منشیات کے کاروبار میں ملوث کوئی شخص قانونی گرفت سے نہیں بچے گا:شہریار آفریدی

منشیات کے کاروبار میں ملوث کوئی شخص قانونی گرفت سے نہیں بچے گا:شہریار آفریدی
منشیات کے کاروبار میں ملوث کوئی شخص قانونی گرفت سے نہیں بچے گا:شہریار آفریدی

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر نارکورٹکس و سیفران شہریار آفریدی نےکہا ہےکہ جس نے جرم کیا ہے اِسے اُس کے کیے کی سزا مل کر رہے گی، قانون سے کوئی بالاتر نہیں،منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث کسی بھی شخص کو سزا وزیراعظم،وزیرنارکوٹکس یا نارکوٹکس حکام نے نہیں عدالتوں نے دینی ہے، منشیات نوجوان نسل کو تباہ کررہی ہے۔

منہاج یونیورسٹی لاہور میں ”ڈرگ فری سوسائٹی“کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ وزارت نارکوٹکس بہت جلد ”زندگی“کے نام سے ایک ایپ جاری کررہی ہے جس میں منشیات سے بچاؤ،منشیات کی روک تھام اور اس غلیظ کاروبار میں ملوث مجرموں کی کڑی گرفت کیلئے رہنمائی میسر ہو گی۔اُنہوں نے کہا کہ نوجوان ملک و قوم کا مستقبل ہیں،ان کی صحت، اخلاق اور کردار کی حفاظت ریاست،والدین،اساتذہ،دوست احباب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اسلام فرد کی اخلاقی تعلیم و تربیت پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے مگر پاکستان دنیا کا وہ نمبر ون ملک ہے جس میں اخلاق باختہ ویب سائٹس سب سے زیادہ وزٹ کی جاتی ہیں، یہ ایک المیہ اور ہم سب کے لیے بڑا چیلنج ہے۔شہر یار آفریدی نے کہا کہ  مجرموں کے خلاف سوسائٹی میں موجود ہمدردانہ رویوں کو ختم کرنے کے لیے بھی بیداری شعورمہم چلانے کی ضرورت ہے،فیصل آباد میں ایک ایس پی نے مجھے بتایا کہ ایک منشیات فروش کو پکڑنے گئے تو خواتین نے سخت مزاحمت اور ان کے ہاتھ باندھنے نہیں دئیے حالانکہ یہ سارا کام عوام کے مفاد میں تھا، یورپ میں اس طرح نہیں ہوتا۔

اس موقع پر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ نوجوان نسل کو منشیات کے استعمال کا بڑا چیلنج لاحق ہے، اس کے لیے تمام ریاستی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،پیمرا اور سنسر بورڈ والے فلموں، ڈراموں میں منشیات کے استعمال کے سین حذف کروائیں، تمام اداروں کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ منہاج یونیورسٹی امن، رواداری،بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کررہی ہے، انہوں نے وفاقی وزیر اور اینٹی نارکوٹکس حکام کو منشیات کے خاتمے کی جدوجہد میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ جب تک اداروں کی ساکھ بہتر نہیں ہو گی عوام کا تعاون میسر نہیں آئے گا، پولیس سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال جیسے واقعات کرے گی تو عوام ساتھ نہیں دیں گے،جواب دہی کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا، جرم کرنے والے کو چاہے وہ کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہو جب اسے پوری سزا ملے گی تو عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور