حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ

حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ

  



حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کا شمار بھی انہی پاک طینت بندگان خدامیں ہوتا ہے جنہوں نے ساری زندگی بے غرضی، بے لوثی، علم و عمل، اخلاص و للہیت اور زہد و تقوی کے سائباں تلے گزاری۔آپ رحمۃ اللہ علیہ علم و عرفان اور شریعت و طریقت کا حسین امتزاج تھے، بلند اخلاق، عظیم کردار شریف النفس، پاک باز، بے ریا اور حسبی و نسبی شرافت کے پیکر تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کی ترویج واشاعت کیلئے عظیم الشان دینی درس گاہ کا قیام عمل میں لایا جہاں سے لاکھوں متلاشیان حق نے بالواسطہ اور بلاواسطہ معرفت خداوندی کی دولت حاصل کی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مخلوق کو خالق کے در پر جھکنے اورخالق کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کا درس دیا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی انہی خدمات جلیلہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہر سال دوروزہ (17-18نومبرکو)عرس حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ بڑے تزک واحتشام اورعقیدت واحترام کے ساتھ منایاجاتا ہے۔امسال بھی 17-18نومبر کو درگاہ مقدسہ بھکھی شریف پرحضرت حافظ الحدیث،غوث زماں،مفتی اعظم پاکستان،بیہقی وقت،حضرت اعلی حضرت علامہ پیر سید مفتی محمد جلال الدین شاہ صاحب مشہدی رحمۃ اللہ علیہ کا چونتیسواں (34) سالانہ عرس مقدس جانشین حضور حافظ الحدیث، جگر گوشہ قیوم زماں،قاسم فیضان سرہند وبریلی، حضرت علامہ الحاج مفتی پیرسید محمد نوید الحسن شاہ صاحب مشہدی دامت برکاتہم العالیہ آستانہ عالیہ بھکھی شریف کی زیرصدارت انتہائی شاندار اور بھرپور جذبہ وعقیدت کے ساتھ منایا گیا۔

عرس مقدس کی تیاریوں کے سلسلہ میں درگاہ مقدسہ بھکھی شریف کی نمائندہ اصلاحی وروحانی تنظیم ”جماعت جلالیہ پاکستان“ کے زیر اہتمام مختلف شہروں میں اجلاس اور میٹنگز منعقد ہوئیں جن میں عرس مبارک کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلہ میں سب سے اہم اجلاس درگاہ مقدسہ بھکھی شریف پر جگر گوشہ قیوم زماں،وارث علوم ومعارف حضورحافظ الحدیث حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں عرس مبارک کے مختلف انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور کاموں کی تقسیم کار ہوئی۔عرس مبارک کی تقریب کو کامیاب بنانے کیلئے جملہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا گیا اس سلسلہ میں تشہیری مہم کیلئے اشتہارات،بینرزچھپوائے گئے اور ملک بھر کی مختلف شاہراہوں اور پبلک مقامات پر آویزاں کیے گئے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے اس تقریب کی دعوت دی گئی اور آڈیووویڈیو ڈاکو منٹریز اور اعلانات بھی نشر کیے گئے۔

مزار مبارک کو برقی قمقموں اور رنگ برنگی لائٹوں سے سجایا گیا تھا اور سٹیج کی تزئین وآرائش گلدستوں اور پھولوں سے کی گئی تھی۔سیکورٹی کے فرائض تحریک تحفظ اسلام پاکستان کے کارکنان کے ذمہ تھے۔گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔رات کو جو عقیدت مندان پہنچے،مقامی افراد نے ان لوگوں کی اپنی گھروں میں مہمان نوازی کی، جہاں سردی کی مناسبت سے عمدہ قسم کے بستروں کا انتظام کیاگیا تھااور حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے ان مہمانوں کو پرتکلف ناشتہ بھی دیاگیا۔

عرس مبارک کی تقریب میں آزاد کشمیر سمیت ملک بھر سے مرید ین،تلامذہ،متوسلین،محبین، عقیدت مندان اور درگاہ مقدسہ بھکھی شریف سے وابستہ حضرات نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ خانوادہ حافظ الحدیث سمیت ملک کے طول وعرض سے علماء ومشائخ سمیت کثیرعوام الناس نے عرس مقدس میں شرکت کی۔عرس مبارک کے موقع پر وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔اجتماع گاہ عقیدت مندوں کے ہجوم کی وجہ سے ناکافی محسوس ہو رہی تھی۔

عرس مبارک کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا پھرحضور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔قبلہ مرشد گرامی وارث علوم ومعارف حضور حافظ الحدیث،جگر گوشہ حضرت ثانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ صاحب مشہدی دامت برکاتہم العالیہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ بھکھی شریف جب سٹیج پر تشریف لائے توسٹیج پرموجود علماء ومشائخ عظام سمیت پنڈال میں بیٹھے مریدین اور عقیدت مندان نے آپ کا بھرپوراستقبال کیا۔

مختلف علمائے کرام نے حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کی علمی،دینی،مذہبی،روحانی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔مقررین نے کہا کہ حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات جلیلہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔یہ آپ کا اخلاق حسنہ ہی تھا کہ ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ آپ اس سے سب سے زیادہ محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا اور عقیدان مندان کو بھی اسی کا درس دیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ ہر ایک ساتھ خیر خواہی کرتے۔جو بھی آپ سے ایک بار ملاقات کرلیتا بار بار آپ رحمۃاللہ علیہ سے ملاقات کا مشتاق رہتا۔آپ نے ہر مشکل گھڑی میں لوگوں کی مدد کی۔انہوں نے کہا کہ خدمت خلق حکم خداوند ی ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی سیرت وکردارسے اُمت کو اس کی تعلیم دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ جامعہ بھکھی شریف نے انقلاب نظام مصطفیﷺ اور اصلاح معاشرہ کی زوردار تحریک کی شکل اختیار کر لی، قبلہ حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سال تک مسند تدریس پر علم وعرفان کے جواہر لٹائے آپ سے بالواسطہ اور بلاواسطہ لاکھوں لوگوں نے علم حاصل کیا۔آج بھی یہ جامعہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے،آپ واقعی ایک صاحب کرامت اور شیخ طریقت تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سب سے اہم ضرورت مہاجرین کی آبادی کاری تھی جس میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آپ لوگوں کی ضرورتوں کو توجہ سے سنتے اور ان کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے۔چنانچہ آپ نے لوگوں کی ہر مشکل گھڑی میں مدد کی۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کے قائم کردہ خانقاہی نظام، اسلوب تربیت اور انداز اصلاح خصوصا حضرت کیلیانوالہ شریف، شرقپور شریف اور بریلی شریف کے نقشبندی مجددی قادری رضوی سلوک و آداب طریقت کے مطابق زندگی بھر خلق خدا کی روحانی تربیت اور اصلاح فرمائی، چونکہ آپ شریعت محمدی اور سنت نبویﷺ کے خود پابند تھے اور آپ کا اٹھنا،بیٹھنا، چلنا، کھانا، پینا، بلکہ اوڑھنا بچھونا سنت نبویﷺ تھا اور سنت نبوی ﷺ کا رنگ عبادات، معاملات، اخلاقیات اور آپ کے جملہ امور میں غالب تھا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تحریک پاکستان میں بھر پور کردار اد اکیا،پاکستان میں چلنے والی دینی وملی تحریکوں،تحریک ختم نبوت ﷺ،تحریک نفاذ نظام مصطفی ﷺوغیرہ میں جاندار کردار اداکیا،آپ نے الحادی قوتوں اور فتنوں کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا،آپ سیاسی طور پر جمعیت علماء پاکستان (JUP)کے ساتھ منسلک رہے اور قائد ملت اسلامیہ مولاناامام شاہ احمد نورانی صدیقی کی قیادت پر بھر پور اعتماد کیا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند اکبرقیوم زماں،حضرت علامہ پیر سید محمد مظہر قیوم شاہ صاحب المعروف حضرت ثانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی افکار عالیہ اور امور خیر کو پوری توجہ،انہماک اور جدوجہد سے جاری رکھا۔اور اب درگاہ مقدسہ بھکھی شریف کے موجودہ سجادہ نشین شیخ الحدیث والتفسیر قاسم فیضان سرہند وبریلی حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمد نوید الحسن مشہدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے والد گرامی اور جد اعلی کے خدمت خلق کے مشن کو بڑی دریا دلی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور حالات وواقعات کے مطابق خدمت خلق کے مشن کو مزیدوسیع، منظم اور مربوط کئے ہوئے ہیں۔

عرس کے اختتام میں ختم شریف اور شجرہ طیبہ پڑھا گیااور آخر میں آستانہ عالیہ شرقپور شریف کے سجادہ نشین جانشین حضرت فخر المشائخ،حضرت صاحبزادہ میاں ولید احمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ملک وملت،کشمیر وفلسطین کی آزادی اور مشائخ بھکھی شریف کی بلندی درجات اور تمام مسلمان مرحومین کی بخشش واستغفار کیلئے خصوصی دعا فرمائی۔ زائرین وحاضرین کیلئے لنگر کاوسیع اور اعلی انتظام کیا گیا تھا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1