فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 279

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 279
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 279

  

ایک دن یہ خبر سب کو حیران کر گئی کہ محمد علی اور زیبا کی شادی ہوگئی ہے۔ وہ دونوں انتہائی خوش و خرّم اور مطمئن نظر آتے رہے ۔دونوں کی جوڑی نے مثال قائم کردی۔محمد علی تادم آخر زیبا کی محبت کا دم بھرتے رہے۔بے پناہ محبت رہی دونوں میں۔محمد علی نے کچھ دن بعد ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایک پرانی طرز کی شاندار کوٹھی کرائے پر حاصل کرلی ہے جس میں وسیع اور سرسبز لان تھا۔ پھلوں کے درخت تھے۔ رنگ برنگے پھولوں سے یہ وسیع و عریض کوٹھی بھری پڑی تھی۔ کوٹھی کے اندر زیبا کی نگرانی میں نہایت سلیقے سے آرائش کی گئی تھی۔ یہ شادی دونوں کیلئے نہایت مبارک و مفید ثابت ہوئی تھی۔ ان دونوں کی فلمیں بے پناہ کامیابیوں سے ہم کنار ہو رہی تھیں۔ پھر انہوں نے علی زیب پروڈکشنز کے نام سے ایک فلم ساز ادارہ بنا لیا اور ان کی پہلی فلم ’’آگ‘‘ سُپرہٹ ہوگئی۔

ماڈل ٹاؤن میں ان کی کوٹھی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی تھی۔ کبھی جوش ملیح آبادی کے اعزاز میں محفلیں آراستہ ہو رہی ہیں اور لاہور کے ہر شعبوں سے تعلق رکھنے والے خوش ذوق لوگ ان میں موجود ہیں۔ کبھی موسیقی کی مجلس سجی ہوئی ہے۔ شاعر، ادیب، مفکّر، فن کار، دانش ور، صحافی، بیورو کریٹس کون سا ممتاز شخص تھا جو علی زیب کے دعوت ناموں کا منتظر نہیں رہتا تھا۔ گرمیوں کی شاموں اور سردیوں کی صبحوں میں کشادہ لان میں کرسیاں لگ جاتیں اور محفل آرائی شروع ہوجاتی۔ کوٹھی کی چھت پر ایک خوب صورت اور وسیع ٹیرس تھا۔ گرمیوں میں رات کے وقت وہاں نشست جما کرتی تھی۔ ہر طرف سے رات کی رانی، موتیا اور چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں سب کو اپنے سحر میں گرفتار کرلیا کرتی تھیں۔ آموں کے تناور درختوں کی شاخیں ٹیرس پر لمبی پھیلی ہوئی تھیں۔ ہاتھ بڑھائیں اور آم توڑ لیں۔ ذوالفقار علی بخاری، صوفی مصطفےٰ تبسم، سیف الدین سیف جیسے سرکردہ شعرا کے علاوہ کئی نئی پود کے شعرا، ادیب، صحافی بھی اکثر اس کوٹھی میں نظر آتے تھے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 278 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

محمد علی اور زیبا کی زندگی کا ایک حسین دور شروع ہو چکا تھا۔ اس دوران میں اس سفر میں کچھ نشیب و فراز بھی آئے مگر سفر جاری رہا۔ ان دونوں کا تذکرہ آئندہ بھی مناسب مواقع پر ہوتا رہے گا۔

***

پاکستان کی فلمی صنعت کو جن لوگوں نے دنیا بھر میں اعزاز و افتخار بخشا، ان میں ایک نام موسیقار غلام حیدر کا بھی ہے۔ ان کی ہُنر مندی اور مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں عفوان شباب ہی میں مسٹر غلام حیدر کے نام سے پکارا جاتاتھا۔ یہ ان کی بے پناہ صلاحیتوں اور تخلیقی کارناموں کا سب سے نمایاں ثبوت ہے۔ لفظ ’’ماسٹر‘‘ بعد میں ان کے نام کا ایک لازمی حصّہ بن گیا اور جب تک ماسٹر غلام حیدر نہ کہا جائے کوئی نہیں پہچانتا کہ یہ کس کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ انہیں اختصار کے طور پر ’’ماسٹر جی ‘‘ کہا جاتا تھا۔ جس طرح جی اے چشتی صاحب کو ’’بابا جی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر وہ نام ہے جس نے ایک زمانے میں ہمالیہ سے راس کماری تک سارے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہندوستان کے تمام گوشوں میں ماسٹرغلام حیدر کے بنائے ہوئے گیت گائے جاتے تھے اور ان کی دُھنیں گنگنائی جاتی تھیں۔ ذرا غور فرمایئے کہ جدید ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی کے باوجود ماسٹر غلام حیدر کے نغمے ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیل گئے تھے اورایک زمانہ ان کی عظمت کا قائل ہوگیا تھا۔ ریڈیو اور گراموفون ریکارڈ ہی اس زمانے میں موسیقی کو لوگوں تک پہنچانے کے ذریعے تھے۔ گراموفون ملک کی کثیر آبادی کی استطاعت سے باہر تھا۔ ریڈیو کا بھی یہی عالم تھا۔ ٹرانسسٹرزکا دور ابھی شروع نہیں ہوا تھا اور ریڈیو بہت کم گھروں میں تھا۔اس کے باوجود ماسٹر غلام حیدر کے نغمات دور دور تک گونجتے تھے اور ہرشخص ان کی مہارت اور کاریگری کا معترف تھا۔ وہ موسیقار جو کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، وہ بھی ماسٹر غلام حیدر کی بڑائی کا اعتراف کرنے پر مجبور تھے۔

موسیقار خواجہ خورشید انور بہت کم ہی کسی کو گردانتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ موسیقار نوشاد کا بھی سرسری طور پر ہی تذکرہ کرتے تھے لیکن انہوں نے ایک بار ماسٹر غلام حیدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔

’’یہ عظیم فن کار آندھی کی طرح آیا اور سیلاب کی مانند پھیل گیا اور انمٹ نقّوش چھوڑ گیا۔‘‘

ماسٹرغلام حیدر کی داستان بھی اتفاقات کا مجموعہ ہے۔ یہ شخص جس نے ایک عظیم موسیقار کے طور پر شہرت حاصل کی، ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ بعض حضرات نے ان کی جائے پیدائش امرتسر کو ٹھہرایا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔ غلام حیدر نے 1906ء میں حیدر آباد سندھ میں جنم لیا تھا۔

ان کے والد کاتعلق امرتسر(پنجاب) سے تھا لیکن وہ ملازمت اور کاروبار کے سلسلے میں حیدر آباد میں مقیم تھے۔ دراصل ماسٹرغلام حیدر کے دادا امرتسر سے نقل مکانی کرکے حیدر آباد سندھ پہنچے تھے چنانچہ غلام حیدر کے والد نے بھی حیدر آباد ہی میں جنم لیا تھا اور ماسٹرغلام حیدر بھی وہیں پیدا ہوئے تھے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ماسٹرغلام حیدر کسی دندان سازکی ملازمت کے سلسلے میں حیدرآباد گئے تھے۔ یہ بھی خلافِ حقیقت ہے۔ دراصل ماسٹرغلام حیدر کے والد دندان سازی کے شعبے سے متعلق تھے۔ اس لئے ہوش سنبھالنے کے بعد غلام حیدر نے بھی والد صاحب کے ساتھ وہی کام شروع کردیا مگر ذاتی رجحان موسیقی کی جانب تھا اس لئے موسیقی اور راگ راگنیوں کے علاوہ انہوں نے طبلہ اور ہارمونیم بجانے کی تربیت بھی حاصل کی تھی اوردونوں سازوں کو بجانے میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ ماسٹرغلام حیدر کو گانے کا بھی شوق تھا۔ ان کی آواز بھاری تھی ۔ وہ خوش گلو اور سُریلے تھے لیکن زیادہ توجہ انہوں نے طبلے اور ہارمونیم کی جانب مبذول کی تھی۔ بعد میں پیانو بھی سیکھا اور وہ اپنی دُھنیں پیانو پر بیٹھ کر ہی بنایا کرتے تھے۔ انہوں نے ممتاز سندھی استاد بی بے خاں کی شاگردی اختیار کی تھی۔ طبعی رجحان کے باعث بہت جلد وہ والد کے پیشے سے تنگ آگئے اوراستاد بی بے خاں کے ساتھ تھیٹریکل کمپنیوں سے وابستہ ہوگئے۔ یہ لوگ گاؤں گاؤں گھومتے تھے اور تھیٹر دکھاتے تھے۔ استاد بی بے خاں اورغلام حیدر بھی تھیٹر کے ساتھ تھے۔ غلام حیدر باجا بجاتے تھے۔ کبھی کبھی گا بھی لیتے تھے مگر انہوں نے سندھ کے دیہات تک ہی اپنی سرگرمیاں محدود رکھی تھیں۔ والد کے انتقال کے بعد انہوں نے موسیقی کے شُغل کیلئے سندھ میں میدان تنگ پایاتو پنجاب کا رُخ کیا۔ لاہور پہنچ کر غلا م حیدر جینو تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ ہوگئے۔ اس کمپنی کا دفتر بیڈن روڈ پر تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ کولمبیا ریکارڈنگ کمپنی سے وابستہ ہوگئے۔ ان کا دفتر بخشی مارکیٹ میں تھا۔ یہ معلومات سعید ملک صاحب نے ہمیں فراہم کی تھیں۔ سعید ملک کو بچپن ہی سے موسیقی کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا۔ استادوں کی صحبت میں رہے اور باقاعدہ ساز و آواز اور راگ راگنیوں کی تربیت حاصل کی۔ خود بھی ریاض کرتے تھے۔ وہ اپنے شوق بلکہ دیوانگی کی وجہ سے موسیقاروں اور اس فن کے ماہرین کی محفلوں میں ہی زیادہ وقت بسر کرتے تھے۔ استاد سردار خاں کی باقاعدہ شاگردی بھی اختیار کی تھی جو اپنے فن میں یکتا تھے۔ سعید ملک صاحب نے بھی معاش کی خاطر غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت کی لیکن موسیقی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ وہ موسیقی کے مختلف شعبوں کے بارے میں انگریزی اخبارات میں مضامین اور کالم لکھتے تھے اور اس ہنر میں ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔ سعید ملک صاحب نے موسیقی اور موسیقاروں کے بارے میں گہری چھان بین کی ۔ بہت سے استادوں کی صحبت میں بھی رہے اور بڑے بڑے ماہرین فن سے استفادہ کیا جس کی وجہ سے اس بارے میں ان کی معلومات بالکل درست اور حقائق پر مبنی ہیں۔ وہ ماسٹرغلام حیدر کواپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ ماسٹرغلام حیدر انتہائی رعب اور کلّے ٹھلّے کے آدمی تھے۔ رنگ تو سیاہ تھا لیکن شخصیت میں کشش اور بلا کا رعب داب تھا۔ سعید ملک صاحب نے بتایا کہ میں ماسٹر جی کی صحبت میں سہما ہوا اور خوف زدہ رہتا تھا۔ کچھ تو ان کی عمر کم تھی اور کچھ یہ کہ ماسٹر جی کی شخصیت بہت بارعب تھی۔ ان کی موجودگی میں بڑے بڑے فن کاروں کی سٹّی گم ہوجاتی تھی۔سعید ملک صاحب نے کہا کہ ایسا رُعب انہوں نے صرف دوہی موسیقاروں میں دیکھا۔ایک ماسٹرغلام حیدر تھے اور دوسرے خواجہ خورشید انور۔ بڑے نامور گانے والے اور سازندے بھی ان دونوں کے سامنے مؤدب رہتے تھے اور ان کے حکم سے سرتابی کی کسی میں مجال نہ تھی۔

ماسٹرغلام حیدر خوش گُلو بھی تھے مگر زیادہ ریاض طبلہ اور ہارمونیم جیسے سازوں کیلئے کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب موسیقی اور طبلہ ہارمونیم کے سوا انہیں زندگی میں کسی اور چیز کا ہوش ہی نہ رہا تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 280 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -