بھارتی حکومت کا ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کااعتراف

بھارتی حکومت کا ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کااعتراف

  



ٍ سرینگر /نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ کشن ریڈی نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست سے اب تک پانچ ہزار ایک سو اکسٹھ کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں 110 روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد کی گرفتاری کا بھارت نے خود اعتراف کر لیا۔ دوسری جانب بھارتی  سپریم کورٹ نے گزشتہ روز مقبوضہ جموں وکشمیر انتظامیہ سے کہا ہے کہ اسے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد وہاں عائد پابندیوں پر اٹھائے گئے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا۔جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ نے انتظامیہ کی جانب سے پیش ہونے والے سولیسٹر جنرل تشار مہتا کو بتایا کہ پابندیوں کے خلاف درخواست گزاروں نے تفصیل سے بحث کی ہے اور اب انہیں تمام سوالوں کے جوابات دیناہوں گے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق جسٹس، سبھاش ریڈی اور بی آر گیائی پر مشتمل بنچ نے کہا،مسٹر مہتا آپ کو درخواست دہندگان کے ذریعہ اٹھائے گئے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا۔ آپ کا جوابی حلف نامہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں ہماری مدد نہیں کرتا ہے۔ یہ تاثر نہ دیں کہ آپ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ درخواست گزاروں کی طرف سے پابندیوں سے متعلق بیشترالزامات "غلط" ہیں اور جب وہ عدالت میں دلائل دیں گے تو وہ ہر پہلو کا جواب دیں گے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ ان کے پاس سٹیٹس رپورٹ ہے لیکن انہوں نے عدالت میں اس کو داخل نہیں کیا کیونکہ جموں و کشمیر کی صورتحال آئے روز بدل رہی ہے اور وہ عدالت میں پیش کرنے کے وقت حتمی رپورٹ دینا چاہیں گے۔کشمیر کے حالات پرفلم ’کشمیر!دا فائنل ریزولیشن‘20جنوری کو ریلیز ہوگی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی سے تعلق رکھنے والے فلمساز یوراج کمارمقبوضہ وادی کشمیر پر فلم بنا رہے ہیں۔ یہ فلم دفعہ 370 کے خاتمے کے فیصلے کے تعلق سے ہے جس کا نام ”کشمیر: دا فائنل ریزولیشن“ہے۔یوراج کمار گذشتہ چار برسوں سے کشمیر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلم کی تقریبا 80 فیصد کی شوٹنگ ہوچکی ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں فلم کی شوٹنگ کے اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یوراج کمار نے کہا کہ ہمیں وادی کشمیر میں شوٹنگ کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ شوٹنگ کا 20 فیصد حصہ باقی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکام کی اجازت ملنے کے بعد شوٹنگ ختم کر دیں گے۔

بھارت/اعتراف

نیویارک/سرینگر(آئی این پی،این این آئی)امریکی جریدے کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی دل ہلا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے،مقبوضہ کشمیر میں ادویات کا فقدان ہے،ہسپتال انتظامیہ نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کردیئے ہیں،2016سے 2018کے درمیان پیلٹ گنوں سے 1253 افراد اندھے ہوئے ہیں۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پیلٹ گنوں سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،مقبوضہ کشمیر میں اہم سڑکوں پررکاوٹوں کی وجہ سے لوگوں کا ہسپتالوں تک پہنچنا بھی کافی مشکل ہے۔دوسری جانب برطانوی ٹی وی نے مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے کہ بھارتی پول کھول دئیے ہیں۔ بی بی سی ہندی سروس کی رپورٹ کے مطابق پیسے دے کر چلائی جانی والی ٹرانسپورٹ تو روڈوں پر موجود ہے لیکن مسافر کوئی نہیں۔ حریت کانفرنس اور سابق کٹھ پتلی وررا اعلی سمیت تمام کشمیری رہنما جیلوں میں قید ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم چوتھے ماہ بھی جاری ہیں۔ اسی لاکھ کشمیری میڈیا بلیک آؤٹ اور بھارتی سختیوں کا شکار ہیں۔ بی بی ہندی سروس کے مطابق بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے کہ کا مسلسل راگ آلاپ رہی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پیسے دے کر مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں پر گاڑیاں چلائی جارہی ہیں۔ یہ دکھانے کیلئے کہ کشمیریوں کی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن ان گاڑیوں میں کوئی مسافر نہیں۔ پیسے دے کر بھارتیوں کو سیرکیلئے بھیجا جارہاہے لیکن حقیقت میں مقبوضہ کشمیر کی صنعت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہواہے۔ کسان سے لے کر کشتی اور رکشہ چلانے والا پریشان ہیں۔سکول کھول دینے کا راگ آلاپا جارہاہے لیکن پڑھنے کیلئے کوئی بچہ نہیں۔ بھارتی فوج کے ڈر کے مارے والدین بچوں کو سکول جانے نہیں دیتے۔جیلوں میں قید کشمیری رہنماؤں سے ملنے کیلئے کوئی رشتہ دار یا کوئی انسانی حقوق کا کارکن جاتا ہے تو تلاشی کے بہانے اس کے کپڑے اتار کر تذلیل کی جاتی ہے جبکہ کشمیریوں رہنماؤں کو جیل میں کھانا ملتا ہے نہ ہی ادویات جبکہ بغیر بجلی کے رات کو جیل بھوت بنگلہ کا منظر پیش کرتا ہے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہونے کے بھارتی حکومتی عہدیداروں اور میڈیا کے دعوؤں کے برعکس 110ویں روز بھی علاقے میں بھارتی محاصرہ جاری اور کشمیری سخت مصائب و مشکلات کا شکار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر،جموں اور لداخ خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگ غیر قانونی بھارتی قبضے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مذموم بھارتی اقدام کیخلاف غم و غصے کے اظہار کیلئے سول نافرمانی جاری رکھے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں، تعلیمی ادارے اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت بھی کم ہے۔ مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں اور چپے چپے پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔ انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل سروسز تاحال بند ہیں جس کے باعث لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلبا اور تاجروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ادھرکانگریس نے نئی دلی میں جاری ایک بیان میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو غیر یقینی اور تشویشناک قرار دیتے صورتحال معمول پر ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حالات معمول پر ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی رہنما تاحال زیر حراست ہیں۔

حقائق بے نقاب

مزید : صفحہ اول