ریاست مدینہ کا قیام‘ علماء و مشائخ کا تعاون ضروری‘ نور الحق قادری

  ریاست مدینہ کا قیام‘ علماء و مشائخ کا تعاون ضروری‘ نور الحق قادری

  



ملتان (سٹی رپورٹر)وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ حکومت اپنے 4 سال مکمل کرے گی، اگلے پانچ سال کے لئے بھی حکومت بنائیں گے۔ شور شرابہ سے لگ رہا ہے کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں اور معیشت میں بہتری آ رہی ہے، اس حکومت نے کشمیر ایشو کو جس طرح ہینڈل کیا شاید کوئی نہیں کر سکا۔ مولانا صاحب کی جیب میں کیا چیز ہے کیا چیز نہیں ہے، مولانا صاحب کی بڑی جیبیں (بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

ہیں، ہمیں پتہ نہیں ہے کہ کس خانے میں استعفیٰ جیسی چیز رکھی ہے۔ حج کو کوئی استنبول، بنکاک یا سنگا پور کا تفریحی سفر نہ سمجھے۔ 25ہزار سے 68 ہزار روپے تک پیسے ریفنڈ بھی کئے گئے، سبسڈی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مشاہر، منیٰ، مزدلفہ، عرفات کے ایشوز ہیں ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں، 13 مکاتب کے معلمین کے بارے میں سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں، تین کے خلاف سعودی حکام تادیبی کاروائی بھی کر چکے ہیں۔ سعودی وزارت حج کے ساتھ میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھائیں گے کہ ان مقامات پر کھانا اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ہمیں دیا جائے۔ انڈونیشیا، ملائشیاء اور ایران ماڈل پر حج پالیسی بنانے پر غور کر رہے ہیں، تین سال کی پالیسی پر عمل کی صورت میں قرعہ اندازی کا طریقہ کار بھی یکسر مختلف ہو جائے گا۔ آئندہ سال حج کوٹے میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حج ڈائریکٹوریٹ ملتان میں حج 2020ء کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حاجی کا خادم ہوں، اگر کسی ائیر لائن، بنک، حج گروپ آرگنائزر اور منسٹری کے کسی آفیسر کے ساتھ کوئی ایشو ہو گا تو بطور مذہبی امور کے وزیر حاجی کے ساتھ کھڑا ہوں گا، حج کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے تجاویز موصول ہو رہی ہیں، جن پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج مالی اور بدنی عبادت ہے، اگر کوئی یہ کوشش کرتا ہے کہ میں پندرہ بیس لاکھ کا پیکج لیتا ہوں تاکہ میری بدنی مشقت نہ ہو تو یہ ممکن نہیں ہے، زمانے کی مناسبت سے حج کی مشکلات رہی ہیں جو اب بھی ہیں، کوئی حج کو تفریحی سفر نہ سمجھے، یہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی تمام چاہتوں کو مٹانے کا سفر ہے، اللہ تعالیٰ کو اس عبادت میں مشقت درکار ہے، ماسٹر ٹرینرز اس کے لئے حاجی کو زہنی طور پر تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ حج سے قبل تربیتی ورکشاپوں کا اضافہ کریں گے، پاکستانی حجاج کے لئے تربیتی نظام کی ضرورت ہے، ان کو سفری تربیت کی ضرورت ہے جبکہ ہم اکثر فقہی اور دینی تربیت کو فوکس کرتے ہیں، حاجی کو مناسک حج کے حوالے بتانا بھی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حاجی پاکستان کا سفیر ہوتا ہے۔ ٹرینرز سفر کے آداب و ضروریات کے بارے میں بھی ہم ضرور بتائیں، قمیض شلوار دوپٹہ اور چادر ہمارا قومی لباس ہے لیکن حرمین شریفین کے وقار کے لئے خواتین عبایا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ حج کے دوران پاکستانی حجاج سب سے زیادہ ہوتے ہیں، عمرہ میں بھی پاکستان سب سے اول ہے، گزشتہ سال 17 لاکھ رمضان کے اختتام تک پاکستانیوں نے عمرہ کی ادائیگی کی۔ ایک خاتون کو اپنی وراثت میں ایک کنال 10 مرلہ کی زمین ملی تو اس نے اسے بیچ کر اپنے شوہر اور دو بچوں کو عمرہ پر لے گئی، سب سے بڑا ارمان اور خواہش اور شوق و محبت یہی تھا کہ حرمین شریفین کا دیدار کرنا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حج 2019ء میں ہمارا کامیاب تجربہ رہا، سوشل میڈیا ایک ایک واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ 25ہزار سے 68 ہزار روپے تک پیسے ریفنڈ بھی کئے گئے، ای ویزہ پہلی مرتبہ پچھلے حج میں ہم نے متعارف کرایا، پاکستان بننے کے بعد کوئٹہ سے کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہیں تھی ہم نے کوئٹہ سے مدینہ اور جدہ کے لئے ڈائریکٹ فلائٹ چلائیں، گلگت بلتستان کے لوگ ہفتہ دس دن پہلے اسلام آباد ڈائریکٹروریٹ آف حج آتے تھے ان کے لئے عارضی ڈائریکٹوریٹ کا بندوبست کیا۔ مدینہ شریف میں مرکزیہ جو کہ حرم کے آس پاس کا علاقہ ہے پہلی دفعہ 1 لاکھ 12 ہزار حجاج کو مرکزیہ میں ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ روڈ ٹو مکہ منصوبہ پر اسلام آباد سے عمل کیا گیا تھا، اس سال سعودی حکومت سے استدعا کریں گے کہ دوسرے اسٹیشنز سے بھی یہ سہولت مل جائے، یہیں سے امگریشن، پاسپورٹ، کسٹم سب کچھ ہو جائے اور وہاں حجاج کسی لائن میں نہ لگیں۔ انہوں نے کہا کہ مشاہر، منیٰ، مزدلفہ، عرفات کے ایشوز ہیں ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں، وہاں پاکستان یا وزارت مذہبی امور کا عمل دخل نہیں ہوتا، دسمبر کے پہلے ہفتے میں سعودی وزارت حج کے ساتھ میٹنگ ہو گی، یہ معاملہ اٹھائیں گے ان مقامات پر کھانا اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ہمیں دیا جائے تاکہ ہم اپنے حجاج کے لئے اپنے طریقے سے کھانے اور ترانسپورٹ کا اہتمام کر سکیں اگر انہوں نے ہمارے ساتھ اتفاق کر لیا تو بڑی حد تک یہ مشکلات دور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کی پالیسی پر عمل کی صورت میں قرعہ اندازی کا طریقہ کار بھی یکسر مختلف ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کی قرعہ اندازی کی پالیسی بنانے کا سوچ رہے ہیں، انڈونیشیا، ملائشیاء اور ایران حج کے ماڈلز ہیں ان کے مطابق ہم چلیں گے۔ اس سلسلہ میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مکاتب میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا وہ شکایات ہم سعودی حکام کو درج کرا چکے ہیں، 13 مکاتب کے معلمین کے بارے میں بہت سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے دو تین کے خلاف انہوں نے تادیبی کاروائی بھی کر دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تیسری قرعہ اندازی کے آخری حجاج کو سہولیات دینے کا مسئلہ تھا، جو مکتب ہمیں ملے وہ مہنگے ملے، زیادہ ادائیگیاں کرنی پڑی جس کی وجہ سے آخری فلائٹس کے کچھ حجاج کو ریفنڈ نہیں ہو سکے۔ حاجی کیمپ ملتان کی خستہ حالی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حاجی کیمپ کی مرمت کے لئے ملتان آفس سے کوئی سفارش آئے گی تو ضرور عمل کریں گے، تاحال ڈائریکٹوریٹ نے ہمیں نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ 14 ہزار حجاج نے ملتان حاجی کیمپ سے روانہ ہوئے، جو کچھ ڈائریکٹوریٹ کو ضرورت ہے ہم بالکل کرنے کے لئے تیار ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر