فضل الرحمان کے 3 بڑی آفروں کے دعویٰ پر وزیراعظم بھی میدان میں آگئے، واضح موقف دیدیا

فضل الرحمان کے 3 بڑی آفروں کے دعویٰ پر وزیراعظم بھی میدان میں آگئے، واضح موقف ...
فضل الرحمان کے 3 بڑی آفروں کے دعویٰ پر وزیراعظم بھی میدان میں آگئے، واضح موقف دیدیا

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اب ہمارا فوکس عام آدمی‘ مہنگائی اور اپنے وعدے پورے کرنے پر ہے‘جب میں وزیراعظم بنا تو پہلے تین مہینے میں فیصلہ کرلیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہی آرمی چیف رہیں گے‘جنرل قمر جاوید باجوہ سے زیادہ متوازن اور ڈیموکریٹ آدمی فوج میں نہیں دیکھا‘ دھرنا دینا آسان نہیں‘ مولانا وہاں سے کیوں چلے گئے ‘ بیٹھے رہتے ‘جو بارش میں اپنے لوگوں کو چھوڑ جاتا ہے وہ کیا دھرنا دے گا۔

عمران خان کاکہناتھاکہ مولانا کا پلان اے سے زیڈ تک پہنچ چکا ہے‘انہیں کوئی آفر نہیں ہوئی‘فضل الرحمٰن کے دھرنے سے حکومت مضبوط ہوئی ‘ایک اور دھرنا ہوا تو مجھے زیادہ فائدہ ہوگا‘ ہم زیادہ قوت کے ساتھ فائٹ بیک کریں گے‘جزا و سزا اور تبدیلیوں کا نظام شروع ہوچکا ہے، دو ہفتوں میں تبدیلیاں آچکی ہوں گی‘ کرپشن کے خلاف میرا بیانیہ برقراررہے گا۔اپوزیشن کو مزید ساڑھے 3سال میراچہرہ برداشت کرنا پڑیگا‘سب سے زیادہ خوشی انڈین طیارہ گرنے پر ہوئی‘کنٹینر سے میری ذات پر حملے کئے گئے جس پر میں بہت غصے میں تھا‘بلاول بھٹو‘فضل الرحمٰن اور شہبازشریف کے خلاف آئندہ ایسی بات نہیں کروں گا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ارشاد بھٹی کو دیئے گئے انٹرویومیں کیا۔ جیونیوزکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے بتایا کہ  عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اپنی زندگی میں کسی کو بہترین آرمی چیف کہوں تو وہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں‘ جنرل باجوہ کرتارپور سے وائٹ ہاﺅس اور عرب ممالک تک، معیشت کے حوالے سے اور اندرونی و بیرونی سکیورٹی پر حکومت کیلئے آل آﺅٹ گئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ نہ ہوتے تو ہم اندرونی و بیرونی محاذ پر اتنا کام نہ کرپاتے، مجھے فخر ہے وہ میرے آرمی چیف اور سچے سپاہی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ کب کا ہوچکا ہے لیکن اس پر بھی عجیب و غریب افواہیں اڑ رہی تھیں جس پر ہم انجوائے کررہے تھے۔

ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ملاقات میں بہت ریلیکس اور پر اعتماد تھے‘ بات بات پر قہقہے لگارہے تھے‘ انہوں نے مجھے کافی پلائی اور بسکٹ بھی کھلائے۔بلاول‘ مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف سے متعلق اپنے بیان پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلاول کی سیاست کو دس سال ہوگئے ہیں، سندھ میں گورننس کا برا حال ہو اور کرنٹ لگنے سے تیس لوگ مرجائیں تو کوئی سیاستدان اتنی آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ بارش آتی ہے تو پانی آتا ہے، زیادہ بارش آتی ہے تو زیادہ پانی آتاہے‘ کیا مولانا فضل الرحمٰن نے سودے بازی نہیں کی؟ کیا جنرل جیلانی، شریف برادران کے بڑے نہیں تھے‘ پھر مسئلہ کیا ہے؟ عمران خان نے کہا کہ مجھے بطور وزیراعظم پاکستان یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن کنٹینر سے میرے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح میری ذات پر حملے کیے گئے، مجھے یہودی ایجنٹ بنایا گیا، اسلام سے خارج کرنے کی کوشش کی گئی ‘اس پر میں بہت غصے میں تھا‘مجھے یہ باتیں نہیں کہنی چاہئیں تھیں لیکن میں منافقت نہیں کرسکتا‘میرے اندر بہت غصہ تھا جو میں نے نکالا، اب میں نے سوچا ہے کہ آئندہ ایسی تقریر نہیں کروں گا۔

فضل الرحمٰن کے دعوﺅں سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جھوٹ کا کوئی علاج نہیں ہے مولانا فضل الرحمٰن کو کس نے آفر کی ہے، مولانا وہاں سے چلے کیوں گئے بیٹھے رہتے، چوتھے پانچویں دن کے بعد وہ دھرنے میں لوگوں کو پیسے دے کر بٹھاتے رہے۔وزیراعظم کا دو تین مہینے میں حکومت جانے کی افواہوں پر کہنا تھا کہ یہ لوگ مارچ اپریل 2023ءکی بات کررہے ہوں گے‘فارن فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ، مجھے فارن فنڈنگ کیس سے کوئی فکر یا خطرہ نہیں ہے، حکومت مضبوط ہے حکومت کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جمہوریت یا پارلیمنٹ کی کسی کو فکر نہیں صرف عمران خان کا چہرہ ناپسند ہے‘ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سولہ مہینے میں میرے لئے سب سے خوشی کا لمحہ وہ تھا جب انڈین جیٹ طیارہ گرایا، غم کے کئی لمحات آئے ہیں اس میں کشمیر، سانحہ ساہیوال اور مہنگائی سے عام آدمی کی مشکلات کا مجھے بہت غم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ2023ءمیں جاﺅں تو پاکستان سرمایہ کاری کا حب بن چکا ہو، ایگریکلچر میں انقلابی تبدیلیاں آچکی ہوں اور ملک کی انڈسٹری چل رہی ہو‘کابینہ میں تبدیلیوں سے متعلق عمران خان نے بتایاکہ جزا و سزا اور تبدیلیوں کا نظام شروع ہوچکا ہے، دو ہفتوں میںتبدیلیاں آچکی ہوں گی۔عمران خان کا کہنا تھاکہ وزراءکی گورننس اور پرفارمنس کی بڑی تنقید میں نے اپنے اوپر لے لی ہے اب میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ اپنی پرفارمنس سامنے لائیں، لوگوں کو ٹارگٹس اور ٹائم دوں گا‘ اس کے بعد ان سے پوچھوں گا۔

ارشاد بھٹی نے بتایاکہ میں نے جب ان سے پوچھا کہ آخری میٹنگ میں آپ نے مجھے وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا کہا تھا؟ تو اس پر انہوں نے قہقہہ مار کر کہا کہ سب تبدیلیاں ہوں گی بے فکر ہوجاﺅ‘ وزیراعظم نے عثمان بزدار کی ایک بار پھر تعریف کی‘وزیراعظم نے بتایا کہ مجھے احساس ہوا ہے کہ گورننس اور پرفارمنس بہتر کرنی چاہئے‘ اس ملک کو مافیاز کے حوالے نہیں کروں گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد