چیف جسٹس بنام وزیراعظم عمران خان

چیف جسٹس بنام وزیراعظم عمران خان

  



چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان عدلیہ کو طاقت ور کا طعنہ نہ دیں، سابق وزیراعظم نواز شریف کے باہر جانے کے معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جس کیس کا طعنہ وزیراعظم نے دیا، اس میں باہر جانے کی اجازت انہوں نے خود دی، عدلیہ میں صرف طریقہ کار کے حوالے سے بحث ہوئی۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج کی عدلیہ کا تقابلی جائزہ 2009ء سے پہلے والی عدلیہ سے نہ کریں۔انہوں نے کہا ہم نے دو وزرائے اعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا، جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا فیصلہ جلد آنے والا ہے۔چیف جسٹس نے وزیراعظم کو گفتگو میں احتیاط کا مشورہ بھی دیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کی موبائل ایپ اور ریسرچ سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم کی جانب سے دو روز قبل کی جانے والی تقریر پر یہ ردعمل دیا۔دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ موٹروے کی افتتاحی تقریب سے تند و تیز لہجے میں خطاب کیا۔ اس تقریر کے دوران انہوں نے سیاسی مخالفین کی نقلیں اُتاریں اور انہیں ایسے الفاظ میں مخاطب بھی کیا،جو شائد وزیراعظم کے منصب کے شانِ شایان نہیں۔اس ہی تقریر میں انہوں نے ملک کے دو سینئر ترین ججز کو مخاطب کر کے قوم کو انصاف دے کر آزادی دلانے کی اپیل بھی کی۔ نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کے معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے عدالتوں سے طاقتوروں اور کمزوروں کے لئے الگ الگ رویوں کا شکوہ بھی کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی اس تقریر نے ازخود بہت سی قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ دو دن کی چھٹی کے بعد ان کے لہجے کی تیزی تجزیہ کاروں کی سمجھ سے بالا تر تھی۔ کسی نے اس کی وجہ انتظامی معاملات میں خاطر خواہ پرفارمنس دکھانے میں ناکامی کو قرار دیا تو میڈیا میں بہت سے لوگ یہ کہتے بھی پائے گئے کہ شائد کچھ معاملات ایسے ہیں جو وزیراعظم کی منشاء کے مطابق نہیں چلائے جارہے اور ان کے لہجے میں کرختگی میں اضافے کی وجہ یہی بے بسی ہے۔

اس تقریر میں وزیراعظم عمران خان نے عدلیہ کے حوالے سے جو گفتگو کی وہ یقینا حقائق کے منافی ہے۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے جواب میں بھی یاد دلایا کہ یہ وہی عدلیہ ہے، جس نے دو وزرائے اعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا۔ اگر آج ملک کے چیف جسٹس ثاقب نثار یا افتخار چودھری ہوتے تو شائد ان جملوں پر وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا جاتا اور مشکل سے ہی جان بخشی ہوتی۔تاہم آصف کھوسہ ذرا مختلف مزاج کے چیف جسٹس ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے سوو موٹو کا اختیار استعمال نہیں کیا اور اپنی توجہ عدالتوں کے انتظامی امور پر مرکوز کر رکھی ہے، صرف ایک سال کے دوران 36لاکھ مقدمات کے فیصلے کئے گئے، ماڈل کورٹس بنائی گئیں، اس حوالے سے چیف جسٹس نے انکشاف کیا کہ 20 اضلاع میں کوئی سول اور فیملی اپیل زیر التوا نہیں، 23 اضلاع میں منشیات کا کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں اور 17 اضلاع میں قتل کا کوئی مقدمہ زیر التواء نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت کو ہدف بناتے ہوئے وزیراعظم عمران خان بھول گئے کہ ان ہی عدالتوں سے خود انہیں بھی ریلیف ملا۔ ان ہی عدالتوں نے انہیں صادق اور امین قرار دیا، ان کے خلاف حنیف عباسی کی درخواست رد کی اور وزیراعظم کے بہت سے طاقتور مخالفین بھی ان ہی عدالتوں کا نشانہ بنے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو عہدے سے ہٹا کر مجرم قرار دیا گیا اور پابند سلاسل کیا گیا۔ ان کے علاوہ ان کا پورا خاندان اور پارٹی کے بڑے بڑے رہنما متواتر ان ہی عدالتوں کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔بہتری کی گنجائش بہرحال ہر جگہ موجود ہوتی ہے،لیکن پاکستانی عدالتوں کو طاقت ور کے سامنے جھک جانے کا طعنہ یقینا زمینی حقائق کے خلاف ہے۔

آج سے قریباً 14 ماہ قبل تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو عمران خان کے حامی تو ایک طرف، ان کے مخالفین کو بھی ان سے بہت سی توقعات تھیں۔ عام تاثر تھا کہ انتظامی امور میں واضح بہتری اور کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ کئی سال سے مسلسل نشر ہونے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانوں نے ہر عام و خاص پاکستانی کو یقین دلا دیا تھا کہ یہ جماعت حکومت میں آئے گی تو بیرون ملک پاکستانی اپنے اربوں ڈالر اس ملک میں لے آئیں گے۔ دُنیا بھر سے مختلف شعبوں کے ماہر پاکستانی اپنا بوریا بسترا لپیٹ کر وطن واپس آ جائیں گے، اس طرح پاکستان کی رگوں میں نیا خون دوڑنے لگ جائے گا اور ملک تیزی سے آگے بڑھے گا۔ تاہم ان 14 ماہ میں جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ وزیراعظم عمران خان سمیت تحریک انصاف کے اہم رہنما آج تک خود کو یہ یقین دلانے میں ہی کامیاب نہیں ہو سکے کہ اب وہ اپوزیشن نہیں،بلکہ برسر اقتدار جماعت کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم اور وزرا اپوزیشن سے الجھتے رہے اور وسعت قلبی کا مظاہرہ نہ کر پائے۔ تند و تیز بیانات نے درجہ حرارت کم ہونے دیا اور نہ ہی معیشت کے استحکام کے لئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکا۔ انتظامی امور چلانے کے معاملے میں اربابِ اختیار کی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں اور ہوتی جارہی ہیں۔ اسد عمر کو ناکام وزیرخزانہ کہہ کر حکومت سے نکالا گیا، پھر ان کے وزیر پٹرولیم بننے کی خبر آئی اور بالآخر انہیں منصوبہ بندی کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ اسی طرح بہت سے معاملات میں فیصلے کئے گئے اور ان کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی رُخ تبدیل کرلیا گیا۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ حکومت کی پہچان انتظامی میدان میں اس کی کارکردگی سے ہوتی ہے۔ اب بھی وقت ہے، حکومت کو چاہئے اپنی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز کرے۔ مخالفین یا دیگر اداروں پر برسنے سے کوئی بھی موافق نتیجہ نکلنے کی توقع نہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی جانب سے وزیراعظم کو جواب کے بعد سے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے، تحریک انصاف کے حامی اور کارکن،جس لہجے اور الفاظ میں عدلیہ کو ’جواب در جواب‘ دے رہے ہیں، وہ یقینا آگ سے کھیل رہے ہیں۔ عدلیہ کے ساتھ اپنے مخالف سیاست دانوں جیسا رویہ روا رکھنا ذرا بھی سمجھداری نہیں، وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ الفاظ کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کریں اور اپنے حامیوں کو بھی یہی سبق پڑھائیں۔ جو وعدے عوام سے کئے گئے، اس وقت تمام تر توجہ انہیں پورا کرنے پر مرکوز ہونی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ