لندن میں نوازشریف کے لیے زکواۃ کا بینر لگانے والا نوجوان نوازشریف کے ہی حق میں آگے آگیا

لندن میں نوازشریف کے لیے زکواۃ کا بینر لگانے والا نوجوان نوازشریف کے ہی حق ...
لندن میں نوازشریف کے لیے زکواۃ کا بینر لگانے والا نوجوان نوازشریف کے ہی حق میں آگے آگیا

  



لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نوازشریف علاج معالجے کے سلسلے میں برطانیہ میں موجود ہیں اور ان کے لیے مبینہ طورپر چندہ جمع کرنے کی اپیل پر مبنی ایک پوسٹر لگایاگیا جو سوشل میڈیا پر وائرل کیاگیا تاہم اب وہ پوسٹر لگانے والا شخص ہی نوازشریف کے حق میں میدا ن میں آگیا اور ان کے برطانیہ آنے پر مٹھائی بھی بانٹ دی ۔

مسلم لیگ ن کے ہی ایک کارکن نے اس پوسٹرز کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ علاقے کا دورہ کیا جس کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ۔ ویڈیوز میں نوجوان نے بتایا کہ میں لندن کے اس بازار میں موجود ہیں جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ یہاں کوئی نوازشریف کے لیے تضحیک آمیز پوسٹر لگائے گئے ہیں جن میں زکواة جیسے اسلامی شعائر کا ذکر کیا گیا جو اسلام کا بنیادی رکن ہے ، اس کی تضحیک کی گئی ، محض ایک دکان کے علاوہ پورے بازار میں کوئی پوسٹر نہیں ، اس بازار میں تقریباً دوہزار دکانہوگی ، برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کے علاوہ کہیں پوسٹر نہیں لیکن وہاں سے بھی ہٹادیاگیا۔ دکاندار نے نوجوان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کوئی زکواة نہیں اکٹھی کررہے ،ویسے کسی نے مذاق کے طورپر لگادیااور ویڈیو بنالی ۔

کسی کا نام استعمال کرنے اور مجرمانہ اقدام کے سوال پر دکاندار نے بتایا کہ ہمیں لگانے والے کا معلوم نہیں ہوا، ہم دکان کے اندر تھے ، ہم نے نوازشریف کے لیے مٹھائی بانٹی ہے ، ہم نے وہ پوسٹر لگاتے کسی کو دیکھا نہیں، میں نے خود ہی وہ پوسٹر پھاڑا ہے اور پھٹا ہوا پڑا ہوگا۔ دکاندار نے ویڈیو بنانے والے شخص کو بھی مٹھائی پیش کی ۔ ویڈیو دیکھئے

یادرہے کہ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز نے دعویٰ کیا تھاکہ لندن میں نواز شریف کے علاج کیلئے چندے کی اپیل پر مبنی پوسٹرز آویزاں کردیے گئے ہیں اور کہا تھا کہ چندے کی اپیل کے پوسٹرز ایسٹ لندن کی دکانوں پر لگائے گئے ہیں جن پر لکھا گیا ہے کہ قومی ہیرو کیلئے صدقہ زکوٰة جمع کرائیں۔ ایسٹ لندن کے علاقے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف منگل کو قطر کے شاہی خاندان کے خصوصی ایئر ایمبولینس میں لندن پہنچے تھے جہاں بدھ کے روز ان کے گائیز اینڈ تھامس ہسپتال میں مختلف ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ