سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی انصاف چاہئے

سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی انصاف چاہئے
سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی انصاف چاہئے

  



لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان کے فیصلے کے بعد میاں نواز شریف اپنے معالج ڈاکٹر عدنان اور بھائی قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کے ہمراہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ لاہور سے قطر ایئر ایمبولینس کے ذریعے طبی معائنے کے لئے لندن روانہ ہو گئے،جہاں سے علاج معالجے کے لئے امریکہ جائیں گے۔ طبی معائنے اور علاج معالجے کے لئے اس طویل ترین سفر کے لئے سرکاری میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر سٹیرائیڈ ہائی ڈوز دے کر مریض کو تیار کر کے ایئر ایمبولینس پر سوار کرایا گیا،تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کی خطرناک بیماری پر حکومت کے رویے اور حکومتی اداروں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور ٹی وی چینلوں پران کی بیماری پر سیاست اور بحث سے عوام میں ان کے لئے ہمدردی کے مزید جذبات پیدا ہوئے اور ان لوگوں نے بھی میاں نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دُعائیں مانگی ہیں،جنہوں نے مسلم لیگ(ن)کی بجائے ان کے مخالف امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کرایا تھا،لیکن آج ان کی ہمدردیاں بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔

میاں نواز شریف نے جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں ایک کروڑ28لاکھ ووٹروں کے علاوہ بھی کروڑوں لوگوں نے صحت یابی کی دُعاؤں کے ساتھ علاج کے لئے لندن روانہ کیا ہے، حتیٰ کہ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق سعودی عرب میں حرمین شریفین میں بھی ان کی صحت کے لئے خصوصی دُعائیں مانگی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہنے کا قومی امکان ہے،جبکہ ملک میں حکومتی حلقوں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے غیر منافع بخش بحث کا آغاز کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اب یہ بحث بے وقت کی راگنی ہے۔میاں نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف حکومت کو نہیں لاہور ہائی کورٹ کو جواب دہ ہوں گے،اس میں مجھے اور آپ کو پریشان ہونے کی قعطاً ضرورت نہیں۔عدالت عالیہ نے جو کچھ کیا حقائق کی روشنی میں قانون کی بالادستی اور عوام کے عدلیہ پر انصاف فراہم کرنے کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لئے کیا۔

حکومت کو اپنی غلطی تسلیم کر لینی چاہئے کہ وہ جو کچھ اپنی کابینہ کے کہنے پر کرنے جا رہی تھی اور 7ارب روپے کا شورٹی بانڈ مانگ رہی تھی، غلط مطالبہ تھا، جسے لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا، جس پر ساری حکومت کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اب نواز شریف چار ہفتوں کے لئے لندن اور امریکہ میں اپنا طبی معائنہ اور علاج کرا سکیں گے، ضرورت پڑی تو اس مدت میں توسیع بھی ہو سکے گی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے کو فریقین کی رضا مندی سے حل کیا ہے۔ فیڈریشن نے بھی عدالت کو بتایا کہ ہم تو صرف تحریری ضمانت مانگ رہے تھے، چاہے یہ عدالت عالیہ کو دے دیں۔عدالت عالیہ نے معاملے کو نبٹا دیا، بظاہر ایسا لگا،وزیراعظم عمران خان ملک میں پیدا شدہ سیاسی بحران میں اس نئی پیش رفت سے گھبرا کر دو دن کی رخصت پر آرام کرنے اپنے گھر بنی گالہ چلے گئے اور انہوں نے اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں اور حکومتی سرگرمیاں معطل رکھیں۔

اس کے باوجود وہ اپنے قریبی سیاسی حلقوں، پارٹی رہنماؤں اور قانون کے ماہرین سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بارے میں رائے پوچھتے اور مشورے کرتے رہے۔16نومبر کے فیصلے کے متعلق بقول ماہر قانون بابر اعوان، جو پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بھی ہیں، وزیراعظم عمران نے انہیں کال کی، مگر بدقسمتی سے بابر اعوان اُس وقت جم میں تھے،باہر نکلے اور موبائل چیک کیا تو وزیراعظم کی مس کال دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائے ہوں گے۔ دوبارہ کال آنے کا انتظار کرنے کی بجائے انہوں نے خود فون کر کے وزیراعظم سے ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیراعظم کے سوال پر اُنہیں بتایا کہ عدالت عالیہ میں جمع کرائے گئے میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اپنے بیانِ حلفی کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کو اب سزا دیوانی نہیں، فوجداری مقدمے کے تحت ہو گی،اگر وہ حکومت کو 7ارب روپے کا شورٹی بانڈ دے دیتے تو خلاف ورزی پر ہم دیوانی عدالت میں جاتے، دیوانی مقدمہ چلتا، برسوں بعد مقدمہ ڈگری ہوتا، حکومت بذریعہ تحصیلدار ریکوری، 7ارب روپے ریکور کرتی، یہ ایک طویل پریکٹس تھی، فوجداری توہین عدالت کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل63(1)b پبلک آفس ہولڈر کو نااہل قرار دے سکتا ہے،اس تناظر میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔

اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کے دِل کا بوجھ کم نہیں ہوا،انہوں نے ہزارہ موٹروے فیز2 حویلیاں، شاہ مقصود انٹر چینج کے افتتاح کے موقع پروہ سب کچھ کہہ کر دِل کی بھڑاس نکال لی، جو ملک کے وزیراعظم ہونے کے ناتے ان کے شایانِ شان نہ تھا۔انہیں اِس بات کا احساس نہ رہا کہ وہ جس منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں، وہ منصوبہ بھی نواز شریف کا حویلیاں کے لوگوں کے لئے منظور کیا ہوا ایک تحفہ ہے،جس کے افتتاح پر وزیراعظم عمران خان کے نام کی تختی کی نقاب کشائی ہو رہی ہے۔

ہزارہ موٹروے کی افتتاحی تقریب میں عمران خان کے خطاب کے بعد حویلیاں کے عوام اور مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا ردعمل سامنے آیا ہے کہ آپ تو میاں نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف اور ان کی کابینہ کو چور، ڈاکو اور لٹیرے کہہ رہے ہیں، جب یہ سب لوگ چور ہیں تو ان کے عوامی منصوبوں پر ان کے ناموں کی تختیاں ہٹا کر اپنے نام کی تختی لگا اور دوبارہ افتتاح کیوں کر رہے ہیں؟جس کا عمران خان سمیت ان کے سینکڑوں ترجمانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، حالانکہ یہ صرف ایک شو بازی ہے اور ہلکی شہرت حاصل کرنے کا غیر اخلاقی انداز ہے۔بیمار وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی اجازت کو ایک اچھا اور درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے بلا تاخیر درست اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

عدالت کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزم کہاں جاتا ہے اور کہاں رہتا ہے، عدالت کی منشا تو یہ ہوتی ہے کہ ملزم مقررہ تاریخ پر حاضر ہو۔انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ وزیراعظم کو فیصلہ پسند نہیں آیا تو وہ دو دن کی چھٹی پر چلے گئے،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم ٹینشن میں تھے اور ریلیکس ہونا چاہتے تھے،انہوں نے بتایا کہ سندھ سے فون آ رہے ہیں کہ نواز شریف پنجابی تھے تو اسے باہر بھیج دیا ہے،لیکن آصف علی زرداری کو ذاتی معالج تک رسائی اور ان کے کیس کو کراچی میں سننے کی بجائے اسلام آباد میں سنا جا رہا ہے، صوبائی تعصب کی اِس فضا کو ختم ہونا بہت ضروری ہے۔

مزید : رائے /کالم