کفار عبادات کے نہیں،طرزِ حیات کے مخالف ہیں!

کفار عبادات کے نہیں،طرزِ حیات کے مخالف ہیں!

  



دین وہ طرز حیات‘ زندگی کا سلیقہ اورشعار ہے جو اللہ کریم کی طرف سے مقرر کر دیا گیااور اس طرح سے زندگی گزارنا ہی دینداری ہے۔ ہمارے ہاں یہ سمجھ لیا جا تا ہے کہ صرف عبادات ہی دین ہیں‘ ایسی بات نہیں ہے۔ عبادات دین کا بہت اہم حصہ ہیں لیکن صرف عبادات ہی دین نہیں ہیں۔ دین پوری زندگی کو محیط ہے۔ اگر کوئی اسے قبول نہیں کرتا اور زندگی اپنی پسند سے جینا چاہتا ہے‘ کاروبار میں‘ تعلقات میں‘سیا سیات میں اپنی پسند کے مطابق عمل کرنا چاہتا ہے‘ ملکی و بین الاقوامی تعلقات اور امور میں اپنی پسند کو دخل دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اوردین تلاش کر لیں‘ یعنی اللہ کا مقرر کردہ دین تو صرف ایک ہے اور اس کے علاوہ جتنے طریقے ہونگے‘ وہ دین نہیں ہونگے اور یہ لوگ جو آپﷺ کی بات نہیں ماننا چاہتے ان کے اعمال عنداللہ دین کے طورپر قبول نہیں ہونگے بلکہ دین کی مخالفت ہو گی‘ اللہ کریم پر جھوٹا الزام ہو گااور یہ بہت بڑاجرم ہے۔

کفار عبادات کے نہیں طرزِ حیات کے مخالف ہیں

بڑی عجیب بات ہے کہ مشرکین وکفار کو عبادات پہ اعتراض نہ اس وقت تھا‘ نہ اب ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک جہاں مسلمان حکومت میں نہیں بلکہ اقلیت میں ہیں‘ ملازمت پیشہ لوگ ہیں یا کاروبار کے لئے گئے ہیں‘ وہاں عبادات پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی۔ کوئی نماز سے منع نہیں کرتا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ روزہ نہ رکھو۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ حج پر نہیں جا سکتے۔ کوئی ملک یہ نہیں کہتا کہ زکوۃ ادا نہ کرو۔ عبادات پر کسی غیر اسلامی ملک میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ پابندی طرز حیات پر ہے۔ جہاں آپ کو رہنا ہے‘ ان کے معاشرے کے اندر جو اصول ہیں‘ ان کو توڑیں گے توآپ پر گرفت ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ جو حصہ زیادہ متاثر کرتا ہے وہ دین ہے اور اسی پر جھگڑا ہوتا ہے۔

اہل مکہ حضورﷺ کو صادق مانتے تھے‘ امین مانتے تھے اور بعثت سے پہلے بھی آپﷺ سے اپنے فیصلے کرواتے تھے۔ آپﷺ پر اعتماد کرتے تھے‘ امانتیں رکھتے تھے تو انہیں کیا تکلیف تھی کہ اگر حضورﷺ کا طریقہ عبادت ان سے مختلف تھا۔ مکہ مکرمہ میں کوئی ایک طریقہ عبادت تو نہیں تھا۔ بے شمار مذاہب اور فرقوں کے لوگ تھے جو اپنی اپنی عبادت کرتے تھے۔ اگر ایک اتنا نفیس آدمی، صادق و امین، اتنا شیریں گفتار‘ خوبصورت چہرے والا‘ اخلاق کریمانہ والا‘ اتنا امانت دار کہ دشمنوں کیساتھ بھی انصاف کرتا اور ان کے باہمی جھگڑے بھی انصاف سے چکاتا‘ اگر وہ شخص کسی اور طریقے سے عبادت کرتا ہے تو انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا! جھگڑا اس بات پہ تھا کہ جو کافرانہ معاشرہ تھا‘ ان کے جو کافرانہ قانون تھے اور انہوں نے جو ذاتی عدالتیں بنا رکھی تھیں‘ اسلام ان کو قبول نہیں کرتا تھا بلکہ انہیں چیلنج کرتاتھا اور سب سے یہ امید کرتا تھا کہ وہ اپنی خواہشات کو چھوڑ کر‘ اپنی ذاتیات کو چھوڑکر‘اللہ کے بنائے ہوئے ضابطہ حیات کے مطابق زندگی بسر کریں۔ ہمیں بھی یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ میں پانچ نمازیں پڑھتا ہوں‘ حج بھی کرلیا ہے‘ روزے بھی رکھتا ہوں‘ زکوٰۃ بھی دیتا ہوں تو اب کیا فرق ہے اگر دوکانداری اپنی مرضی سے کر لیتا ہوں یا لوگوں کے ساتھ تعلقات میری اپنی مرضی کے مطابق ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ پوری زندگی دین کے تابع ہو اور اپنی مرضی ختم کر دی جائے؟ ہاں‘ ہر جگہ یہی توضروری ہے۔ اس دنیا میں نماز روزے اور عبادت کا پھل اور ثواب یہ ہے کہ عملی زندگی دین کے مطابق بسر کی جائے اور اگر کسی کی عملی زندگی دین کے مطابق نہیں ہے تو اس کی عبادات اور نماز روزہ سے کیا فرق پڑا۔

کفار بھی تو اس بات پہ بضد ہیں کہ زندگی ہماری ہے‘ ہم جس طرح چاہیں بسر کریں۔ اللہ کریم نے فرمایا یہ اللہ کے دین کو چھوڑکر کوئی اور دین چاہتے ہیں! یعنی جس بات کو اللہ دین کہتا ہے‘ وہ تو دین برحق ہے۔ اب کسی دوسری بات کو یہ بحیثیت دین اپنانا چاہتے ہیں تو اس میں دو جرم ہیں۔ایک تو اللہ کی نافرمانی ہے کہ اس کے دین کو نہ مانا‘ دوسرا جرم یہ ہے کہ نافرمانی بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بھی دین ہے یعنی یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ پر جھوٹ بھی بولتے ہیں۔

اللہ کی عظمت و جلالت یہ ہے کہ کائنات بسیط میں‘ وہ آسمان ہوں‘ زمین ہو‘ یا جہاں تک علم انسانی کی رسائی ہے‘ کوئی شے‘ کوئی وجود‘ کوئی ہستی ایسی نہیں ہے جو اپنی پسند سے یا مجبوری سے اللہ کی اطاعت نہ کر رہی ہو۔ سب کو کرنا پڑتی ہے۔ سورج‘ چاند‘ستارے‘ ہوا‘ فضا‘ ذرات‘ ایٹم‘ جراثیم‘ بحری یا بری جانور‘ ہر چیزاس کے نظام میں اس طرح پروئی ہوئی ہے چل رہی ہے کہ کسی کو مجال دم زدن نہیں ہے۔ سارا نظام اس کے حکم کے تابع چل رہا ہے خواہ وہ مرضی سے اس کے حکم کے تابع ہیں یا کوئی نہ چاہے تو بھی اس کی پسند کے خلاف نہیں کر سکتا۔اور ہر چیز نے واپس پلٹ کر اسی کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا ہے انسان ساری زندگی اسی کے حکم کے تابع ہے۔ پیدا اس کے حکم سے ہوتا ہے‘ شکلیں وہ بناتا ہے‘ عقل وہ تقسیم کرتا ہے‘ عمریں وہ تقسیم کرتا ہے‘ صحت و بیماری وہ دیتا ہے‘ انسان چاہے یا نہ چاہے اسی نظام میں اس کو یہ زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ وہ نہ چاہے تو بھی بوڑھا ہو جاتا ہے‘ چاہے تو بھی بوڑھا ہو جاتا ہے۔ اس کی خواہش ہو یا نہ ہو لیکن موت آئے تو اسے مرنا پڑتا ہے‘ بیماری آئے تو اسے بھگتنا پڑتی ہے‘ صحت ہو تو اسے انجوائے کرتا ہے۔ صرف ایک بات کا اس کے پاس اختیار ہے کہ وہ عظمت الٰہی کو پہچان کریہ اقرار کرلے کہ اللہ ہی اس قابل ہے کہ اس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے‘ یہ ایمان ہے۔ اگر اپنی شرائط لگاتا ہے کہ فلاں عبادت تو کریں گے لیکن کام اپنی مرضی سے کریں گے تو فرمایا یہ دین نہیں ہے۔ تم یہ دیکھ لو یہ کتنی جرأ ت کر رہے ہو صرف اس بات پر کہ تمہیں دو راستوں میں سے ایک راستہ چننے کا اختیار دیا گیا! اگر کوئی نیکی کا راستہ چنتا ہے تو اس پہ بھی وسائل عام کر دیتا ہے اور وہ نیکی کرتا چلا جا تا ہے اور اگر کوئی برا ئی کا راستہ چنتا ہے تو اس کے وسائل چھینتا نہیں‘ اسے بھی دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تجھے جینے کا موقع دیا تھا لہٰذا تو جہاں تک جانا چاہتا ہے جا۔ آخر واپس تو میرے پاس آنا ہے‘ وہاں حساب ہو جائے گا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1