سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین مقامی سطح پر تیا رکر لی گئی 

سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین مقامی سطح پر تیا رکر لی گئی 

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہر قائدمیں بڑھتے ہوئے سگ گزیدگی کے واقعات کے حوالے سے ہیومن رائٹس نیٹ ورک کراچی کا اجلاس مرکزی آفس میں منعقد ہوا۔  جس میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک کراچی کے صدر انتخاب عالم سوری، جرنل سیکرٹری شہزاد مظہر،طارق خان،ارشد شیخ،عرفان رانا، خالد جمال نے شرکت کی۔اجلاس میں کراچی میں سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کااظہا ر کرتے ہوئے انتخاب عالم سوری نے کہا کہ اینٹی ریبیزاور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین مقامی سطح پر تیا رکر لی گئی ہے مگر اسے ڈرگ ریگیولیریٹی اتھاریٹی آف پاکستان کی جانب سے اپروول نہیں دی جا رہی ہے۔اپروول کے بدلے بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے۔حکومت سے اپیل ہے کے فوراً ایکشن لے کر اس ویکسین کو ٹیسٹ کے بعد اپروول دی جائے تاکہ ویکسین مقامی سطح پر تیار ہو سکے۔ یہ ویکسین نا صرف مقامی سطح پر تیار ہونے کی وجہ سے سستی ہو گی بلکہ آسانی سے دستیاب بھی ہو گی۔تفصیلات کے مطابق انتخاب عالم سوری نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی۔ پچھلے ایک سال کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک ملک میں دو لاکھ سگ گزیدگی کے واقعات ہو چکے ہیں 90ہزار تو وہ لوگ ہیں جو باقاعدہ ہسپتال لائے گئے ہیں اور ان کا علاج ہو ا ہے۔21افراد پچھلے ایک ماہ میں سگ گزیدگی کے واقعات میں اپنی جان گوا چکے ہیں بڑے افسوس کی بات ہیں کہ ہمارے ہاں کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز وائرس سے بچنے کے لئے لگائی جانے والی ویکسین ہی دستیاب نہیں ہے اور جہاں میسر ہے وہ باہر سے درآمد کر کے منگوائی گئی ہے جو کہ بہت مہنگی ہے پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزنے ریبیزکی بیماری اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین ایک ریسرچ کے بعد تیا رکرلی ہے مگر ڈرگ ریگیولیریٹی اتھاریٹی آف پاکستان کی جانب سے اس ویکسین کو اپروول نہیں دی جا رہی اور بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے۔ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر ایکشن لے اور ویکسین کو ٹیسٹ کے بعد اپروول دی جائے تاکہ ویکسین مقامی سطح پر تیا ر ہو، جو درآمد کی گئی ویکسین کے مقابلے میں کم قیمت بھی ہو گی اورآسانی سے دستیاب بھی ہو گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر