آرمی چیف وزیراعظم ملاقات سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال، عمران خان صدر ٹرمپ کو فون، مشرکہ مقاصد کیلئے ملکر کام جاری کھنے پر اتفاق

  آرمی چیف وزیراعظم ملاقات سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال، عمران خان صدر ...

  



 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی)  وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اس دوران دونوں رہنماؤں میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمعرات کو ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے بتایا ٹرمپ سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مغربی یرغمالیوں کی افغانستان میں رہائی مثبت پیشرفت ہے، پاکستان کو خوشی ہے کہ رہا ہونے والے مغربی یرغمالی محفوظ اور آزاد ہیں۔ترجمان  وزیراعظم کے مطابق اس موقع پر  امریکی صدر نے اس معاملے پر پاکستان کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔اس دوران وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور مستحکم افغانستان کیلئے افغان امن اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مقاصد کے فروغ کیلئے اکٹھے ملکر کام جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ 100سے زائد دنوں سے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ عوام مسلسل بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں۔عمران خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کے پرامن حل کیلئے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل کوششوں  اورثالثی کی پیشکش کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر پر زوردیا کہ وہ تنازع کشمیر کے پرامن حل کیلئے سہولت کاری کی کوششوں کو ہر صورت جاری رکھیں۔دونوں رہنماؤں نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں اپنی گفتگو کا تذکرہ کرتے ہوئے متعلقہ کثیر الطرفہ فورم سمیت دوطرفہ تعاون کومزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے مسلسل رابطوں میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔

تیلیفونک رابطہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان سے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی  جس میں ملک کی مجموعی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خیال رہے کہ چند روز قبل بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں کشمیر اور کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت سے پیدا  ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بارڈر پر پاک افواج کی کاوشوں کو سراہا اور اقتصادی ترقی کے لیے ملک میں استحکام کو یقینی بنانے میں پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں گلوبل فنڈز نے پاکستان میں جاری سرمایہ کاری 300ملین ڈالر تک لے جانے کا اعلان کردیا، جس کا عمران خان نے خیر مقدم کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ تمام طبقات کومعیاری صحت کی فراہمی پرتوجہ دے رہے ہیں، احساس پروگرام کے تحت نجی اسپتالوں کوبھی پینل میں شامل کیا، بلوچستان کے بعض علاقوں میں ٹی بی تشخیص پراستعدادبڑھانے کی ضرورت ہے۔جمعرات کووزیراعظم عمران خان سے گلوبل فنڈز کے عہدیداران کے وفد کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں مشیربرائے قومی صحت ظفرمرزااوراعلی حکام کی شرکت کی،وفد نے بریفنگ میں بتایاکہ گلوبل فنڈ پاکستان میں صحت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور ایچ آئی وی،ملیریااور تپ دق کے تشخیصی یونٹ قائم کریگا، اسکریننگ کے غیر موثر نظام کے باعث ٹی بی کے کیسز کاعلاج نہیں ہو پاتا جبکہ ٹی بی کی موثرتشخیص کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔وزیر اعظم عمران خان نے گلوبل فنڈزکی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں ٹی بی تشخیص پراستعدادبڑھانے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف بدھ مت جوگے آرڈر کے صدر آن ہنگ کی قیادت میں ملنے والے وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدھ مت، ہندومت اور سکھ مذہب کے مقدس مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن کی ہر ممکن طریقہ سے حفاظت کی جارہی ہے۔ پاکستان کو بدھ مت کے ورثے پر بھی فخر ہے اور پاکستان حکومت عام سیاحت کیساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے بھی بھرپور عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کے بدھ مت وفد کا پاکستان کے حالیہ دورہ سے تمام مذاہب کے مابین امن، ہم آہنگی اور مفاہمت کیلئے اشتراک و تعاون کا قابل قدر پیغام ملا ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ جوگے آرڈر کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین تاریخی ثقافتی اور مذہبی روابط کو مزید اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگا جس سے بدھ گندھارا تہذہب میں لوگوں کی دلچسپی بڑھے گی اور دونوں ممالک کے مابین دوستانہ روابط کو فروغ ملے گا۔ جوگے آرڈر کے صدر آن ہنگ نے بدھ ورثہ کے تحفظ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے وزیراعظم عمران خان کے کردار پر شکرگزار ہیں۔ انہوں نے جمہوریہ کوریا میں بدھ ورثے کے فروغ کیلئے حکومت پاکستان کیساتھ ملکر کام کرنیکی خواہش کا بھی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے بدھ زائرین کو پاکستان آنے کی بھی ترغیب دینگے۔ جمہوریہ کوریا میں بدھ مذہب کے سب سے بڑے فرقہ کے وفد کا صدر جوگے آرڈر کی قیادت میں پاکستان کے دورہ سے مذہبی سیاحت اور مختلف مذاہب کے مابین ثقافتی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔ یہ اعلی سطحی بدھ وفد پاکستان کے مختلف مقامات پر بدھ مت کے مقدس مقامات اور ان کی زیارت کیلئے آنیوالے غیر ملکی وفد کی سیکورٹی کے بارے میں کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا جبکہ پاکستان میں بدھ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بحالی کیلئے پاکستان حکام سے بھی بات چیت کرے گا، بدھ مت کے اس اعلی سطحی وفد کی پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ممتاز اسلامی سکالرز کے ساتھ خصوصی نشست بھی منعقد کی جائیگی۔ بدھ مت کے اس اعلی سطحی وفد کے پاکستان کے دورہ کا اہتمام سیول میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے کوریا کی وزارت ثقافتی ورثہ اور پاکستان میں کوریا کے سفارتخانے کے تعاون سے کیا ہے۔ یہ وفد صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی کے شہر چھوٹا لاہور کا بھی دورہ کریگا جہاں یہ وفد بدھ راہب مونک مرانتھا کے نام سے سکول کے قیام کے بارے میں بات چیت کریگا۔ 

ملاقات

مزید : صفحہ اول