سی پیک کے نئے فیز میں صنعت زراعت، سوشل سیکٹر کے شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے: چینی سفیر 

  سی پیک کے نئے فیز میں صنعت زراعت، سوشل سیکٹر کے شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے: ...

  



اسلام آباد (آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، چین کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت پاکستان اور قومی اسمبلی سی پیک کی تکمیل کیلئے مکمل تعاون فراہم کر یگی،سی پیک پر دسمبر میں ایک بڑا سیمینار کرائیں گے،جس میں وسطی ایشیاء ریاستوں پاکستان اور چین کے ارکان پارلیمنٹ شرکت کریں گے،سی پیک کو وسطی ایشیاء ریاستوں کے ساتھ لنک کرنے کیلئے غور کیا جائے گا،پاکستان مستقبل میں بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرے گا،سی پیک کا اس میں بنیادی کردار ہو گا، چین پاکستانی کسانوں اور تاجروں کیلئے مزید اپنی مارکیٹیں کھولے اور ان کو خصوصی درجہ دے، وزیر توانائی عمر ایو ب خان نے کہا ہے کہ سی پیک کی بنیاد 60سال قبل رکھی گئی تھی،سی پیک کے تحت چین کو دنیا کی مارکیٹ تک رسائی پاکستان کے ذریعے ہو گی،سی پیک کے تحت پاکستان کو ویلیو ایڈڈ ٹریڈ کا حصہ بنایا جائے گا،پاکستان میں اس وقت توانائی کے شعبے میں 120ارب سے لے کر 130ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں،2030تک پاکستان کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 55ہزار میگاواٹ ہو جائے گی، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسئلہ کشمیر، نیو کلیئر پروگرام اور جمہوریت پر مکمل اتفاق رائے ہے،سی پیک کے بہترین فوائد ابھی آنے باقی ہیں، چین سی پیک کے تحت پاکستان میں معاشی ترقی میں ہی صرف سپورٹ نہیں کر رہا بلکہ اہم ایشوز پر پاکستان کا ساتھ بھی دے رہا ہے،بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبد یل کرنے پر چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہو ااور بھرپور ساتھ دیا،جبکہ چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا کہ سی پیک پر عملدرآمد کے پانچ سال میں توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور گوادر پورٹ کے منصوبوں پر اہم کامیابیاں حاصل کیں،سی پیک کے نئے فیزمیں صنعتی، زراعت،سوشل سیکٹر کے شعبوں میں مزید فوکس کیا جا رہا ہے،سی پیک کا مقصد پاکستان کے عوم کی فلاح اور ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا ہے،سی پیک کھلا منصوبہ ہے، اس میں کوئی بھی سرمایہ کار یا ملک سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔جمعرات کو پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ اور پاور چائنا کے زیر اہتمام اسلام آ باد میں پاور چائنا کی پورٹ قاسم پاور پلانٹ پر پائیدار ترقی ریسرچ رپورٹ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا، تقریب سے بطور مہمان خصو صی خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ چین کے سفیر یاؤجنگ کو پاکستان چین تعلقات کو مضبوط کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،سی پیک کا جب آغاز ہوا تو صوبوں کے اس پر کچھ خدشات تھے، مغربی روٹ کو نظر انداز کرنے پر ہمارے خدشات تھے لیکن یہ تمام خدشات دور کئے گئے،سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابی سے تکمیل اس بات کا مظہر ہے کہ یہ ایک کامیاب کہانی بن چکا ہے،اس وقت 22 منصوبوں میں سے 13 اہم منصوبے مکمل ہو چکے ہیں،جبکہ 9منصوبے تکمیل کے قریب ہیں،پاکستان میں مسئلہ کشمیر، نیو کلیئر پروگرام اور جمہوریت پر مکمل اتفاق رائے ہے اور اپوزیشن ان ایشوز پر مکمل متحد ہے،سی پیک پاکستان کا مستقبل ہے جب سی پیک کا آغاز ہوا تو اس وقت اس میں کوئی بھی سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں تھا۔پارلیمانی کمیٹی سی پیک کے چیئرمین شیر علی  ارباب نے کہا کہ سی پیک مغربی روٹ پر کام جاری ہے،سی پیک کے دوسرے مرحلے میں برآمدات کے اضافے پر فوکس کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر