ہمارا نظام تعلیم اور سکول!

ہمارا نظام تعلیم اور سکول!
ہمارا نظام تعلیم اور سکول!

  



اپنے کام پر جاتے ہوئے مجھے صبح علامہ اقبال ٹاؤن،جوہر ٹاؤن اور ٹاؤن شپ سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سفر میں مختلف سکولوں کے پاس سے گزرنا ہوتا ہے،جس میں مہنگے سکولوں والی فیسوں سمیت مختلف درجات کے سکول ہوتے ہیں۔تعلیم طالب علم کو علم کے زیور کے ساتھ ایک اچھا انسان بننے میں بھی مدد دیتی ہے،جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہو،تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں، ایک چاک و چوبند شہری بناتی ہیں۔ایک وقت ایسا تھا کہ سکول کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں کے لئے گراؤنڈ کا ہونا لازمی ہوتا تھا تاکہ طلباء تعلیم کے ساتھ صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ سکول کو آبادی سے ہٹ کر بھی بنایا جاتا تھا تاکہ بازاروں اور رہائشی علاقوں کی سرگرمیاں ان کی پڑھائی وغیرہ پر اثر انداز نہ ہوں اور کھلے گراؤنڈ اور درخت ان کو صاف اور آلودگی سے پاک فضاء بھی مہیا کریں۔

اساتذہ بچوں کی پڑھائی کے علاوہ ان کی اخلاقی اقدار کو بہتر کرنے میں بھی مدد گار ہوتے تھے۔اساتذہ کا اپنا طرزِ زندگی شاگردوں کے لئے رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ شاگرد استاد کی دِل سے عزت کرتے تھے اور وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے ساتھ بے ادبی سے پیش آئیں۔ان دنوں بچوں کے علمی معیار کو بڑھانے اور پڑھائی میں کمی کو دور کرنے کے لئے بغیر معاوضہ سکول ٹائم کے بعد اضافی کلاسوں کا اجراء بھی ہوتا تھا، لیکن آج کے اس دور میں پانچ مرلہ اور دس مرلہ کے رقبہ پر بنے ہوئے سکول عمارت کم،ڈربے زیادہ نظر آتے ہیں،چھوٹے چھوٹے کمروں میں طلباء کو ٹھونسا جاتا ہے،جہاں پہلے تو اُن کو ان کی صحت اور ضرورت کے مطابق آکسیجن نہیں ملتی اور زیادہ تعداد کے باعث بچوں کی سانسوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ جاتی ہے جو اُن بچوں کی صحت کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے۔

ان چھوٹے کمروں میں بچوں کو پڑھائی کے بعد کوئی ایسی جگہ نہیں ملتی،جہاں وہ غیر نصابی سرگرمیوں، مثلاً کھیل کود میں حصہ لے سکیں،جو ان کی نشوو نما کا نہایت اہم جزو ہے۔اس سے نہ صرف وہ جسمانی طور پرکمزوررہ جاتے ہیں،بلکہ ان کا دماغ بھی بہتر طور پر کام نہیں کرتا۔افسوس کا مقام ہے کہ اربابِ اختیار کا دھیان اس طرف بالکل نہیں،حتیٰ کہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھاری فیسیں وصول کرنے والے سکولوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں،ایک ہزار سے زیادہ تعداد کے سکول میں بھی کوئی مناسب گراؤنڈ نہیں۔خود ہی اندازہ کر لیں کہ دس مرلہ،کنال اور دو کنال کے سکول میں کہاں سے آپ ان کو صحت مند سرگرمیاں مہیا کریں گے؟

آج کے اس دور میں ادارے کا معیار کیا ہوتا ہے اس سے قطع نظر گریڈز اور سکول کی بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے سکولوں اور کالجوں کی اکثریت اس طرف توجہ دیتی ہے کہ بچوں کو رٹا کیسے لگوانا ہے؟ کہ وہ اچھے نمبر لیں تاکہ ان کے سکول کی پبلسٹی ہو اور زیادہ سے زیادہ بچے ان کے پاس داخل ہوں اور ان کا منافع بڑھے۔ہم نے یہ سنا تھا کہ تعلیم دینا پیغمبری کام ہے، لیکن پاکستان میں اس وقت دوڑ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے آئیں تاکہ ان سکولوں کی آمدنی بڑھے اور وہ زیادہ سے زیادہ دولت کما سکیں۔آج سے تیس،چالیس سال پہلے گورنمنٹ سکول کا اپنا معیار ہوتا تھا،جہاں اساتذہ پڑھے لکھے اور تجربہ کار ہونے کے ساتھ طالب علموں کی ہر طرح کی نشوونما میں مدد گار ہوتے تھے،پھر سکولوں کے بچوں میں سیاست اور اقرباء پروری کے عمل نے تعلیمی انحطاط کی بنیاد رکھی دی۔

اساتذہ نے سکولوں میں پڑھائی کی طرف توجہ کم کر دی اور بچوں کو ان کی پرائیویٹ اکیڈیمیوں میں داخلے کے لئے مجبور کرنا شروع کر دیا، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ وہ سکول پڑھائی میں کھنڈر بنتے گئے، جہاں ایک وقت طلباء ان میں داخلہ حاصل کرنا اعزاز سمجھتے تھے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ چاہے سکول انگلش میڈیم ہو یا دیسی میڈیم، مہنگا ہو یا سستا۔ پوزیشن اور نمبروں کی دوڑ نے سکول کے بعد اکیڈمی کی تعلیم نے نہ صرف والدین کا خرچہ بڑھا دیا ہے، بلکہ وہ ان کے اخراجات پورے کرنے کے لئے یا تو اوور ٹائم کرنے پر مجبور ہیں یا دو نمبری سے پیسے کماتے ہیں۔ اس نمبروں کی دوڑ نے ماں باپ،بچوں اور اساتذہ میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔

بچہ صبح سکول جاتا ہے دوپہر کو واپس آکر کھانا کھاکر عازم اکیڈمی ہو جاتا ہے،جہاں سے وہ رات گئے واپس آتا ہے۔پھر کھانا کھا کر سونے چلا جاتا ہے۔یہ بات سوچنے اور غور کرنے کے لائق ہے کہ ماں باپ اور بچوں میں ایک دوسروں کو سمجھنے اور ان کی دوسری تربیت کرنے کے لئے وقت کہاں رہتا ہے؟وہ بچوں کو ایک اچھا اور ہمدرد انسان بنانے کی بجائے ایک خود غرض مشین بنانے کا عمل جاری رکھتے ہیں،جب آپ کے اندر گھروالوں کے ساتھ روابط نہ ہوں تو آپ کا دوسرے لوگوں کے ساتھ جذبہ ئ ہمدردی بھی ختم یا بہت کم رہ جاتا ہے، کیونکہ بچے کو صرف یہ فکر ہوتی ہے کہ مَیں نے نمبر لینے ہیں بس اور کچھ نہیں۔ اس سے وہ خود غرضی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔

آج کے اس دور میں حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں کیا ہو رہا ہے؟ صرف نوٹ ہی چھاپے جا رہے ہیں یا اس کے طے شدہ طریق کار کے مطابق بچوں کی ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی نشوونما کی طرف بھی توجہ دی جارہی ہے؟اگر ضابطہ کار پر عمل نہیں ہو رہا تو ان سکولوں اور کالجوں کو پہلے وارننگ پھر جرمانے کئے جائیں۔اسی طرح گورنمنٹ کے زیر اہتمام چلنے والے سکولوں اور کالجوں کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہاں کا معیار تعلیم اور ذریعہ تعلیم کیسا ہے؟ اساتذہ کی اکیڈیمی قائم کرنے یا پڑھانے پر سختی سے پابندی لگائی جائے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے نام والے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ خود اکیڈیمیاں چلارہے ہیں یا اکیڈیمیوں میں پڑھاتے ہیں۔کیا وہ اپنی ملازمت سے وفا کر رہے ہیں؟کیا وہ چوری کے مرتکب نہیں ہو رہے؟ ایک طرف وہ اپنی نوکری پوری نہیں کرتے،دوسری طرف ٹیویشنوں کی آمدن سے ٹیکس کی بھی چوری کرتے ہیں۔

اربابِ اختیار چاہے، وہ سیاست دان ہوں، بیورو کریٹ ہوں یا ٹیکنو کریٹ،جن کی بچپن سے جوانی تک خود غرضی کی ٹریننگ ہو۔وہ ملک اور لوگوں کو صحیح راہ پر کیسے چلا سکتے ہیں؟ہمارا ملک بھی ترقی کر سکتا ہے اگر ہم نظام تعلیم کی دو نمبریوں کو ختم کر دیں اور تمام کالجوں اور سکولوں میں، چاہے وہ پرائیویٹ ہوں یا سرکاری، تعلیم اور نظریہ تعلیم کا اجراء کر سکیں۔مَیں آخر میں اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ پرائیویٹ سکولوں میں اچھے اچھے سکولوں میں بی اے بی ایڈ اساتذہ کو آٹھ سے دس ہزار تک تنخواہ دی جارہی ہے اگر ایک استاد کی تنخواہ اتنی کم ہو گی کہ وہ اپنا گھر نہ چلا سکے تو وہ اپنے کام سے انصاف کیسے کر سکے گا؟

مزید : رائے /کالم