وزیر اعظم کے معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا مستعفی لیکن اس سے پہلے عمران خان کے کون کونسے ساتھی ان سے دور ہوچکے ہیں؟ سینئر صحافی نے بتا دیا

وزیر اعظم کے معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا مستعفی لیکن اس سے پہلے عمران خان کے ...
وزیر اعظم کے معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا مستعفی لیکن اس سے پہلے عمران خان کے کون کونسے ساتھی ان سے دور ہوچکے ہیں؟ سینئر صحافی نے بتا دیا

  



لاہور (تجزیہ: ایثار رانا) وزیر اعظم کے معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا کا استعفی خاصا معنی خیز ہے،حکومت کو میڈیا کے پلیٹ فارم پہ بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں اگر بیگ صاحب استعفی دیتے ہیں تو کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت جانے والی ہے اس لیے پہلے ہی سائیڈ پہ ہوجائیں؟۔مانا کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اور ڈاکٹر فردوس عاشق نے نے ایک اور تلوار فارغ کردی۔یہاں سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیگ صاحب اور ڈاکٹر صاحبہ کے ماضی میں تعلقات کبھی آئیڈیل نہیں رہے تو آخر انہیں یکجا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔مجھے یوں لگتا ہے کہ یا تو عمران خان کے پرانے ساتھی ایک ایک کرکے انکا ساتھ چھوڑ رہے ہیں یا انہیں دور کیا جارہا ہے اور یا انہیں دور ہونے پہ مجبور کیا جارہا ہے۔عمر چیمہ عون چودھری اکرم چودھری سب خان صاحب سے دور ہوچکے۔لیکن کیا جو لوگ آج خان صاحب کے ارد گرد ہیں وہ برے وقت میں بھی انکے ساتھ ہونگے اور برا وقت چاہے بتاکے نہ آتا ہو پر کچھ اشارے ضرور دے دیتا ہے۔وہ جماعتیں جو اپنے کارکنوں اور رہنما اپنے ساتھیوں کی عزت نہیں کرتے وقت آنے پہ پچھتاتے ضرور ہیں۔آصف ہاشمی کو ہی لے لیں انہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ان پہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا میرا دعوی ہے جتنی نوکریاں انہوں نے ورکرز کو دیں پیپلز پارٹی میں کوئی ایسا نہیں کرسکا۔آج بھی لوگ انہیں دعائیں دیتے ہیں لیکن جب وہ گرفتار ہوئے اور کئی سال عدالتوں کاسامنا کرتے رہے پیپلزپارٹی نے ساتھ دینا تو درکنار پوچھنا گوارا نہ کیا۔اب وہ جب گھر آگئے تو پھی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔انکا بیٹا پیپلز پارٹی کی وجہ سے آج بھی زیر عتاب ہے۔کہنے کا مطلب ہے کہ اگر آپ اقتدار میں اچھے ساتھی گنوادیں گے تو آپکا حال بھی برا ہوتا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور