امریکہ ، کرد، ترکی اور دابق

امریکہ ، کرد، ترکی اور دابق
امریکہ ، کرد، ترکی اور دابق

  



اکتوبر 2019کو شام میں امریکی حمایت یافتہ کردوں کے زیر کنٹرول علاقے شمالی شام میں ترکی کے حملوں کے بعد یہ خطہ فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر گیاہے۔ ساتھ ہی معزز قارئین کا اصرار بھی جاری ہے کہ ہمیں مفصل بتایا جائے کہ کردوں اور ترکی کی اس لڑائی کے مابین عالمی طاقتیں کیا خفیہ کھیل کھیلنا چا رہی ہیں۔ جبکہ راقم موجودہ تمام منظرنامے کو نومبر 2017کو انہی صفحات پر تین کالمز کی صورت میں بہت حد تک بیان کر چکا تھا ۔ معزز قارئین کی تشنگی کے لیے انہی تین کالموں کو دوبارہ تھوڑی ترمیم کے ساتھ دو حصوں میں تحریر کیا جا رہاہے ۔

کردستان کا علاقہ بنیادی طور پر مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمال مشرقی عراق اور شمال مغربی ایران کے درمیان پہاڑوں میں واقع ہے۔ جو باقاعدہ سلطنت عثمانیہ کا ہی ایک حصہ تھا ۔ اس وقت بھی اس علاقے کو کردستان ہی کہا جاتا تھا۔ جو سیاسی اور عسکری تصادم کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا ، تب امریکی صدر ٹرومین نے کردوں سے ان کے آزاد ملک کے قیام کا وعدہ کیا۔ لیکن فرانس، برطانیہ اور مغربی حمایت یافتہ اتاترک نے اس کی شدید مخالفت کی۔ تب فیصلہ ساز قوتوں نے کردوں کو چار ممالک عراق، ایران، ترکی اور شام میں تقسیم کر دیا۔ ان ممالک میں ان کی آبادی پونے چار کروڑ ہے، جن میں سب سے زیادہ تعداد ترکی میں ایک کروڑ سے زائد اور ایران میں 80لاکھ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں بھی ان کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔

بہت سے امور میں اختلاف رائے ہونے کے باوجودچاروں ممالک ایک آزاد کرد ریاست کے قیام کے شدید مخالف ہیں۔ کرد معاشرے میں اشتراکیت کی گہری چھاپ ہونے کے باوجود فاتح فلسطین صلاح الدین ایوبیؒ سے اپنی نسبت اور بہادری پر ہمیشہ نازاں رہے ہیں۔ ننانوے فیصد مسلمان ہونے کے باوجود یہودیوں، شیعوں ، عیسائیوں کے علاوہ یزدانی اور یزدی عقائد کے کئی فرقے بھی ہیں لیکن اکثریت ان کی سنی شافعی عقیدے سے تعلق رکھتی ہے۔ کردوں میں عرب، آرمینن، آذربائیجان اور ترکمانی communtiesکی نسل کے باشندے بھی شامل ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق کردستان کا رقبہ 74مربع میل 191,660مربع کلومیٹرہے۔

موجودہ منظر نامے کو سمجھنے سے قبل قارئین کے لیے ایک پہلو کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔ طیب اردگان کے دور حکومت میں کردوں کے جتنے مسائل حل ہوئے ،شاید اس سے قبل ان کے حل کے بارے میں سوچنا بھی ناممکن تھا۔ حتیٰ کہ 2015میں ہونے والے انتحابات میں ترکی کی تاریخ میں پہلی بار کرد 10% ووٹ لیکر پارلیمنٹ میں پہنچے جن کو پورے ترکی میں خوش آمدید کہاگیا۔ طیب اردگان کے اس برادرانہ اسلوب نے ترکی میں رہائش پذیر کردوں کو عوام کے بہت قریب کر دیاتھاتودوسری جانب علیحدگی پسند pkkکی تحریبی کاروائیوں کو بھی کسی حد تک لگام پڑ ھ چکی تھی اور آہستہ آہستہ وہ عوامی اور سیاسی ساکھ کھوتے جارہے تھے۔ جو عالمی اسٹیبلشمنٹ کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی جب ترکی نے شام کے علاقے میں علیحدگی پسند کردوں کے خلاف آپریشن کیا تو پورے ترکی میں کہیں سے بھی اس آپریشن کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علیحدگی پسند کردوں pkk جن کو عالمی طور پر ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے، کے پشتی بان کوئی اور نہیں بلکہ یہی اہل مغرب، روس اور بشار الاسد ہیں ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان وجہ تنازع تین امور پر ہے (1) ترکی کے علیحدگی پسند مسلح جتھے(pkk، YPJ)اور یہی پیش مرگہ فورس ہے SDF اور حمایة الشعب یونٹس ( 2 ) گولن تحریک ( 3) بشار الاسد ۔

کردوں میں دو بڑے سیاسی گروپ ہیں ( 1 ) بارزانی گروپ PYDڈیمو کریٹک یونین پارٹی جس کا ہولڈ اربیل اور ( 2 ) طالبانی گروپPUKیونین آف کردستان جس کا ہولڈ سیلمانیہ پر ہے۔ پہلا گروپ امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور صہیونی ریاست اسرائیل کا منظور نظر بھی ہے جبکہ دوسرا گروپ براہ راست تہران سے ڈکٹیشن لیتا ہے۔ کردستان کی سب سے بڑی آزاد فورس امریکی حمایت یافتہ ” پیش مرگہ فورس “ ہے جو 2.3لاکھ جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔ علیحدگی پسند کردوں کی حمایت امریکہ، مغرب اور اسرائیل کی دوسری بڑی ترجیحات میں شامل ہے۔ اصل میں کردوں اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ہی امریکہ اور ترکی کے درمیان شروع دن سے ہی وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ جون 2017کو امریکہ نے جب کرد مسلح گروپ YPJکو اسلحے کی ایک بڑی کھیپ دی تو ترکی نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ رہی سہی کسر امریکی صہیونی حمایت کے نتیجے میں29 ستمبر 2017کو کردستان کی آزادی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم نے پوری کر دی گویا جس نے خطے میں زلزلہ برپا کر دیا تھا۔ درحقیقت جو مستبقل میں آزاد کردستان ریاست کی تمہید ہی تھی۔ اسلامی دنیا کی مخالفت کے باوجود حیرت انگیز طور پر نسل پرست صہیونی ریاست ریفرنڈم کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کردستان کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا تھا ۔ جس سے مستقبل کا منظر نامہ واضح ہوتا جارہا تھا کہ خطہ ایک انتہائی ہولناک تصادم کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بدقسمتی سے جس کا ایندھن کوئی اور نہیں بلکہ خطے کے مسلمان ہی ہوں گے، خاص کر ترکی کے مسلمان اور اسلام پسند حکومت جو گذشتہ دس سالوں سے صہیونی ریاست کے لیے روح سہن بنی ہوئی ہے۔ جبکہ ایرانی حکومت نے پہلے ہی اس خطے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تار تار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ( جاری ہے )

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ