”سازش اور کرپشن“ کہاں ہے؟

”سازش اور کرپشن“ کہاں ہے؟
”سازش اور کرپشن“ کہاں ہے؟

  



یہ صبح ہی کی بات ہے۔ میں محلے کے قصاب کی دکان پر گوشت لینے گیا تو دو تین گاہک پہلے سے موجود تھےّ گزارش کی کہ مجھے دفتر جانا ہے اس لئے تول کر رکھ لیں، بعد میں بنا کر گھر پہنچا دیجئے گا۔ قصاب نے سر ہلایا کہ کام میں مصروف ہو گیا۔ مطلب یہی تھا کہ پہلے والے گاہکوں کے بعد ہی باری آئے گی۔ میں اپنے ایک سیر صبح کے ساتھی کے ساتھ گپ لگانے میں مصروف ہو گیا کہ باری آنے پر ہی گوشت ملے گا، اتنے میں ایک صحت مند، موٹا تازہ جوان بچے کے ساتھ آیا اور قصاب سے ڈیڑھ کلو ران کا گوشت مانگا، مطلوبہ ران کانٹے پر رکھی اور وزن کیا گیا تو محترم نے اس ران سے چربی وغیرہ نکالنے کا مطالبہ کیا اور صاف گوشت کا وزن کرایا، جب قیمت دینے کی باری آئی تو دکان دار نے سولہ سو روپے مانگے جو گیارہ سو روپے فی کلو سے کچھ کم کے حساب سے تھے۔ گاہک برہم ہوئے اور ساتھ ہی کہا میں سرکاری آدمی اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ سے ہوں، سرکاری نرخ نو سو روپے فی کلو ہیں، تم کو ایک ہزارروپے کے حساب سے دوں گا لہٰذا پندرہ سو لے لو،دکان دار منمنایا کہ آپ نو سو روپے کے حساب ہی سے لیں لیکن پھر معیار بھی وہی ہو گا اور ملا جلا گوشت دیا جائے گا یوں خاص طور پر ران کا گوشت سرکاری نرخ پر بیچنا ممکن نہیں، اس پر وہ صاحب بہت برہم ہوئے اور پندرہ سو روپے ہی دیئے۔

یہ صاحب تاخیر سے آئے اور ہم منتظر گاہکوں سے پہلے گوشت تلوایاکہ ان کو دفتر جانا ہے،میرے ساتھی نے کسی بھی چخ چخ سے بچنے کے لئے برداشت کیا بلکہ خود کہہ دیا تھا کہ ان کو پہلے دے دو، وہ صاحب دکان دار کے کاریگر کو یہ کہہ کر کہ ذرا اچھی طرح بنانا، کوئی اور سودا لینے چلے گئے، ہم ان کا منہ ہی دیکھتے رہ گئے، دکان پر موجود دوسرے تمام گاہکوں کو پریشانی ہوئی اور غصہ بھی آیا،میں منتظر تھا کہ وہ واپس آئیں تو دریافت کروں کہ خالی فوڈ ڈیپارٹمنٹ ہی کافی نہیں کہ یہ ایک بڑا محکمہ ہے، بہتر ہوتا کہ وہ اپنا شعبہ بھی بتا دیتے، بہرحال بات ٹل گئی اور میں گوشت تلوا کر دفتر کی طرف چلا آیا کہ دکان دار گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہ بھی آج کی دکان داری ہے۔ ”ہوم ڈیلیوری فری“ سبھی دکان داروں کا اصول بن گیا ہوا ہے کہ مقابلے کا بھی دور ہے۔

میں نے صیغہ واحد متکلم میں بات شروع اس لئے کی کہ اب یہ میرے اپنے جذبات و خیالات ہیں، ان سے کسی ایڈیٹر، ہم پیشہ، سرکار والا تبار اور اس محکمہ فوڈ والے گاہک کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ میری سوچ یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کپتان عمران خان ”کرپشن فری“ پاکستان بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا تازہ ترین فرمان ہے ”میں مافیاز کے خلاف برسر پیکار ہوں اور آخری دم تک لڑوں گا چاہے میں اکیلا رہ جاؤں، مزید بولے! ان سب کو کسی سے غرض نہیں صرف مجھ سے دشمنی ہے“ کپتان اس سے قبل اپنے خلاف سازش کی بات بھی کئی بار کر چکے اور اب تو انہوں نے ”مافیاز“ کے خلاف جہاد کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے بھی سوال کر لیا اور ادھر سے ان کو جواب بھی مل گیا، چلئے اس پر بعد میں بات کر لیتے ہیں، فی الحال توصبح کا واقع سنا کر یہی عرض کرنا ہے کہ بقول وزیراعظم یہ بڑے مافیاز ہیں اور کرپشن کی دلدل میں گھٹنوں ہی نہیں کمر تک لتھڑے ہوئے ہیں ان کی دانست میں یہ جہاد ہے لیکن جہاں تک عوام کی بات ہے تو ان کو ہر روز کرپٹ افراد سے ہی واسطہ پڑتا ہے وہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں ہوں یا شعبہ قانون کے کسی حصہ سے ان کا تعلق ہے،

یہ عوام کسی بھی سرکاری محکمہ یا اتھارٹی کے پاس کسی جائز کام کے لئے بھی جائیں تو ان کو دھکے ملتے اور رشوت دے کر کام کرانا پڑتا ہے، دکان دار ایسے ”سرکاری ملازمین“ سے زچ ہیں جو ان پر رعب جھاڑتے اور قیمت میں کم پیسے ادا کرتے ہیں، ان صاحب نے تو پھر بھی رحم کیا اور پیسے دے دیئے ورنہ ہم تو ان بے شمار اہلکاروں کو جانتے ہیں جن کا تعلق ایل ڈی اے،کارپوریشن یا ضلعی انتظامیہ سے ہے، یہ حضرات تو رشوت کے بغیر کوئی کام کرنے کے روادار ہی نہیں ہیں، یوں خان محترم کی کرپشن کے خلاف مہم سے یہ محکمے یا شعبے تو بالکل متاثر نہیں ہوئے، محترم!آپ کے دعوے اور جدوجہد کو سلام، ذرا نیچے آیئے اور خود جا کر کسی جائیداد یا مقدمہ کی نقل کسی رشوت کے بغیر لے کر دکھا دیں اور پھر یہ جو ”اینٹی انکروجمنٹ“ سٹاف ہے اس کی کارروائی بھی تو ملاحظہ فرمائیں۔

یہ حضرات ہر روز چند بنچ اور چند کرسیاں اٹھا کر لاتے اور تجاوزات کے خلاف مہم کا جواز پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ خود تجاوز کراتے اور پھر ان سب سے ”منتھلی“ وصول کرتے ہیں،جب کبھی حکام بالا کا زور پڑے تو تجاوز کرنے والوں کا فالتوسامان اٹھا کرلے آتے ہیں اور پھر ان کو معمولی جرمانے کے بعد واپس بھی کر دیتے ہیں۔ یوں تجاوزات کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہیں تو حضور! اس سطح کی کرپشن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایل ڈی والوں نے متعدد جدید بستیوں کی مرکزی اور ذیلی سڑکوں کو کمرشل (تجارتی) قرار دے کر مالکان جائیداد سے ٹھیک ٹھیک ”رشوت“ لی، آج حالت یہ ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن سے وحدت روڈ اور جوہر ٹاؤن تک تشریف لے جائیں تو آپ کو تمام مرکزی سڑکوں پر واقع دکانیں کھلی نظر آئیں گی، ٹریفک جام اور پیدل گزرنا مشکل ہو گا تو محترم یہ سب بھی رقوم ہی کے عوض ہوا اور شہر کی جدید بستیوں کا بھی حلیہ بگڑ گیا۔

جناب وزیراعظم! آپ بہادر اور فائٹر ہیں اس لئے ہر دم مقابلے کے لئے ہی تیار رہتے اور میدان گرم کرتے رہتے ہیں، کبھی آپ نے ادھر توجہ نہیں دی اور جب آپ کے علم میں آتا ہے کہ سبزیاں اور اشیاء ضرورت غیر معمولی طور پر مہنگی ہو گئی ہیں، حتیٰ کہ ٹماٹر اور پیاز وغیرہ بھی عام لوگوں کی استطاعت سے باہر ہو چکے اور عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں تو آپ اسے اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہیں لیکن مہنگائی کا توڑ نہیں کرنے دیتے۔ حالانکہ حالت یہ ہے کہ صبح ایک کلو پیاز، آدھا کلو لہسن،ایک پاؤ ادرک اور تین پاؤ مٹر لئے۔ان کے عوض730روپے ادا کرنا پڑے۔آپ ذرا دوسرے تمام امور سے ہٹ کر بھی تو سوچیں اور عمل کریں، یہ مہنگائی آپ کے گلے پڑ چکی آپ خود اپنے اراکین سے پوچھ لیں، اس حالت میں بھی آپ فائٹر ہیں اور آپ کی پسند کے خلاف کوئی بات ہو گئی تو آپ نے عدالت عظمیٰ سے بھی ”ہتھ کرنے“کی کوشش کی لیکن خود چیف جسٹس آف پاکستان سے ہی جواب پا لیا۔

براہ کرم! سازشی تھیوری پر غور سے باہر بھی نکلیئے اور صحیح معنوں میں عوامی بہبود کا خیال رکھیئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ اور ہی ہو جائے۔ ہم تو چیف جسٹس سے متفق ہیں کہ سب اپنا اپنا کام کریں۔

مزید : رائے /کالم