ادارے منشیات کی سپلائی دینے اور لینے والوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے: سپریم کورٹ

    ادارے منشیات کی سپلائی دینے اور لینے والوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے منشیات سمگلنگ میں ملوث خاتون نذہت بی بی کی سزا کیخلاف دائر اپیل خارج کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے گزشتہ روز معاملے کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ کاروبار میں خواتین کو استعمال کرنے لگے،خواتین کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو اس گھناونے کاروبار میں بچوں کو استعمال کیا گیا،جیسے جیسے قانون بہتر ہوتا ہے جرائم پیشہ عناصر اپنا طریقہ واردات بھی بدل لیتے ہیں۔ اس موقع پر ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون ملزمہ کی بیٹی کی شادی ہے،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سزا ختم کی جائے۔ جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئیے کہ اداروں کی ناکامی ہے منشیات سپلائی کرنیوالے کو پکڑا جاتا ہے،ادارے منشیات کی سپلائی دینے والے اور لینے والوں پہ ہاتھ نہیں ڈالتے،منشیات ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے غربت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ عدالت نے خاتون کی 3سال قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے سزا معافی کی دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔سپریم کورٹ میں میپکو ملازم سلیم کی سروس بحالی کے حوالے سے اپیل پر سماعت، میپکو وکیل کی گزشتہ سماعت پر بغیر اطلاع عدم حاضری پر معافی مانگ لی، عدالت نے وکیل میپکو کی معافی کی درخوست منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔جمعرات کو معاملے کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کی۔گزشتہ سماعت پر وکیل کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ وکیل صاحب آپ نے سپریم کورٹ کو کیا سمجھ رکھا ہے،عدالت کیساتھ ایسا رویہ نہ رکھیں کہ کیس پر نہ وکیل آئے اور نہ ہی التواء کی درخواست،کیوں نہ آپ کو 10ہزار روپے جرمانہ کر دیں،ایڈووکیٹ آن ریکارڈ رفاقت حسین کسی مقدمے میں پیش ہی نہیں ہوئے،کچھ صاحبان بہت ہی غیر سنجیدہ ہیں۔وکیل میپکو نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ ایکسیڈنٹ کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا۔ایڈوکیٹ آن ریکارڈ رفاقت حسین نے مجھے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہوں گے، اس موقع پر انہوں نے آئندہ غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے عدالت سے معافی مانگ لی جسے عدالت نے قبول کر تے کیس کو بحال کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ معاملے میں میپکو میٹر ریڈر کو غلط میٹر ریڈنگ پر 2003 میں نوکری سے جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف عبدال سلیم نے سروس ٹربیونل میں 2006 میں اپیل دائر کی۔سروس ٹربیونل نے بھی 2007 میں درخواست خارج کر دی۔سروس ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سلیم نے ایپلٹ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا۔ایپلیٹ سروس ٹربیونل نے 2015 میں سلیم میٹر ریڈر کو نوکری پر بحال کر دیا۔ ہائیکورٹ نے بھی اپیلٹ سروس ٹریبونل کے فیصلے کو بحال رکھا تھا۔ عدالت نے معاملے کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ نے سانحہ ساہیواال کے مدعی محمد جلیل کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔سپریم کورٹ میں درخواست پر سماعت جسٹس مشیر عالم نے کی۔مدعی نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی۔سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ واقعے سے متعلق جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے،جے ائی ٹی نے واقعے کی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا،درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اب کوئی ضرورت نہیں کہ عدالت میں زیر التوا درخواست پر سماعت کی جائے، درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہے۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران چاروں صوبوں اور وفاق نے عملدرآمد رپورٹس عدالت میں پیش کر دیں۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ہم ان رپورٹس کا جائزہ لے کر ہدایات جاری کریں گے،اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کمشن صرف اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرامد کروانا ہے، جس کیلئے ہم نے تمام صوبوں کے اداروں کو حکم دیا ہے کہ فیصلے پر عملدرامد کریں،تمام صوبوں نے فیصلے پر عملدرامد کے حوالے سے رپورٹ جمع کروا دی ہیں،ہم ان رپورٹس کا جائزہ لے کر ہدایات جاری کریں گے۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول