غیر ملکی فنڈنگ کیس؟

غیر ملکی فنڈنگ کیس؟

  



پاکستان الیکشن کمیشن نے حزب اختلاف کی درخواست منظور کر لی ہے، جس میں استدعا کی گئی تھی کہ تحریک انصاف فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ بدھ کے روز حزب اختلاف کی نو جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل رہبر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی باقاعدہ درخواست بھی دی کہ تحریک انصاف فنڈنگ کیس گزشتہ پانچ سال سے چل رہا ہے۔ ابھی تک فیصلے کی نوبت نہیں آئی اور تحریک انصاف کی طرف سے سماعت سے التوا لیا جاتا رہا ہے۔ اب بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ درخواست منظور کر لی کہ سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو، الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس جاری کر دیئے گئے کہ 26نومبر سے یہ سماعت شروع ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کو بھی نوٹس جاری کئے کہ وہ بھی اپنے نمائندوں کے ذریعے 26نومبر ہی کو سکروٹنی کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر فنڈز کی سکروٹنی کرائیں۔اس صورت حال پر دلچسپ تبصرے بھی جاری ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نمازیں بخشوانے گئے اور روزے گلے پڑ گئے، حالانکہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ فنڈنگ کی تحقیق کا معاملہ پہلے ہی الیکشن کمیشن میں زیر غور تھا اور اب دونوں سابقہ حکمرانوں جماعتوں کو بھی حساب پیش کرکے اس کی چھان بین کرانے کو کہا گیا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں فنڈنگ کیس کے بارے میں کہا کہ فکر کی بات نہیں، سب ٹھیک ہے۔یہ بالکل درست ہے کہ تحریک انصاف کے فنڈز کے حوالے سے خود جماعت کے ایک بنیادی رکن نے درخواست دائر کی اور وہ سماعت پر پیش بھی ہوتے رہے اور یہ شکوہ بھی کرتے رہے کہ التوا لیا جا رہا ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ایسا ہوتا آیا ہے، اب بھی الیکشن کمیشن کے حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہوا ہے۔ گزشتہ روز کی تاریخ سماعت پر ایک بار پھر تحریک انصاف کے وکیل پیش نہ ہوئے اور التوا کی درخواست کی گئی جس پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔اگر وزیراعظم پر اعتماد ہیں تو پھر اتنی تاخیر کی کیا وجہ ہے۔ ان کے لئے بہتر تو یہی تھا کہ اس کا فیصلہ پہلے کرا لیتے اور تلوار نہ لٹکتی رہتی اور نہ کسی کو پروپیگنڈہ کا موقع ملتا۔ بہرحال اب اگر روزانہ سماعت کا فیصلہ ہو گیا ہے تو سر تسلیم خم کرکے سماعت مکمل کراکے فیصلہ حاصل کرنا چاہیے۔تجزیہ نگار اور تمام لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں اگر ناجائز فنڈنگ ثابت ہو گئی تو جماعت کی رجسٹریشن منسوخ ہو جائے گی جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ بہرحال جو بھی ہے، انصاف تو ہونے دیا جائے۔ اب تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی بھی اسی پلڑے میں ہیں ان کو بھی التوا کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ