گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے 100کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز ملازمین بر طرف

  گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے 100کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز ملازمین بر ...

  



فیصل آباد(نامہ نگارخصوصی)جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ نے گذشتہ تین تین چار چار سال سے ملازمت کرنے والے تقریباً100 ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو اچانک ہی برطرفی کے نوٹس جاری کر کے ان کے گھر کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے۔ گریڈ ایک تا سولہ کے سکیورٹی گارڈز،لیب اٹینڈنٹس‘ نائب قاصد‘آفس اسسٹنٹس اور کلرک نوکری سے فارغ ہونے والوں میں شامل ہیں اس کی زد میں وہ ملازمین بھی آ گئے جواپنی اس سروس کے دوران اوورایج ہو گئے تھے ان میں زیادہ تر ملازمین مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھرتی ہوئے تھے۔ ملازمین کوبرطرفی کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ یکم اکتوبر 2019ء کو لاہور میں منعقدہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے8ویں اجلاس کے ایجنڈے کی متعدد شقوں کی منظوری کے بعد کیا گیا،مذکورہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت کے ایکٹ کے تحت جو ملازمین کسی بھی سرکاری ادارے میں مسلسل تین سال سے کنٹریکٹ یا کسی بھی سسٹم کے تحت ملازمت کرتے چلے آ رہے ہیں انہیں کسی شرط کے بغیر ریگولر کر دیا جائے مگر ان ملازمین کو اس ایکٹ کے تحت ریگولر کرنے کے بجائے برطرفی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے۔ معتبر ذرائع کے مطابق خالی ہونے والی پوسٹوں پر نئی بھرتی کیلئے اب باضابطہ اشتہار جاری کرنے کی پلاننگ بھی کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق سنڈیکیٹ کے اجلاس میں ایک ایسی آفس اسسٹنٹ کاکیس رکھ کر ریگولر ملازمت کی منظوری لے لی گئی جس کو سابق وائس چانسلر ڈاکٹرنورین عزیز قریشی کے دور میں بھرتی کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر نورین عزیز قریشی جب ریٹائر ہوئیں تو ا ن کے بعد ڈاکٹر صوفیہ انور نے قائمقام وائس چانسلر کا چارج سنبھالا تو انہوں نے خاتون کو اس بناء پر فارغ کر دیا کہ انہیں زائد العمرہونے کے باوجود کیسے بھرتی کر لیاگیا۔ پھر جب اس خاتون کی طرف سے سیاسی پریشر پڑا تو انہیں فی لیکچر معاوضہ کی بنیاد پر دوبارہ واپس بلا لیا گیا۔ اور موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹرروبینہ فاروق کے دور میں ایک صوبائی وزیر ان کے پرزور سفارشی بن کر آ گئے جس کے نتیجے میں ان کا کیس سنڈیکیٹ میں پیش کروا کر وہاں سے منظوری حاصل کر لی گئی اور یکم اکتوبر کے سنڈیکیٹ اجلاس کے منٹس کی منظوری کے بعد زائدالعمرکے الزام میں ملازمت سے نکالی گئی اس آفس اسسٹنٹ کو ریگولر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نورین عزیز قریشی کے دور میں کسی ایڈورٹائزمنٹ کی بغیر ہی بھرتی ہونے والے ایک اسسٹنٹ رجسٹرار اورایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے معاملات بھی حکام بالا کی نظروں سے بچ نکلنے میں نہ جانے کیسے کامیاب ہو گئے؟معلوم ہوا ہے کہ برطرفی کے جاری شدہ نوٹسز پر ان قائمقام رجسٹرار کے دستخط ہیں جو ماضی قریب میں خود ان ملازمین کی برطرفی کا سبب بننے والے اس وقت کے میل قائم مقام رجسٹرار کو بڑی شدت کے ساتھ نہ صرف تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں بلکہ اس میل قائمقام رجسٹرار کے بارے میں اعلیٰ حکام کو درخواستیں بھجوانے والوں کی بڑی ہمدرد بھی شمار کی جاتی رہی ہیں برطرفی کے نوٹس کی زد میں آنے والے ان ملازمین نے ”پاکستان“ سے رابطہ کر کے اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد

مزید : علاقائی