وہ وقت دورنہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی کہتےپھریں گے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کنفیوژن کے شکارعمران خان نےقوم کو بھی پریشان کررکھاہے:سراج الحق

وہ وقت دورنہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی کہتےپھریں گے ’’مجھے کیوں ...
وہ وقت دورنہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی کہتےپھریں گے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘کنفیوژن کے شکارعمران خان نےقوم کو بھی پریشان کررکھاہے:سراج الحق

  



ڈیرہ غازی خان(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہےکہ پنڈی والوں کےساتھ حکومت کےعشق ومحبت کارومانٹک دورگزرچکا،اب مصنوعی مسکراہٹوں اورجذباتی تقاریرکی مارکیٹ نہیں رہی،حکمرانوں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے اِن کو لانےوالوں کاامیج بھی متاثرہوا ہے،کنفیوژن کے شکارعمران خان نےقوم کوبھی پریشان کررکھاہے،حکمران ٹرمپ سےرابطےکررہےہیں مگراَب امریکہ بھی اِنہیں بچانہیں سکےگا،کشمیر سے بے وفائی کرنے والوں کا انجام دنیا جانتی ہے،اگر حکمرانوں نے خاموشی نہ توڑی اورکشمیرپرجلد کسی لائحہ عمل کااعلان نہ کیاتو وہ وقت دورنہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی کہتےپھریں گےکہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘حکمرانوں کی ناکامیاں بتا رہی ہیں کہ ان کا مستقبل بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھپت ہے،دنیا کا واحد وزیر اعظم ہے جو ہر بیرونی دورے پر عالمی میڈیاکےسامنےکہتاہےکہ میری قوم کرپٹ ہے،ملک پرخالی کھوپڑی والے حکمران مسلط ہیں،اِن حکمرانوں نے15ماہ میں ایک سوپندرہ یوٹرن لئے،ملک پر عملاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی حکمرانی ہے،خزانے اور سٹیٹ بنک کی چابیاں آئی ایم ایف کے ملازموں کو دے دی گئی ہیں اورعوام کومہنگائی اوربےروز گاری کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے،قوم اپنی بہادر افواج کی طرف دیکھ رہی ہے ،اِن کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ہےکہ کشمیر کےحوالے سے اُن کا کیا لائحہ عمل اور روڈ میپ ہے؟وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے،کشمیر پربھارت اپنے قبضہ کومضبوط کررہا ہے اگرجلدکوئی فیصلہ نہ کیاگیاتو آنے والی نسلوں کو پچھتانا پڑے گا، اگر کشمیر کی تحریک آزادی ناکام ہوئی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا،حکومت کشمیرپرہونےوالےلاہور،شملہ اورتاشقند معاہدوں کو فوری ختم کرنے کا اعلان کرے،بھارت نے ان معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بلڈوز کرتے ہوئے کشمیرکو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔

ان خیالات کا اظہا رانہوں ڈیرہ غازی خان میں کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کشمیر مارچ سے صوبہ جنوبی پنجاب کے امیر راؤ محمد ظفر اور شیخ عثمان فاروق نے بھی خطاب کیا،بارش اور شدیدسردی کےباوجودکشمیرمارچ میں ہزاروں لوگوں نےشرکت کی،کشمیر مارچ میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعدادمیں شریک تھے ۔

سینیٹرسراج الحق نےکہاکہ وزیر اعظم خودبھی کنفیوژن کاشکار ہیں اورقوم کوبھی پریشان کررکھاہے،حکمرانوں کی خاموشی بتارہی ہے کہ وہ کشمیرکاسودا کرچکے ہیں اور اَب مسئلہ کشمیر کو دفنانا چاہتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے محض زمین کا نہیں ضمیر ،عقیدے اور نظریے کا مسئلہ ہے،کشمیر پاکستان کی بقا،سلامتی اورتحفظ کا مسئلہ ہے،اس لئے یہ صرف پاکستانیوں کانہیں اُمت اور عالم اسلام کامسئلہ ہے،اگر حکمرانوں نے قوم کواعتماد میں لیکرجلد کوئی فیصلہ نہ کیاتوعوام اِن حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑ کرایوانوں سےباہر نکالے گی۔اُنہوں نے کہاکہ اسلام آباد کےسنگ مرمر کے قبرستان میں بیٹھے حکمران اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہیں اور اقتدا رکو ذاتی مفادات کیلئےاستعمال کیا جارہا ہے،حکمران صبح و شام قوم کوبھارت کی قوت سےڈرارہے ہیں،اِن بزدلوں کو پتا نہیں کہ سوویت یونین بھارت سے کہیں زیادہ طاقتور تھامگر نہتے افغانوں نے اِس کا غرور خاک میں ملایا اور آج وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے،افغانستان نیٹو کے تکبر کا بھی قبرستان بنا،بھارت کا تکبر بھی بہت جلد خاک میں ملنے والا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا 

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے قوم سے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہر روز قوم کو ایک نیا فریب دیا اور سبز باغ دکھایا جاتا ہے،حکمرانوں نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگا یالیکن اس کامذاق اُڑایااور قوم کودھوکہ دیا،اگرحکمران کچھ کرنہیں سکتےتھےتو مدینہ جیسی اسلامی ریاست کانام لیکرقوم کودھوکہ دینے کی کیاضرورت تھی؟۔اُنہوں نے کہاکہ خلا میں رہنے والےوزراعوام کی مشکلات اورپر یشانیوں سےبےبہرہ ہیں،یہ راتوں کو جاگنےاوردن کو سونےوالےلوگ ہیں،عوام اُنہیں ڈھونڈتےپھرتےہیں مگرصبح کویہ کہیں نظرنہیں آتے ۔اُنہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی مشکلات کا حل اسلامی انقلاب اور نظام مصطفی ﷺکا نفاذ ہے،قوم نے سب کو ایک بار نہیں کئی بار آزما کر دیکھ لیا ہے۔

مزید : قومی