مسلح روبوٹس کے ذریعے کشمیریوں کے گھروں کی تلاشی

مسلح روبوٹس کے ذریعے کشمیریوں کے گھروں کی تلاشی
 مسلح روبوٹس کے ذریعے کشمیریوں کے گھروں کی تلاشی

  



حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کی کشمیریوں پر ظلم ڈھانے کیلئے 550 مسلح روبوٹس تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسلحے سے لیس روبوٹس فائرنگ کرنے کے ساتھ سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت پر بھی نظر رکھیں گے۔روبوٹس میں سیڑھیاں چڑھنے، رکاوٹیں عبور کرنے اور گرینیڈ پھینکنے کی صلاحیت بھی ہوگی۔ بھارتی وزارت دفاع نے550 روبوٹس کی خریداری کا عمل شروع کردیا ہے۔ ان ربوٹس کو بھارتی فوج گھر گھر تلاشی اور محاصرے کے دوران بھی استعمال کرے گی۔روبوٹس مقبوضہ کشمیر میں تعینات راشٹریہ رائفل کے حوالے کیے جائیں گے۔

بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اپنی انتہا پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے حصے بخرے کر دیئے۔ وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے آئین کو توڑا گیا۔ آرٹیکل 370 آئینی شق تھی جس کو بغیر پارلیمنٹ سے پاس کرائے ختم کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر اور لداخ دو حصوں میں تقسیم کر کے بھارتی عمل داری میں زبردستی داخل کیا گیا۔ یوں بھارتی حکومت نے نہ صرف کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا بلکہ وہ آئین توڑنے کی بھی مرتکب ٹھہری۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت چھیننے کے بعد کشمیریوں کے خلاف قابض بھارتی فوج کے ظلم وستم کی داستا نیں سامنے آنے لگیں۔ قابض بھارتی فوج نے غیر قانونی قید کے دوران کشمیریوں پر تشدد کی انتہا کردی۔خود کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں کشمیریوں نے بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی داستانیں سنائیں۔ بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم میں رات گئے چھاپے، مارپیٹ، اور تشدد کی داستانیں شامل ہیں۔ کشمیر میں ڈاکٹرز صحافیوں سے کسی بھی مریض کے بارے میں بات نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کے شدید بیمار اور زخمی مریضوں کے لواحقین سے بات کرنا مشکل ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی سیکیورٹی فورسز پر مارپیٹ اور تشدد کے الزامات لگائے یہاں تک کہ کشمیریوں نے کہا کہ ہم پر تشدد نہ کریں۔ بس گولی مار دیں۔ بقول کشمیری عوام کہ انہیں لاٹھیوں،بھاری تاروں سے مارا جاتا ہے اور بجلی کے جھٹکے دئیے جاتے ہیں۔

کشمیری شہری نے بھارتی فورسز کی جانب سے کئے جانے والے ظلم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370ختم کرنے کے متنازع فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوج گھر گھر گئی۔بھارتی فوج نے راتوں میں چھاپے مار کر گھروں سے اٹھایا، ایک جگہ پر سب کو جمع کیا۔بھارتی فوج نے ہمیں مارا پیٹا،ہم پوچھتے رہے ہم نے کیا کیا ہے۔بھارتی فورسز کچھ بھی سننا نہیں چاہتے تھے اور انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا، وہ بس ہمیں مارتے رہے اور ہم چیخے تو انہوں نے ہمارے منہ مٹی سے بھر دیے۔

5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے وادی بھر میں مسلسل کرفیوکو آج 110 دن ہو چکے ہیں۔ وادی میں ذرائع آمد و رفت معطل اور مواصلاتی نظام منقطع ہے جس کے باعث پوری وادی جیل میں تبدیل ہوگئی ہے۔ کئی برس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی فوجیوں پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ کشمیر کی آبادی کو جسمانی اور جنسی استحصال اور بلاجواز گرفتاریوں سے ہراساں کر رہے ہیں۔ بھارتی سرکاری حکام ان الزامات کو علیحدگی پسند پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کرتے رہے ہیں مگر اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ وادی میں کیا ہو رہا ہے۔

قابض بھارتی فوج نے بھارت کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کے طول عرض بالخصوص سری نگرجیسے مرکزی شہریوں میں مسلسل کرفیو لگا رکھا ہے۔کشمیریوں نے عیدیں، محرم، ربیع الاول جیسے مذہبی تہوار بھی اپنے گھروں میں سنگینوں کے سائے تلے ہی گزار دیے۔ یہاں تو مساجد میں ہفتہ وار جمعہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ملتی۔ شیر دل کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑتے ہوئے باہر نکل آتے ہیں اور مردانہ وار بزدل فوجیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کشمیری عوام کے بڑے پیمانے پر مظاہروں سے خائف ڈرپوک بھارتی فوج نے شہریوں کو ان کے گھروں کے اندر محصور کررکھا ہے۔بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف کنٹرول لائن کے دونوں اطراف میں موجود کشمیری عوام نئی دہلی کے خلاف سخت غم وغصے میں ہیں۔

بھارتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سری نگر کے بعض حساس مقامات پر لوگوں کے اجتماعات پرپابندی عائد کی گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے لوگوں کو مساجد میں جمع ہونے کی محدود اجازت دی گئی تھی۔ اس موقع پر لوگوں کی فہرستیں جاری کی تھیں جنہیں گھروں سے نکل کر مساجد میں نماز کے لیے آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بھارت نے اس دوران 300 اہم رہ نماؤں کو حراست میں لے رکھا ہے یا انہیں نظر بند کیا گیا ہے۔ بازار بند ہیں اور لوگوں کے گھروں میں بنیادی استعمال کی اشیاء کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے۔ بیماروں کے علاج معالجے اور ان کی طبی معاونت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ سب سے زیادہ لاک ڈاؤن سری نگر شہر میں ہے۔ کشمیری قیادت نے وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے قانون کے خاتمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ کشمیری عوام اپنے حق خود اردایت کے حصول کے لیے 30 سال سے جدو جہد کررہے ہیں اور اس دوران اب تک 50 ہزار افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔

بھارتی حکومت کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم میں اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ہتھیار بنا لیا۔ سابق بھارتی جنرل ایس پی سنہا نے اپنی ذہنی گراوٹ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری خواتین کا ریپ کیا جانا چاہئے۔ بھارتی فوج کے سابق جرنیل نے ٹی وی شو میں کشمیری خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انتقام لینے کیلئے کشمیری عورتوں کا ریپ کرنا چاہئے۔جنرل (ر) ایس پی سنہا نے اپنی حکومت کو گھٹیا ترین‘ اخلاق سوز اور انسانیت سے گری ہوئی جو تجویز دی،یہی اصل میں بی جے پی کی سیاست اور حکومت کا چہرہ ہے۔ اس شیطانی چہرے کے پیچھے آر ایس ایس کا دماغ کارفرما ہے۔ آر ایس ایس ایک مجسم دہشت گرد تنظیم اور سفاکانہ سوچ کی حامل ہے۔

مزید : رائے /کالم