میرا کوئی فرقہ نہیں!

میرا کوئی فرقہ نہیں!

  



ہمارے ہاں یہ جملہ ایک فیشن کی صورت اختیار کرتا چلا جارہا ہے کہ ”میرا کوئی فرقہ نہیں ہے“۔ انسان ہمیشہ سے دو انتہاؤں میں جینے کا عادی رہا ہے کہ ایک شر سے نکلا تو دوسرے شر میں جا گھسا اور درمیان میں کوئی مقام اعتدال نہیں ہے کہ جہاں پڑاؤ ڈالا جائے۔ جس طرح فرقہ واریت ایک شر بن چکی ہے، اسی طرح فرقہ واریت کا رد کرنے والے خود ایک بدترین فرقے کا سا رویہ اور اخلاق پیش کررہے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمارا کوئی فرقہ نہیں ہے، ہم مسلمان ہیں کہ اللہ عز و جل نے قرآن مجید میں ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔ پس انہوں نے اپنے آپ کو ”جماعت المسلمین“ کہلوانا شروع کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی رجسٹرڈ جماعل المسلمین کے چند صد اراکین کے علاوہ سب کو غیر مسلم ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔

یہ ذہن میں رہے کہ فرقہ واریت ایک مزاج ہے جو اس شخص میں بھی ہوسکتی ہے جو صبح و شام فرقہ واریت کے رد میں وعظ کررہا ہو۔ فرقہ وارانہ مزاج ایک منفی مزاج ہے کہ جس میں ہمیشہ کسی فرد یا مسلک کی کمی کوتاہی کو بیان کرکے اس کی ذات اور جماعت کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔کسی کی برائی کو اچھالا جاتا ہے اور اچھائی کو چھپایا جاتا ہے۔ انسان اپنے علاوہ سب کو غلط سمجھتا ہے اور اس کا جینا مرنا دوسرے کا رد بن جاتا ہے، اس کا مثبت کام آپ کو دیکھنے کو نہ ملے گا لیکن منفی کام بہت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ منفی ذہن والے لوگ اس کے گرد جمع ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ فرقہ واریت کا رد کرتے کرتے خود ایک فرقہ بن جاتے ہیں کہ اپنے سے اختلاف برداشت ہی نہیں کرپاتے۔ ایسے لوگ اس قدر سمجھدار ہوتے ہیں کہ انہیں تو دوسرے سے اختلاف کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن جب دوسرے ان سے اختلاف کریں تو ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ دوسروں کے پاس دلیل نہیں ہے لہٰذا انہیں ہم سے اختلاف کا حق نہیں ہے۔ پس دلیل کیا ہے، کیا نہیں ہے، یہ بھی انہوں نے طے کرنا ہے، گویا مدعی بھی خود، گواہ بھی خود اور قاضی بھی خود، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں درست ہوں اور باقی سارے غلط ہیں۔

اسی طرح اسلامی تحریکوں کے کارکنان، مسالک کے پیروکاروں پر تو خوب تنقید کرتے ہیں کہ مسالک نے فرقہ واریت کو بہت ہوا دے رکھی ہے لیکن خود یہی کارکنان اپنی جماعت کے نظریات کے بارے میں اسی قسم کے تعصب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ جیسا تعصب مسالک کے پیروکار ایک دوسرے کے بارے میں رکھتے ہیں۔ بعض تحریکیں دوسری تحریکوں کا اسی طرح رد کررہی ہوتی ہیں جیسا کہ مسالک ایک دوسرے کا رد کرتے ہیں لہٰذا فرقہ واریت ضروری نہیں کہ صرف مسالک میں ہی ہو بلکہ ہر اس جگہ ہوسکتی ہے کہ جہاں غلو اور تعصب موجود ہو۔

مذاہب، مسالک اور جماعتوں میں دوسروں کے بارے میں جو سختی، تشدد اور تعصب آگیا ہے، اسے ختم ہونا چاہئے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے سوائے چند ایک جہلاء کے، اور ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہو اپنے مسلک اور جماعت کی بھی اصلاح کرے اور ہر وقت دوسروں کے مذاہب، جماعت اور مسلک کی اصلاح ہی میں نہ لگا رہے۔ فرقہ واریت اور جماعتی تعصب کی بنیاد ہی یہ رویہ ہے کہ ہمارا مسلک اور جماعت تو سو فیصد درست ہے اور دوسرا سو فیصد غلط ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی نہیں دوسروں کی اصلاح کرنی ہے۔ اگر ہم میں ہر مسلک اور جماعت کے لوگ اپنی تبلیغ مساعی کا تیس فیصد بھی اپنی جماعت اور مسلک کی اصلاح میں لگا دیں گے تو فرقہ واریت اور جماعتی تعصب ختم ہوجائے گا۔ انشاء اللہ!

اسی طرح اپنے مذہب، جماعت اور مسلک پر ہی ہر وقت تنقید کرتے رہنا بھی متوازن رویہ نہیں ہے۔ اگر آپ کی کسی مذہب، جماعت اور مسلک سے وابستگی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اس میں خیر کا پہلو غالب نظر آیا ہے تو آپ اس سے وابستہ ہیں۔ پس اپنے مذہب، مسلک اور جماعت کے مثبت پہلو کی تعریف کریں اور جہاں اصلاح کی گنجائش ہے وہاں اصلاح کے لئے کوششیں کریں۔ چاہے آپ کے مذہب مسلک اور جماعت کے لوگ آپ کی اصلاح کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ کسی مذہب، مسلک اور جماعت سے وابستہ رہ کر آپ اس کی جو اصلاح کرسکتے ہیں، اس سے علیحدگی کی صورت میں نہیں ہے لہٰذا ہم نے اس کی بات سننی ہی نہیں ہے۔ پس مذہب، مسلک اور جماعت سے وابستہ رہتے ہوئے اس کی اصلاح کرنا ہی رویہ متوازن اور مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اے اہل ایمان اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ“۔ (التحریم:6)      (ماخوذ از صالح اور مصلح)

مزید : ایڈیشن 1