حکومت کا صوبے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کا اعتراف

  حکومت کا صوبے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کا اعتراف

  



لاہور (آن لائن،آئی این پی) پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے ایوان کو بتایا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ پورے پنجاب میں ہے،صوبے میں منافع خوری ہو رہی ہے حکومت اس سے غافل نہیں ہے،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ موسمی اثرات کی وجہ سے ہورہا ہے ،کہیںبارشیں زیادہ ہوئی اور کہیں کم ہوئی ہیں جس کی وجہ سے فصلیں متاثرہوئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے زیر صدارت ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ صنعت و تجارت کے متعلق سوالوں کے جواب صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی جانب سے دیے گئے۔ میاں اسلم اقبال نے پرائس کنٹرول پر عام بحث کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 808روپے،گھی کی قیمت 140سے180روپے تک ہے،سندھ میں آٹے کی قیمت 1150روپے ہے،حکومت دکانداروں کو اشیاءسرکاری ریٹ پر فروخت کرنے کی پابند کررہی ہے،پنجاب کے 36اضلاع میں 36پرائس کنٹرول کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔مہنگائی پر بحث کے دوران مےاں اسلم اقبال نے کہا کہ حکومت پنجاب صوبے مےں غر ےبوں کےلئے راشن کارڈ متعارف کروارہی ہے ‘غر یب طبقے کو بلاتفریق راشن کارڈ جاری کئے جائیں گے مستحق افراد کا ڈیٹا بجلی گیس کے بلوں کی بنیاد پر مرتب کیا جائیگا۔صوبائی وزےر مےاں اسلم اقبال نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے دوران چینی زبان سیکھنے کے لئے ایک سکیم متعارف کروائی ہے ‘ہنر مند نوجوان پروگرام کے منصوبے کے لئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘چینی زبان سیکھنے والے طلبا سے دو ہزار روپے ماہانہ لیا جا رہا ہے‘چینی زبان سیکھنے والے طلبا کا وظیفہ مقرر کیا جائے جس پر (ن) لےگ کے اےم پی اے ملک احمد خان نے کہا کہ اسٹوڈنٹ سنجیدہ ہوں تو ان کو وظیفہ دیا جائے جبکہ سپےکر پروےز الٰہی نے کہا کہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا طالبعلم چینی زبان سیکھنے میں سنجیدہ ہے؟ طلبا کو چینی زبان سکھانے کے لئے فیس کم کی جائے میری تجویز ہے کہ چینی زبان سیکھنے والے طلبا کی فیس ایک ہزار روپے مقرر کی جائے جس پرمےاں اسلم اقبال نے کہا کہ پہلے ہی فیس انتہائی کم ہے، مارکیٹ میں چھ ہزار دو سو روپے فیس وصول کی جا رہی ہے۔ میاں اسلم اقبال مسلسل 45منٹ تقریر کرتے رہے جس پر اپوزیشن ارکان اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے ،خلیل طاہر سندھو نے کہا ہمیشہ وزیر بحث کا آغاز دس یا پندرہ منٹ کی تقریر سے کرتے ہےں پھر اس پر اراکین اسمبلی اپنی اپنی بات کرتے ہیں اور آخر میں وزیر اس بحث کو سمیٹتا ہے لیکن میاں اسلم اقبال نے 45منٹ کی تقریر کرلی ہے پھر بھی بس نہیں کررہے ،جس پر میاں اسلم اقبال جذباتی ہو گئے ،میاں اسلم نے کہا میری جتنی تیاری ہے میں اتنی ہی بات کروگا ،آپ لوگوں میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے مجھے چیئر نے اجازت دی ہے میں بات کررہا ہے۔مسلم لیگ ن کے رکن اویس لغاری نے کہا میاں اسلم نے 45منٹ کی تقریر کردی ہے،پاکستان سمیت اقوام متحدہ میں بھی کسی وزیر نے 45منٹ کی تقریر نے کی،اگر میاں اسلم 45منٹ کی تقریر اپنے حلقے میں سنائیں تو لوگ ان پر ٹماٹر،پیاز اور گوبھی کی بارش کرینگے۔اسی دوران صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین کھڑے ہو گئے انہوں نے کہا اگر حکومتی وزیر کو بات نہیں کرنے دینی تو ہم یہاں کسی کو بات نہیں کرنے دینگے،جس پر ایوان میں ایک مرتبہ پھر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی،لیگی رکن ملک احمد خان نے کہا چوہدری ظہیر ہمیں دھمکی دے رہے ہیں ،اپوزیشن کا حکومت پر تنقید کرنا ہے اور حکومت خاموشی سے ہمیشہ سنتی ہے لیکن یہ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں ،اسی دوران ن لیگ کے رکن سمیع اللہ خان کھڑے ہو گئے، انہوں نے کہا ایک سال میں اس حکومت نے جو قانون سازی کی ہے وہ پنجاب کی تاریخ کی سیاہ ترین قانون سازی ہے،میں اس کو چیلنج کرتا ہوں،یہ لوگ جو ایک دن میں9 بل پاس کرتے رہے ہیں وہ بھی سٹینڈنگ کمیٹیوں کی منظوری کے بغیر ہوتے رہے ہیں سٹینڈنگ کمیٹیوں میں کورم بھی پورا نہیں ہوتا تھا اور وہی بل اسمبلی میں لے آئے ہیں،اس کے جواب میں وزیر قانون نے کہا ن لیگ کی حکومت نے ایک سال میں 21آرڈیننس لائے ہم ایک سال میں 18آرڈیننس لائے،اگر ان کو بلز چیلنج کرنے ہیں تو شوق سے کریں لیکن ان کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ بلز کےلئے ایک بھی تجویز دینا مناسب نہیں سمجھتے ۔اجلاس کے دوران اس وقت حکومتی خواتےن اراکےن اسمبلی نے ہنگامہ اور احتجاج شروع کردےا جب (ن) لےگ کے آغاز علی حےدر نے حکومتی خاتون اےم پی اے کو آنٹی کہہ دےا جس پر ڈپٹی سپےکر نے الفاظ کارروائی سے حذ ف کروادےئے ڈپٹی سپےکر کی جانب سے اےم پی اے سے الفاظ واپس لےنے کے مطالبے پر علی حےدر نے کہا کہ مےں اپنے الفاظ واپس لےتاہوں آپ آنٹےاں نہےں بلکہ جو خود کو سمجھتی ہیں وہی ہیںجس پر خواتےن اراکےن اسمبلی خاموش ہوگئےں

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ اول