پشاور ہائیکورٹ نے کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانس ایکٹ غیر قانونی قرار دیدیا

    پشاور ہائیکورٹ نے کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانس ایکٹ غیر قانونی قرار دیدیا

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمدسیٹھ اورجسٹس نعیم انورپرمشتمل بنچ نے خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکاٹکس سبسٹانس ایکٹ2019ء کو درست قرار دے دیاہے اورنئے قانون کے خلاف دائررٹ پٹیشن خارج کردی فاضل بنچ نے گذشتہ روز رٹ پٹیشن کی سماعت شروع کی تو اس موقع پر درخواست گذارنے عدالت کو بتایاکہ وفاقی قانون کی موجودگی کے باوجود خیبرپختونخواہ حکومت نے Khyber Pakhtunkhwa Control of Narcotics Subtance Act, 2019کے نام سے ایک نیا قانون پاس کیا جوکہ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔ خیبرپختونخواہ کا نیا قانون صرف خیبرپختونخواہ میں ااور اسی صوبے کے لوگوں پر نافذالعمل ہوگا جبکہ باقی صوبوں میں وفاقی قانون لاگوہوگا عدالت کو بتایاگیاکہ صوبائی حکومت کے نئے قانون کے اندر ضمانت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی او رنہ ہی گاڑیوں کوRetainیاDisposalکرنے کے لئے کوئی provisionموجود ہے۔ اس نئے قانون میں ANF،کسٹم حکام،صوبائی صوبے دار اور لیویز سے گرفتاری، ریکوری اور تفتیش کے اختیارات لے لئے گئے ہیں جبکہ منشیات کا قانون وفاق کے تحت آتاہے،صوبائی حکومت وفاقی قانون کوSuplement توکرسکتی ہے مگراپنا نیا قانون نہیں بناسکتی۔ اس نئے صوبائی قانون نے فیڈرل لاء کو منسوخ کردیاہے جو کہ قانون اور آئین کے منافی ہے اس موقع پر قائمقام ایڈوکیٹ جنرل عاطف علی نے عدالت کوبتایاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعدصوبوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے تحت قانون سازی کرسکتاہے اوراٹھارویں ترمیم کے بعدوفاق صرف اورصرف اسلام آباد کے لئے قانون سازی کرسکتاہے کیونکہ قبائلی علاقہ جات پہلے وفاق کے زیرانتظام تھے اوراب قبائلی اضلاع چونکہ صوبے میں ضم ہوچکے ہیں تووفاق صرف اسلام آباد کے لئے قانون سازی کامجازہے آرٹیکل270اے (اے)کے تحت قوانین کو تحفظ حاصل ہے اورمتعلقہ ادارے اس میں ترامیم وغیرہ کرسکتے ہیں عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے دوطرفہ دلائل مکمل ہونے پررٹ پٹیشن خارج کردی اورخیبرپختونخواحکومت کی انسداددمنشیات کے حوالے سے قانون سازی کو درست قرار دے دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر