حضرت محمدﷺ کی آمد رشد و ہدایات کا ذریعہ بنی، سعدیہ راشد

    حضرت محمدﷺ کی آمد رشد و ہدایات کا ذریعہ بنی، سعدیہ راشد

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ ہادیئ عالم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایات کا باعث بنی، اگر آپؐ کی تعلیمات ہم تک نہ پہنچتیں تو ہم بے راہ روی اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد نونہال اسمبلی کے زیر اہتمام ”نونہال سیرت کانفرنس“ سے بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینتہ الحکمہ، کراچی میں خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ربیع الاول کے ماہ مقدس کی عظمت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہستی کی نسبت سے ہے کہ آپؐ اس ماہِ مبارک میں اس جہان میں تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ایک اللہ کا مانتے ہیں، کسی کو اس کا شریک نہیں ٹہراتے، ایک دین کی پیروی کرتے ہیں، جو دین فطرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہم اللہ کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کریں، اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کریں، لوگوں کے کام آئیں، برے کاموں سے بچیں اور اللہ واحدٗ، لاشریک کی عبادت کریں، اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نونہال سیرت کانفرنس جیسی بابرکت محافل سے اگر ہم اللہ اور اس کے رسول ؐ کی محبت کو اپنے دلوں میں لے کر اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ ان محافل میں ہماری شرکت بارآور ہوگئی۔ مہمان خصوصی، معروف سماجی کارکن اور شوریٰ ہمدرد کراچی کی اہم رکن نوشابہ خلیل نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں سب سے دل موہ لینے والی بات ”صلہ رحمی“ ہے جس کا لغوی معنیٰ معاف کردینا ہے لیکن اس کے وسیع تر معنیٰ میں عزیزوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور عام لوگوں سے ہمدرد انہ اور اچھا سلوک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرا سوچیے کہ اگر ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کے صرف اس ایک پہلو پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا معاشرہ کتنا اچھا اور پُرامن ہو جائے گا۔ قرآن پاک کی سورہئ عمران میں اللہ تعالیٰ مومنین کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”جو غصے کو پی جاتے اور دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے یہ رویہ اور یہ طریقہ اپنایا ہوتا تو ہم بحیثیت قوم اس حال پر نہ ہوتے کہ جس پر آج ہم پہنچ گئے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر