احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری، نیٹ بی آر ٹی کی کرپشن عوام کے سامنے لائے، اسفند یارولی

احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری، نیٹ بی آر ٹی کی کرپشن عوام کے سامنے لائے، ...

  



پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کے حالیہ بیانات کے بعد یہ بات مزید واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری ہے جس میں صرف اپوزیشن اراکین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج تک جتنے لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ان پر ایک پیسہ کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن پتہ نہیں چیئرمین نیب کس کو خوش کرنے کیلئے صرف اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے؟ انہوں نے واضح (بقیہ نمبر13صفحہ12پر)

کیا کہ اگر اس طرح یکطرفہ انتقامی کارروائیاں جاری رہیں تو ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب لے جائیگا جس کی ساری ذمہ داری عمران خان اور چیئرمین نیب پر آئیگی۔ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی گذشتہ روز بی آر ٹی کے حوالے سے منطق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے اور بالخصوص پشاورکے عوام کے ساتھ مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب صرف الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن اراکین کو گرفتار کرسکتی ہے لیکن ان میں شاید ہمت نہیں کہ حکومتی اراکین کی جانب سے اس نام نہاد میگاپراجیکٹ میں کی گئی کرپشن پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا نام لانے سے چیئرمین نیب خود کو بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ موجودہ حکومت میں بیٹھے کئی وزراء کہہ چکے ہیں کہ یہ منصوبہ عجلت میں شروع کیا گیا جس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف لاگت میں 100فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے بلکہ پشاور کے عوام کے لئے درد سر بن چکا ہے۔اسفندیارولی خان نے مزید کہا کہ اگر بی آر ٹی بارے سپریم کورٹ حکم امتناعی جاری کرچکی ہے تو اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ کیا ایک عام شخص سپریم کورٹ جا کر بی آر ٹی میں کی گئی کرپشن کے ثبوت دیں گے یا احتساب کے نام پر بنے ادارے کا فرض بنتا ہے کہ وہ تحقیقات میں سامنے آنیوالی کرپشن کو عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب بی آر ٹی منصوبے میں کی گئی کرپشن کو عوام کے سامنے لائے تاکہ نام نہاد ’بلا امتیاز احتساب‘ کے دعوے کرنیوالوں کی حقیقت عوام پر بھی ظاہر ہو اور اگر نیب ان ثبوتوں کو اکھٹا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے تو چیئرمین نیب کو اس کرسی پر براجمان ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں۔

اسفند یار

مزید : ملتان صفحہ آخر