پام کی شجر کاری ساحلی ترقی کے منصوبوں میں سرفہرست ہے ،مرتضی وہاب

پام کی شجر کاری ساحلی ترقی کے منصوبوں میں سرفہرست ہے ،مرتضی وہاب

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ کے مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ کی ساحلی پٹی پام آئل کے درختوں کی شجر کاری کے لیئے موزوں یے لہذا پام کے درختوں کی شجر کاری ساحلی ترقی کے منصوبوں میں حکومت نے سرفہرست رکھی ہے - ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا - مشیر ماحولیات نے صحافیوں کو بتایا کہ پام آئل کی امپورٹ میں بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا یے اسی لیئے حکومت سندھ نے سندھ کے ساحلی علاقوں کی فزیبیلٹی رپورٹ چائنا اور ملائیشیا کے ماہرین سے مشاورت کے بعد بنائی گئی جس میں سروے کے مطابق ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کا ساحلی علاقہ بالخصوص ٹھٹھہ کا علاقہ پام کی شجرکاری کے لیئے بہت موزوں ہے اسی لیئے حکومت سندھ نے اس علاقہ میں پام کی شجر کاری کا پائلٹ پروجیکٹ لگایا اور درختوں کی افزائش سے لے کر ان درختوں کے تناور ہونے تک غیر ملکی ماہرین درختوں کا نباتاتی مشاہدہ کرتے رہے تھے - انہوں نے کہا کہ اب ان درختوں سے پام آئل کی کشید کا مرحلہ بھی انہی ماہرین کی زیرنگرانی عمل پزیر ہوا ہے جس میں آئل کی لزوجیت Viscosity اور غذائیت کے گراف کو بھی موضوع بحث لایا گیا تھا- انہوں نے کہا کہ ماہرین کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ان درختوں سے کشید کیا ہوا خوردنی تیل غذائیت میں کسی بھی طرح بین الاقوامی میعار سے کم نہیں بلکہ کچھ درجہ اس میعار سے اوپر ہی ہے - مشیر ماحولیات نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والا خوردنی تیل مارکیٹ سے ارزاں نرخوں پر دستیابی کیلئے حکومت سندھ مارکیٹنگ کی اسٹرٹیجی بنارہی ہے جس کے بعد ان منصوبوں کو ماحولیات سے منسلک کرتے ہوئے اقتصادی و ماحولیاتی پروجیکٹ کے طور پر لانچ کیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ اول