پرائیویٹ حج سکیم کے لئے سزا ہے جزا کیوں نہیں؟

پرائیویٹ حج سکیم کے لئے سزا ہے جزا کیوں نہیں؟
 پرائیویٹ حج سکیم کے لئے سزا ہے جزا کیوں نہیں؟

  



اہل ِ پاکستان کی معلومات کے لئے عرض کروں گا، 2005ء سے پاکستان میں سعودی تعلیمات کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے پرائیویٹ حج سکیم متعارف کرائی، سعودی حکومت نے دُنیا بھر کی طرح2005ء میں پاکستانی حکومت کو بھی آگاہ کیا، بڑھتے ہوئے مقابلہ سازی کے دور میں سعودی حکومت نے دُنیا بھر کے ممالک کی طرح پاکستان میں پرائیویٹ سکیم شروع کرنے کے ساتھ گیا، سعودی حکومت کی خواہش ہے حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور حاجیوں کو ان کی مرضی کی فلائٹ، مرضی کا ہوٹل، مرضی کا مکتب لینے کی سہولت میسر ہو۔پاکستان سمیت تمام ممالک کو کہا گیا ہماری خواہش ہے حج کا سارا نظام مرحلہ وار پرائیویٹ ہو جائے۔

سعودی حکومت کے اعلان کے وقت پاکستان میں بھی پرائیویٹ حج سکیم مقبول عام نہیں تھی،بلکہ پرائیویٹ حج کروانے والوں کی تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر تھی۔اس وقت وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق تھے، جن کے اپنے والد محترم کی وجہ سے سعودی حکومت کے ساتھ بھی بڑے اچھے تعلقات تھے۔اعجاز الحق صاحب کے ساتھ سیکرٹری مذہبی امور وکیل احمد خان تھے، دونوں شخصیات حج جیسے اہم رکن کو اس کا جائز مقام دِلانے اور ضیوف الرحمن کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے جذبہ سے بھی سرشار تھے اس لئے وکیل احمد خان نے پرائیویٹ حج سکیم کے نظام کو سعودی تعلیمات کے مطابق پوری طرح سمجھا اور پھر اس کے لئے مضبوط ترین نظام تشکیل دیا، جس میں ملکی مفاد کے ساتھ پاکستانی وقار کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا، حاجیوں سے کی گئی کمٹمنٹ کو پورا کرنے کے لئے حج آرگنائزر کو بھی پابند بنانے کے لئے قوائد ترتیب دیئے اور ٹریول کمپنیوں کوSECP سے رجسٹرڈ ہونے کی شرط عائد کی، ٹورازم سے رجسٹریشن لازمی قرار دی، پیڈ آف کیپٹل بھی طے کیا،حج آرگنائزر کی رجسٹریشن کا مربوط نظام بنایا،حج آرگنائزر کو کمپنی کو پرائیویٹ لمیٹڈ کروانے کے ساتھ سعودی تعلیمات کے مطابق وزارتِ مذہبی امور کی زیر نگرانی کام کرنے کا پابند بنا دیا، وکیل احمد خان کے اللہ تعالیٰ درجات بلند کرے، ان کے بعد آغا سرور رضا قز لباش نے ذمہ داری سنبھالی تو ضیوف الرحمن کو مزید تحفظ دینے کے لئے پیڈ آف کیپٹل میں اضافہ کر دیا گیا۔

اتھورائزڈ کیپٹل بھی بڑھایا اور ساتھ سروس پراویڈر بھی لازمی قرار دے دیا،جس میں باقاعدہ حج آرگنائزر کا حاجی کے ساتھ اشٹام پیپر پر ایگریمنٹ سائن ہونا شروع ہو گیا،جس میں وزارتِ مذہبی امور نے حج آرگنائزر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے مانیٹرنگ کے نظام کو اپنایا اور SoP مزید سخت کر دیئے، سروس پروائیڈر کے ذریعے حج آرگنائزر کو ایک ایک قدم پر پابند کر دیا گیا، جہاں غلطی ہوئی تو یہ سزا ہو گی، یہ پابندی نہ کی تو یہ سزا ہو گی، سختی اس حد تک کی گئی کہSoP کے مطابق کم از کم سزا ایک لاکھ روپے،ایک سال کے لئے کام کرنے پر پابندی،10لاکھ روپے جرمانہ جیسی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے لاکھوں روپے لگا کر پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے والے ٹورازم کی چار لاکھ کی گارنٹی بھرنے والے ایاٹا کی80لاکھ کی گارنٹی بھرنے والے50لاکھ سے ایک کروڑ تک پیڈ آف کیپٹل رکھنے والے خوبصورت آئی ٹی سے مزین دفتر بنانے والے تجربہ کار سٹاف رکھنے والے حج آرگنائزر کے لئے15سے20قسم کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں،حتیٰ کہ ان کی نمائندہ ہوپ سے HCF فنڈ کے نام پر بھاری رقوم بطور گارنٹی بھی رکھی گئی ہیں اس کے باوجود2005ء سے کام کرنے والوں کے لئے صرف سزائیں ہی سزائیں ہی،جزا نہیں ہے۔14سال سے اچھا کام کرنے والے درجنوں ایسے بھی حج آرگنائزر ہیں جن کو شاباش کا خط تک نہیں لکھا گیا۔

اس کے مقابلے میں 2005ء سے اب تک درجنوں کمپنیوں کو معمولی غلطیوں پر کروڑوں کی سزائیں اور ایک ایک سال دو دو سال کے لئے بلیک لسٹ کرنے کی مثالیں موجود ہیں، پرائیویٹ حج سکیم جس نے پہلے دن سے خود احتسابی کا نظام اپنایا مرحلہ وار آگے بڑھتی گئی۔2017ء سے2018ء تک دُنیا بھر میں تیسرے سے دوسرے نمبر پر آ گئی۔2019ء کے حج میں دُنیا بھر میں سرفہرست رہی۔ پرائیویٹ حج سکیم کے پیکیج وزارت دے گی اس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے۔ ریال کی قیمت وزارت دے گی ادائیگیاں آن لائن ہوں گی۔ ریال3سے 5روپے بڑھ گیا، سعودی حکومت نے5فیصد سے 10فیصدVAT ٹیکس لگا دیا۔ آئی بین کے ذریعے ادائیگیوں کی وجہ سے ریال کی قیمت 5روپے بڑھ گئی،حج آرگنائزر کو10لاکھ ریال آن لائن کرنے پر50لاکھ کا نقصان ہو گیا، یہ نقصان حج آرگنائزر خود بھگتے گا۔دلچسپ پہلو سامنے آیا ہے وزارتِ مذہبی امور کے آفیسرز اور اہلکار دودھ میں دُھلے ہوئے ہیں ان کا کہنا حرفِ آخر، ایک بات یکسوئی سے پھیلائی گئی،پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر لوٹ مار کرتے ہیں،حاجیوں سے زیادتی کرتے ہیں اس پراپیگنڈا کا نوٹس آج تک نہیں لیا گیا۔

حج آرگنائزر کو تو دور کی بات ان کے نمائندوں سے پوچھنا ان کو سامنے بٹھا کر الزام لگانا بھی گوارہ نہیں کیا گیا۔اس کے برعکس پرائیویٹ سکیم جس نے ہر آنے والے سال میں اپنے آپ کو بہتر ثابت کیا۔ اس کو سبوتاژ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا گیا۔ معلومات کے لئے سرکاری سکیم کی مقبولیت کا بھی تذکرہ ہو جائے۔سرکاری حج پالیسی تین سال کے لئے بنائی جائے گی تاکہ تین سال کی ایک ساتھ عمارتیں حاصل کر لی جائیں،ان کو ادائیگیاں ایڈوانس کر لی جائیں، مکتب سے تین سال کے لئے بات ہو جائے۔یہی بات اگر پرائیویٹ حج سکیم کا حج آرگنائزر کہتا ہے ہم نے مکتب کے حصول کے لئے ایڈوانس50ہزار ریال دیئے ہیں، مکہ مدینہ کے ہوٹل اور عزیزیہ بلڈنگ کے لئے ایک لاکھ ریال ایڈوانس دیئے ہیں تو کہا گیا آپ نے منی لانڈرنگ کی ہے۔

آن لائن کیوں نہیں کئے، بلیک میلنگ اور کینہ پروری کی انتہا ہے کو آن لائن ادائیگیوں کی مکمل ادائیگیوں سے مطابقت نہ ہونے پر شو کاز لیٹر دے کر جرمانوں کے ساتھ بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سرکاری پالیسی تو تین سال کے لئے ہو گی، پرائیویٹ کے لئے ہر سال بنے گی، دو عملی کیوں؟ سینئر حج آرگنائزر کے تین خطوط کی روشنی میں ساری کہانی بیان کر دی ہے۔ سرکاری حج سکیم میں وزارت کی دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے، دو لاکھ حاجیوں کے لئے اربوں روپے کے وسائل لگائے جا رہے ہیں،16لاکھ عمرہ زائرین کیوں ترجیح نہیں بن رہے،10لاکھ زیارات پر جانے والوں کے لئے کیوں پالیسی نہیں بن رہی، اس پر پھر لکھوں گا۔ البتہ حج2019ء میں سرکاری حج کے نام پر سرکاری حج سکیم کے فارموں کی لوٹ سیل جو لگی ہے بیس گریڈ کے افسروں کی فیملی تک سروس سٹیکر پر گئی ہیں، پرائیویٹ حج سکیم سے بغض پھر بھی قائم ہے اور اپنے عزیز و اقارب کو کوٹہ دِلانے کا عمل بھی جاری ہے۔

وزارتِ میں بڑے بڑے بلنڈر مارنے والے اب بھی کوٹہ مافیا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وزارت کا وسیع نیٹ ورک، ملک بھر کے حاجی کیمپوں کا نیٹ ورک جدہ، مکہ، مدینہ میں کروڑوں روپے ماہانہ سرکاری وسائل لگانے کا مقابلہ پرائیویٹ حج سکیم سے کیا جا رہاہے، مانیٹرنگ کی بجائے آڈٹ کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، کیا سرکاری حج سکیم کا آڈٹ بھی کرنے کے لئے غیر جانبدار کمیٹی یا کمیشن بن سکتا ہے، روزنامہ ”پاکستان“ کو وصول ہونے والے خطوط بڑے طویل ہیں، پورا احاط کرنا ممکن نہیں۔آخر میں ایک خط2011ء سے50افراد کے کوٹہ کے ساتھ مشکل ٹاسک مکمل کرنے والوں کا ہے ان کے دلائل مضبوط ہیں۔

ان کا کہنا ہے ہم سے تقاضا 100 سے300 کوٹہ والوں کے برابر کیا جاتا ہے، گارنٹیاں ان کے برابر لی جاتی ہیں، ڈاکو ہمیں کہا جا رہاہے، کسی وقت ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہماری مشکلات بھی شیئر کر لی جائیں، 45افراد ایک بس میں،5افراد کے لئے دوسری بس، وزارت مانیٹرنگ میں 30ہزار ریال والی بس کا کرایہ 70 ہزار ریال وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کچھ لائحہ عمل تشکیل دے سزا تو ہمارے لئے ہے، جزا کا بھی تعین کرے تاکہ اچھا کام کرنے والوں کو حوصلہ ملے اور وہ مزید بہتر کام کرنے والوں کو حوصلہ ملے اور وہ مزید بہتر کام کرنے کی منصوبہ بندی کر سکیں۔وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان سے جانے والے ضیوف الرحمن وہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ سکیم کے ان کو پاکستانی حاجی تصور کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ ایک جیسی پالیسیاں بنائی جائیں، سزائیں بھی تجویز کریں، ساتھ حوصلہ افزائی کے لئے کوٹہ بڑھانے کی صورت میں شاباش کا نظام بھی بنایا جائے۔

مزید : رائے /کالم