کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا.......!

کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا.......!
کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا.......!

  



اس بار کافی عرصے بعد گاؤں جانے کااتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی تبدیلی آچکی ہے اور جن لوگوں نے الیکشن میں ناچ ناچ کر اور ”جب آئے گا عمران،سب کی شان، بنے گا نیا پاکستان“ جیسے نغمے گاگا کر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، وہ اب نئے پاکستان میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کرنہ صرف معافیاں مانگ رہے ہیں،بلکہ پرانے پاکستان کو یاد بھی کررہے ہیں اور پھر سے نوازشریف کے آنے کی دعائیں بھی مانگ رہے ہیں، لیکن حکمرانوں کو اس بات کا احساس نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح کسی ایئر کنڈیشنڈ کار میں بیٹھے انسان کو باہر کی حدت اور گرمی کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اندازہ۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم نے سونامی کے آنے کی بڑی دعائیں کی تھیں، لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ جب سونامی آئے گا تو ہمارا سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔

انہیں جب معلوم ہوا کہ مَیں کسی اخبار میں تیسرے درجے کا لکھاری ہوں تو مجھے اپنا دکھڑا سنانے اور کہنے لگے کہ ہماری حالت زار پر بھی چند الفاظ لکھ ڈالیں، شاید کسی صادق اور امین تک ہماری فریاد جا پہنچے اور ہمارے دکھوں کا مداوا ہو سکے…… لکھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ فریاد کرنے والے ان لوگوں کا تعلق پولٹری سے تھا۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق اس انڈسٹری کا معیشت میں بڑااہم کردار ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا موجودہ ٹرن اوور750 بلین کے لگ بھگ ہے۔ پولٹری انڈسٹری نے بیروزگاری کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 1.5 ملین لوگوں کا کاروبار بالواسطہ یا بلاواسطہ پولٹری انڈسٹری سے منسلک ہے۔نوازشریف کے تینوں ادوار میں اس انڈسٹری نے مثالی ترقی کی۔ پیسے کی چمک دمک ہمارے گاؤں کے لوگوں کوبھی اس میدان میں لے آئی۔انہوں نے زیوراور مویشی بیچے اور حاصل ہونے والاسرمایہ پولٹری فارم بنانے میں لگا دیا۔ یہ صرف میرے ایک گاؤں کی بات نہیں،بلکہ کراچی سے پشاور تک پھیلے بہت سے گاؤں اس سے منسلک ہو گئے۔محتاط اعدادوشمار کے مطابق دور دراز دیہاتوں میں پھیلے ہوئے پولٹری فارموں کی تعداد 20000 سے زائد ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرانے پاکستان میں یہ کتنا منافع بخش کاروباررہا ہوگا۔

اس بات کو اس پہلو سے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ پاکستان میں گوشت کی کل کھپت کا 40فیصد سے لے کر 45 فیصد حصہ پولٹری فارموں سے پورا ہوتا ہے، جبکہ انڈوں کی سالانہ پیداوار 18000 ملین بنڈل ہے۔ انسانی جسم کی نشوونمامیں گوشت کابڑااہم کردار ہے،جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جدید دنیا میں اس کی افادیت اور ضرورت پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے،تا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارہ برائے صحت) کی ایک رپورٹ کے مطابق انسانی جسم کو روزانہ ستائیس گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے،جبکہ پاکستان میں اوسطاً یہ مقدارسترہ گرام ہے۔پولٹری انڈسٹری کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سترہ گرام دستیاب اس مقدار کا بھی پانچ گرام چکن سے پورا ہورہا ہے۔گویا روزانہ کمی کی مقدار دس گرام ہے۔کیلکولیٹر لے کر سالانہ کمی کا حساب آپ خود لگاسکتے ہیں۔پروٹین کی یہ کمی انسانی جسم میں کن پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے اورایک کالم کا متقاضی بھی ہے۔

حکومت پاکستان کے اعدادوشمارکے مطابق 1971ء میں پاکستان میں کھپنے والے کل گوشت کا 61 فیصدبیف سے پورا ہوتا تھا۔مٹن کی مقدار37فیصد،جبکہ چکن کا حصہ 2 فیصدسے 2.5 فیصدہی تھا۔ 2013ء میں چکن کی مقدار 25 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ بیف اورمٹن کی مقدارکم ہو کربالترتیب 55 فیصد اور20 فیصد ہو گئی۔نئے اعداوشمار کے مطابق چکن کی مقدار چالیس سے پینتالیس فیصد ہے۔پاکستانی چکن کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے افغانستان، ترکی، بحرین، ویت نام اور ہانگ کانگ میں اس کی بڑی مانگ بھی تھی۔پولٹری انڈسٹری کی اسی روزافزوں ترقی کی وجہ سے لوگوں نے اپنا سرمایہ اس میں لگایا اورخوب پیسے کمانے لگے۔غریب دیہاتی بھی راتوں رات امیر بننے کے چکر میں اس میدان میں کود پڑے اور ان کے بھی وارے نیارے ہونے لگے۔مَیں جب اس سے پہلے گاؤں گیا تھا تو جگہ جگہ یوں فارم بن رہے تھے، جیسے برسات میں گھاس اگتی ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، خوب پیسا آرہا تھااور لوگ امیر بھی ہورہے تھے، لیکن پھر 2018ء آگیا۔ لوگوں کو نئے پاکستان کے خواب دکھائے گئے اور جب نیا پاکستان وجود میں آگیا توباقی صنعتوں کی طرح پولٹری انڈسٹری بھی سونامی کی زد میں آگئی۔

چکن عام طور پر چالیس دن کے اندر اندر جوان ہو کر مارکیٹ میں بکنے کے لئے آجاتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں ہر چالیس دن میں 50000 ہزار سے 150000 تک منافع ہوجاتا تھا،وہ اب لاکھوں کے مقروض ہو چکے ہیں۔ان کے مطابق یہ سب عمران خان کے سونامی اور تبدیلی کی وجہ سے ہوا ہے۔پی ٹی آئی کی کاروبار دشمن پالیسیوں کی وجہ سے یہ انڈسٹری بھی زوال کا شکار ہو گئی ہے۔یہ انڈسٹری کیسے تباہ ہوئی؟ یہ بات ایک دیہاتی نے مجھے یوں سمجھائی۔ نوازشریف کے دور میں فیڈ کی بوری کی قیمت 2100 روپے تھی،میڈیسن کی مد میں تقریباً 18000 روپے لگ جاتے تھے، جبکہ منڈی اوسطاً پانچ اورسات ہزارکے درمیان رہتی تھی۔نئے پاکستان میں دواؤں کی مد میں اب تقریباً تیس سے چالیس ہزار کی رقم لگ جاتی ہے اور فیڈ کی بوری 2100 سے بڑھ کر 3100 کی ہوچکی ہے یعنی 1000 روپے مہنگی۔3000 چکن مارکیٹ میں آنے تک عموماً 160 بوری فیڈ کھاتا ہے۔آپ ہزار کو ایک سو ساٹھ سے ضرب دیں تو حاصل ہونے والا عدد 160000 ہے۔

پھر ظلم یہ ہوا ہے کہ جب فیڈ کی بوری ہزار روپے سستی تھی تو منڈی اوسطاً پانچ سے سات ہزار روپے ہوتی تھی اور اب جبکہ فیڈ مہنگی ہو چکی ہے توبھی منڈی پانچ سے چھ ہزار کے درمیان رہتی ہے،یعنی حاصل ہونے والا منافع صرف فیڈ کے مہنگا ہونے کی وجہ سے نقصان میں تبدیل ہوگیا ہے اور گاؤں کے وہی لوگ جو کل تک اچھے خاصے امیر تھے اب قرضے کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔یہ تھی مختصر داستان میرے گاؤں کی برباد معیشت کی۔لوگوں کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے عمران احمد خان سے کہہ دیجیے گا: اگر آپ نے نواز شریف اور آصف علی زرداری سے پیسا نکلوا لیا ہو، شاہد خاقان عباسی کی کرپشن کے ثبوت مل گئے ہوں،

رانا ثناء اللہ کے پاس منشیات برآمد ہو گئی ہوں، ریاست مدینہ بن گئی ہو، آپ کی حکومت کو آئے نوے، پھر چھ مہینے اور پھر آپ ہی کے بقول ایک سال گزر چکا ہو، لوگ باہر سے نوکریا ں کرنے پاکستان آ چکے ہوں، بیرون ملک سبز پاسپورٹ کی عزت بڑھ چکی ہو، لاکھوں مکانات بن چکے ہوں، کروڑوں نوکریوں کی برسات ہو چکی ہو، روٹ لگنا بند ہو چکے ہوں، آپ کی اور مزدور کی تنخوا برابر ہو چکی ہو،سانحہ ساہیوال کے قاتل عبرت کا نشان بن چکے ہوں،آپ نے قرضہ لینا بند کردیا ہواور شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پی چکے ہوں تو ایک صرف ایک نظر ادھر بھی دوڑائیے گا۔آپ کا اقبال بلند رہے۔

مزید : رائے /کالم