نوازشریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ نکال لی ، پھر سوچا کہ یہ کیسی بیماری ہے جو جہاز دیکھتے ہی ٹھیک ہوگئی: عمران خان

نوازشریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ نکال لی ، پھر سوچا کہ یہ ...
نوازشریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو ڈاکٹر کی رپورٹ نکال لی ، پھر سوچا کہ یہ کیسی بیماری ہے جو جہاز دیکھتے ہی ٹھیک ہوگئی: عمران خان

  



میانوالی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دل ، گردے، بیماری کے باعث خراب ،شوگر اور پھر پلیٹ لیٹس ہوچکے ہیں، عمران خان کے مطابق جیسے ہی انہوں نے نوازشریف کی جہاز والی تصاویر دیکھیں تو حیران ہوگیااور ڈاکٹر کی رپورٹ دوبارہ نکال کر دیکھی ، جس میں لکھا تھا کہ اتنا برا حال ہے کہ مریض کبھی بھی مر سکتا ہے۔۔انہوں نے کہا پھر انہوں نے سوچا کہ یہ کیسی بیماری ہے جوجہاز دیکھ کر ٹھیک ہوگیا۔شاید لندن کی ہوا لگنے سےوہ ٹھیک گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ نواز شریف کا علاج یہاں ہو ہی نہیں سکتا، رپورٹ میں 15 تو بیماریاں بتائی گئی تھیں۔

میانوالی میں مختلف منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے آپ کیلئے دوکام کرنے ہیں ، پہلا صحت اور دوسرا صاف پانی۔ان منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔اس کے بعد تعلیم کی طر ف آئیں گے۔23سال پہلے میانوالی سے ہی اپنی سیاست کا آغاز کیا ہے۔نمل یونیورسٹی کو آگے بڑھتا دیکھ کر جتنا خوشی ہوتی ہے اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتی۔ لوگوں نے انہیں روکا کہ یہاں یونیورسٹی نہ بناو کوئی پڑھانے نہیں آئے گا،لیکن انہوں نے نہ سنی اور یونیورسٹی بنائی جس کانتیجہ یہ نکلا کہ آج ان کی یونیورسٹی شہر کی بڑی یونیورسٹیوں سے زیادہ پی ایچ ڈی ڈاکٹرزپیداکررہی ہے۔

انہوں نے میانوالی میں ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنانے کابھی اعلان کیااور بتایا کہ اس کیلئے زمین خرید لی گئی ہے اور برطانوی نژاد پاکستانی انیل مسرت کی نگرانی میں اس کی تعمیر یقینی بنائیں گے۔ ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لیکن اب میانوالی کے باشندوں کو علاج کیلئے شہر سے باہر نہیں جانا پڑے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا پہلی بار ایم این اے بنا تو ادراک ہوا کہ یہاں صحت تعلیم اور تھانہ کچہری کے حوالے سے سنگین مسائل تھے۔اور لوگوں کا ایک ہی قسم کا مسئلہ ہوتاتھا۔لوگوں کے مسائل سن کر فیصلہ کیا تھا کہ ایسا نظام بنائیں گے جو کسی ایک شخص کی مرہون منت نہ ہو، عمران خان ہو یا نہ ہو ترقی کا سلسلہ چلتے رہنا چاہئے۔

انہوں نے کہا اب ہم پختونخوا میں بلدیاتی نظام لا رہے ہیں ، نئے نظام کے تحت ہر صوبے میں الگ فنانشل سسٹم متعارف کرائیں گے جس سے ہرصوبہ ، ضلع اور دیہات میں براہ راست فنڈز جائیں گے۔ایسا نہیں ہوگا کہ گاوں کے مسائل کا فیصلہ ضلع کا ناظم کرے گا۔مقامی عہدیدارہی اپنے علاقے کے تمام مسائل کو چیک کرسکیں گے،ہسپتال، تعلیم ،صحت تھانے سمیت سب معاملات نچلی سطح پر چیک کیا جاسکے گا۔اس حوالے سے قانون بن چکا ہے اور جلد ہی الیکشن ہوں گے۔ہر شہر کی سطح پر الگ الگ ناظم ہوں گے جیسے دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے لندن اور نیویارک کے میئرز کی مثالیں بھی دیں۔

انہوں نے کرنٹ اکاونٹ خسارے کی بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تاریخ کا سب سے زیادہ خسارہ ملا۔  جب نون لیگ آئی تو انہیں بجلی میں چار سو ارب کا خسارہ ملا جبکہ وہ ہمیں بارہ سو ارب کا گردشی قرضہ  دے کر گئے اور گیس سیکٹرمیں بھی اربوں کا خسارہ دیاگیا۔ مجموعی طورپر انیس ارب ڈالرز کاکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ وراثت میں ملا جس سے ہمارے روپے کی قدر کم ہوتی گئی۔حالات ایسے ہوگئے تھے کہ ڈالرز تین سو روپے تک جا سکتا تھا لیکن بروقت اقدامات سے بچت ہوگئی۔انہوں نے کہا ماضی کی حکومتوں میں اس ساری صورتحال نے ملک میں مہنگائی پیدا کردی۔

عمران خان نے کہا کہ چارسال میں پہلی بار روپے اور ڈالرز کا بجٹ برابر ہوگیاہے۔ڈالرز کی قلت پر قابو پاکر خسارہ کم کرلیاگیاہے۔ماضی کی حکومتوں کے لئے گئے قرضوں پر واجب سود اداکرنے سے بھی مسائل پیدا ہوئے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے اپوزیشن کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیااور کہا کہ کینٹینرپر کھڑے سیاسی بے روزگار اس لئے وہاں آئے تھے کہ انہیں ڈر ہوگیا تھا کہیں معیشت بہتر ہوگئی تو ان کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔مختلف ذرائع سے ملنے والی رپورٹس سے لگتا ہے کہ وہ لوگ مستقبل میں اپنے کسی جرم پر پکڑے جائیں گے۔اور یہی ڈر انہیں وہاں لے آیا۔یہاں سے پیسہ چراکربیرون ملک لے جایا گیا۔اگر یہ مافیاز رہ گئے تو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔کینٹیر پر کھڑا جھوٹا منڈیلا اور باقی سب دل سے آہیں نکال رہے تھے کہ کسی طرح بس یہ کیسز ختم کردیئے جائیں۔میں ان سے ڈیل کروں تو یہ اس ملک کی سب سے بڑی غداری ہوگی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ شریف خاندان کے بچے آٹھ ارب کے فلیٹ میں رہتے ہیں یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟انہوں نے کہا اسحاق ڈار کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی لیکن اب وہ اربوں کے مالک ہیں ،سوال تو بنتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا۔عمران خان کے مطابق بنی گالہ کی منی ٹریل کے حوالے سے درج ہونے والے مقدمہ میں انہوں نے تقریبا ایک سال تک پیشیاں بھگتیں اور ہر چیز کا حساب دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مدارس کے بچے ہماری ذمہ داری ہیں ان بچوں سے جھوٹ بولا گیا کہ عمران خان اسرائیل کا جھنڈا گاڑنے لگا ہے، مولانا فضل الرحمان کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی یہودی کو سازش کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے قبل عمران خان نے صحت ، تعلیم اور انفراسٹرکچر سمیت آٹھ مختلف منصوبوں کا سنگ بنیادرکھا۔ اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،وزیرصحت یاسمین راشد اور دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی ان کے ساتھ ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم کو تمام منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی اور زچہ بچہ ہسپتال کے خدوخال بتائے گئے۔

مزید : اہم خبریں /قومی