لاہور کا وہ علاقہ جو نئے پاکستان کا حصہ نہیں 

لاہور کا وہ علاقہ جو نئے پاکستان کا حصہ نہیں 
لاہور کا وہ علاقہ جو نئے پاکستان کا حصہ نہیں 

  

تحریک انصاف بر سر اقتدار آ چکی ہے اور سو دن کے الٹی میٹم کی اُلٹی گنتی شروع ہو چکی ہیں جس کے تناظر میں حکمران جماعت اپنے ترقیاتی کاموں کی فہرست مرتب کرنے میں مشغول ہو چکی ہے اور اپوزیشن جماعت حکومت کی سو دن میں ہونے والی سو غلطیاں ڈھونڈنے میں مصروف عمل ہے۔ اسی سو دن کے حساب کتاب میں ملک پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دل لاہور کے علاقہ PP-168 میں 13 دسمبر 2018 ء کو ضمنی انتخابی معرکہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ انتخابی دنگل بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ PP-168 وہ علاقہ ہے جہاں سے حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن خواجہ سعد رفیق عوامی نمائندگی حاصل کر کے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اس علاقے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر سعد رفیق کی جانب سے دوسرے حلقے میں ضمنی انتخاب میں رُکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعداس علاقے کی نشست کو چھوڑنا پڑا تھا۔یوں خواجہ سعد رفیق عوامی امنگوں کو پورا نا کرتے ہوئے اس علاقے کے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے راہ فرار اختیار کر گئے ۔ PP-168 لیاقت آباد، ماڈل ٹاؤن، پنڈی راجپوتاں ، اسماعیل نگر، کوٹ لکھپت ، چونگی امر سدھو، گرین ٹاؤن، مریم کالونی، ستارہ کالونی، داتا ٹاؤن، کماہاں روڈ اور بابا فرید کالونی جیسی بڑی آبادیوں پرمشتمل ہے جس میں لگ بھگ ایک لاکھ چھبیس ہزار نو سو آٹھ ووٹ رجسٹرڈ ہیں اگر13 دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کی بات کی جائے تو ان علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے رانا خالد محمود قادری انتخاب لڑ رہے ہیں جو کہ پچھلے انتخابات میں ہارچکے تھے جبکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ملک اسدعلی کھوکھر اُن کے مد مقابل ہیں جو کہ حالیہ انتخابات میں شریف خاندان کے علاقہ جاتی امراء NA-136 سے (ن) لیگ کے امیدوار ملک محمد افضل کھوکھر کے ہاتھوں چوالیس ہزار ایک سو باسٹھ ووٹوں سے شکست سے دو چار ہو چکے ہیں جو کہ یقیناََ بہت بڑی ہار ہے اور اب ضمنی انتخاب میں پھر سے قسمت آزمانے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔یہاں پر یونین کونسل 229 کی بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو کہ کچا جیل روڈ، بابا فرید کالونی، بابر چوک، گوندل چوک، قائد ملت کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل ہے ان علاقوں میں نئے آنے والے امیدواروں کے لئے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں جن میں سر فہرست پینے کا صاف پانی ہے جو کہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے ان علاقوں کے پرانے پائپ بوسیدہ ہو چکے ہیں گھروں میں بناء بجلی کی موٹروں کے پانی آنا نا ممکن ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دور دراز کے علاقوں میں لگے فلٹریشن پلانٹ جو کہ سابقہ(ن) لیگی حکومت کا کارنامہ ہے سے پانی بھر کے لانے پر مجبور ہیں۔پانی کے بعد یہاں پر سب سے دیرینہ مسئلہ نکاسی آب کا ہے، آئے دن گٹر اُبلتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ مکین تعفن کا شکار ہو رہے ہیں۔ بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جن میں قابل ذکر ہیپا ٹائٹس (یرقان)، ٹائیفائڈ، ڈائریا، گیسٹرو اور دوسری جان لیوا بیماریاں شامل ہیں جن کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔ اس کے ساتھ نمازی حضرات کو نماز پڑھنے کے لئے مسجدوں تک جانے کے لئے بڑی مشکلات پیش آتی ہیں ۔اس ضمن میں واسا کے اعلیٰ افسران کو متعدد بار علاقہ مکینوں کی جانب سے مسئلہ کے حل کے لئے درخواستیں دی گئیں ہیں مگر حکومت میں تبدیلی آنے کے باوجود اداروں میں تبدیلی کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔یوں وہ افسران یہاں کے مسائل حل کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔حال ہی میں یونین کونسل 229 کے (ن) لیگی چیئر مین و وائس چیئر مین کی ذاتی دلچسپی کی بدولت محدود فنڈ میں چندعلاقوں میں گلیاں پکی کروائی گئی ہیں جبکہ زیادہ تر علاقے فنڈز کی کمی کے باعث پکی گلیوں کی سہولت سے محروم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چند ایک مقامات پر ڈسپوزل پمپ لگائے گئے ہیں جن میں چندرائے روڈ، المصطفیٰ کالونی میں چھ کیوسک کا ڈسپوزل پلانٹ ، جبکہ ایک پلانٹ کچا جیل روڈ شنگھائی پل کے قریب لگایا گیا ہے یہ بھی مقامی آبادی کے لئے نعمت سے کم نہیں مگر یہ مختصر کام اتنی بڑی آبادی کے سیوریج سسٹم کے لئے نا کافی ہے اور ذرا سی بارش ہونے کے ساتھ ہی پانی گٹروں سے نکلنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے مقامی لوگ مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت کا شکار نظر آتے ہیں سیوریج کے بعد سب سے بڑا مسئلہ قبرستان کا ہے جو کہ یو سی 229 کا اکلوتا قبرستان ہے اور یہاں کے مکینوں کو مرنے کے بعد جگہ دینے کے لئے نا کافی ہے ایک ایک قبر میں کئی مردے دفن کئے جا چکے ہیں جبکہ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے عقب میں واقع قبرستان کے ساتھ ریس کورس کی ملحقہ جگہ خالی ہے جو کہ بیابان کا منظر پیش کرتی ہے۔ اگر اس زمین کو قبرستان کا حصہ بنا دیا جائے تو علاقے کا قبرستان کا مسئلہ آسانی کے ساتھ حل ہو سکتا ہے ۔

قبرستان کے بعد یہاں کے مکین تعلیم جیسی سہولت سے بھی محروم نظر آتے ہیں کیونکہ علاقے میں بچیوں کے لئے سرکاری سطح پر کوئی سکول و کالج نہیں ہے لوگ دور درازکے سرکاری سکولوں میں اپنی بچیوں کو بھیجنے پر مجبور ہیں جس مد میں ان کو ٹرانسپورٹ کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر موجودہ حالات میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے واقعات کی بدولت انجانے خوف کا سامنا بھی رہتا ہے اس لئے اکثر لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں الغرض یونین کونسل 229 میں عوامی مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کی بدولت علاقہ مکین بُری طرح سے ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور کشمکش کا شکار ہیں کہ اب کی بارضمنی انتخاب میں کس کو ووٹ دیں کیونکہ عرصے دراز سے اس علاقے میں (ن) لیگ کے نمائندے منتخب ہوتے رہے ہیں اور کامیاب ہونے کے بعد کسی ایم این اے یا کسی ایم پی اے کو توفیق حاصل نہیں ہوئی کہ اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ مسائل کے متعلق بات چیت کر کے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تا کہ یہاں کہ مکین جنہوں نے ان امیدواروں کو کامیاب کروایا اُن کی داد رسی ہو سکے ان مسائل کے علاوہ ٹوٹی سڑکیں، گیس کی قلت، چوری، ڈکیتی و راہزنی کی وارداتیں عام بات ہے تبدیلی کے جدید دور میں بھی عوام مضافاتی علاقوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اب جبکہ انتخابی عمل کے دن قریب ہیں پھر سے امیدوار جوق در جوق آ رہے ہیں اور علاقہ مکینوں کو جھوٹے دعووں کے ساتھ جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں اور پھر کامیاب ہونے کے بعد علاقہ مکینوں کو تن تنہا چھوڑ کر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو جائیں گے اور عوام اپنے مقدر کو کوستے رہیں گے اس لئے وزیر اعظم عمران خان صاحب، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سینئر وزیر بلدیات عبدالعلیم خان اور مئیر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید سے گزارش ہے کہ خدارا یہ علاقہ بھی نئے پاکستان کا حصہ ہے اور جبکہ اب آپ کی حکومت بھی آ چکی ہے اس لئے اس علاقے کے لوگوں کی زندگی پر بھی نظر دوڑائی جائے اور ضمنی الیکشن کو پس پشت ڈال کر کہ کون سی جماعت کا نمائندہ منتخب ہوتا ہے اس علاقے کے لوگوں کو ان کے جائز حقوق مہیا کیے جائیں جن میں صاف پانی کی لائنیں، فلٹریشن پلانٹ، گندے پانی کے نکاس کے لئے ڈسپوزل سسٹم، کھیل کود کے لئے گراؤنڈز، بچیوں کے لئے سکول، سفر کے لئے سڑکیں، کھانا بنانے کے لئے گیس کی ہمہ وقت فراہمی،لوٹ مار کے تدارک کے لئے پولیس کے موثر گشت کی یقینی اور سب سے بڑھ کر مرنے کے لئے دو گز زمین کی جگہ تا کہ یونین کونسل 229 اور PP-168 کے لوگوں کو بھی حقیقی تبدیلی کا ثمر نصیب ہوسکے۔

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید :

بلاگ -