواتین بھی مغربی لباس ہی پہنتی ہیں ۔

استنبول میں ہر جگہ اور خاص کر ایوب ڈسٹرکٹ اور سلطان احمد ڈسٹرکٹ کے علاقوں میں باحجاب خواتین اور لڑ کیاں نظر آئیں ۔لیکن نقاب کم کم ہی نظر آیا۔بقول میری اہلیہ کے جو نقاب پوش خواتین نظر آئیں ، وہ بھی عرب تھیں ۔مقامی خواتین زیادہ تر او ورکو ٹ اورا سکارف میں تھیں ۔ مسجدیں بھی آبادہیں ۔ ترکی میں مذہبی جذبہ بہت گہرا ہے جسے اتاترک کا جبر بھی ختم نہ کرسکا۔یہاں سیکڑ وں برس سے تصوف کی روایت بہت مضبوطی سے قائم تھی۔ بدیع الزماں نورسی، فتح اللہ گولن جیسے لوگوں کی جدوجہد سے یہ صوفیانہ اسلام زندہ رہا۔ اس وقت سیاسی اسلام بشکل اردگان اور صوفی اسلام بشکل گولن میں ایک تصادم برپا ہو گیا ہے۔لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ ترکی میں سیاسی اسلام سے کہیں زیادہ صوفی اسلام مضبوط ہے ۔اس کی فکری اورتاریخی اساسات بہت مضبوط ہیں ۔یہ ملک رومی کا ہے ۔ تصوف کے ان سلاسل کا ہے جو صدیوں سے یہاں موجو د رہے ہیں ۔

طیب اردگان کوجو مقبولیت حاصل ہے ، اس میں اصل کرداران کے دورمیں ہونے والی معاشی ترقی کا ہے ۔ یقینا مسلم روایات پر سے پابندی اٹھانے کے عمل کی بھی لوگوں نے بہت تحسین کی ہے ، مگر اب سے پہلے گولن کے سارے ساتھی ان کے حمایتی تھے ۔ اب صورتحال بہت مختلف ہو گی۔ آئندہ آنے والے چند برسوں میں اس کا فیصلہ ہوجائے گا کہ ترکی کا رخ کیا ہو گا۔ تاہم اس کا شدید اندیشہ ہے کہ اردگان کی مقبولیت اور ترکی کی ترقی دونوں خطرے میں پڑ چکی ہیں ۔ترقی پذیر قوموں کے لیے تصادم اچھی چیز نہیں ہوتا۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

سیرناتمام -